۷؍ جون، جو آج ہے، کے بارے میں مشہور ہے کہ اس دن سے موسم باراں شروع ہوتا ہے۔ اب سے پہلے کے بچے اسکول کھلنے کے بعد زباندانی کے گھنٹے میں موسم برسات پر مضمون لکھتے تو ۷؍ جون کا ذکر ہر طالب علم کی بیاض میں ہوتا تھا۔
۷؍ جون، جو آج ہے، کے بارے میں مشہور ہے کہ اس دن سے موسم باراں شروع ہوتا ہے۔ اب سے پہلے کے بچے اسکول کھلنے کے بعد زباندانی کے گھنٹے میں موسم برسات پر مضمون لکھتے تو ۷؍ جون کا ذکر ہر طالب علم کی بیاض میں ہوتا تھا۔ اسے لازمی جزو کی حیثیت حاصل تھی۔ اب ۷؍ جون کی وہ اہمیت نہیں رہ گئی ہے کیونکہ اب برسات اس ’’ڈیڈ لائن‘‘ کو فالو نہیں کرتی، اس کا اپنا موڈ ہے، جب آنا ہوتا ہے آتی ہے اور جتنا برسنا ہوتا ہے برستی ہے۔ جب سے اس نے ۷؍ جون کی ڈیڈ لائن کی پاسداری ختم کی ہے تب سے محکمۂ موسمیات کو خوب چکر دینا شروع کردیا ہے۔ اپنی آمد کی کبھی کوئی تاریخ بتاتی ہے اور کبھی کوئی۔ بے چارہ محکمہ، جس پر عوام بھروسہ کرنا چاہتے ہیں ، اس بھروسے کو قائم نہیں رکھ پاتا اور بار بار تاریخ بدلتا ہے۔ اب اس نے نیا طریقہ شروع کردیا ہے کہ برسات کب شروع ہوگی یہ نہیں بتاتا بلکہ ا س کی سمت اور رفتار کا تجزیہ پیش کرتا ہے۔ بہرحال ۷؍ جون کا دن تو گزر ہی جاتا ہے خواہ آرزو میں گزرے یا انتظار میں ۔
۷؍ جون سے اب اسکول بھی نہیں کھلتے۔ ایک زمانہ تھا جب تمام اسکول ایک ہی ساتھ کھلتے تھے۔ تب لگتا تھا کہ اسکول کھلے ہیں ۔ عید کا دن ہو اور عید جیسا نہ لگے تو آپ پر کیا تاثر قائم ہوگا؟ ایسا ہی اسکول کے کھلنے کا معاملہ بھی ہے۔ اسکول کھل جائیں اور پتہ نہ چلے تو کھلنے نہ کھلنے میں کیا فرق رہ جائیگا؟ یہ بات اس لئے کہی جارہی ہے کہ اب الگ الگ اسکول الگ الگ تاریخوں پر کھلتے ہیں اس لئے لگتا ہی نہیں کہ اسکول کھلے ہیں ۔ سابقہ ادوار کے طالب علموں کے ذہنوں میں اسکول کھلنے اور نئی کتابوں بیاضوں کے صفحات مہکنے میں آج بھی بڑی مطابقت ہے۔ وہ دور تھا جب نئی کتابیں اور بیاضیں کھولی جاتیں تو اُن میں سے کاغذ کی نہایت عمدہ خوشبو فضا میں بکھرتی تھی۔ آج بھی کسی نئی کتاب کے صفحے سے خوشبو آجائے تو وہی دور یاد آنے لگتا ہے۔
بہرکیف یہاں مقصد انشائیہ نگاری نہیں بلکہ مذکورہ تمہید سے فائدہ اُٹھا کر یاد دلانا ہے کہ عنقریب اسکول کھلیں گے جس کیلئے والدین کو تیار ہوجانا چاہئے۔ ہم نہیں جانتے کہ کتنے والدین نے اسکولوں کے دوبارہ کھلنے کے تعلق سے گھر کے بچوں کی ذہن سازی کی ہے۔ ذہن سازی اس لئے ضروری ہے کہ پہلے ہی دن پڑھائی لکھائی کے بارے میں کیا گیا عزم طلبہ کو سال بھر فائدہ پہنچاتا ہے۔ والدین پر یہ بھی لازم ہے کہ بچوں کو اسکول کی اہمیت سے واقف کرائیں اور یہ بتائیں کہ اسکول میں گزرنے والا وقت کتنا قیمتی ہوتا ہے اور آئندہ زندگی میں کتنا یاد آتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ بعض طلبہ اسکول میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرپاتے۔ اُن کے جوہر آئندہ برسوں میں کھلتے ہیں اور وہ کامیابی کی منازل طے کرتے ہیں مگر اکثر طلبہ کے مستقبل کے خدو خال کا تعین اسکول کے دور ہی میں ہوجاتا ہے۔ اگر والدین اس نکتے کو سمجھ کر بچوں کا ذہن بنائیں اور اس موقع سے فائدہ اُٹھا کر اُنہیں اسکول کی اہمیت سے واقف کرائیں تو یہ اُن کے حق میں کافی مفید ہوگا۔ بلاشبہ پڑھانا اساتذہ کو ہے جو سال بھر یہ خدمت انجام دینگے مگر پڑھانے کے علاوہ بچوں کیلئے جو بھی ضروری ہے وہ والدین کا فرض ہے۔ والدین کو اس غلط نظریہ سے باہر آجانا چاہئے کہ تعلیم یعنی اساتذہ۔ سب کچھ اساتذہ پر نہیں ڈالا جاسکتا۔ بچوں کی نفسیات، اُن کے مزاج اور اُن کی عادات و اطوار سے والدین واقف ہوتے ہیں ۔ اساتذہ نہ صرف یہ کہ واقف نہیں ہوتے بلکہ اُن کے سامنے ایک کلاس میں پینتیس چالیس یا اس سے زیادہ طلبہ ہوتے ہیں ۔ وہ کس کس کے ساتھ انصاف کرپائینگے؟