امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے منگل کے دن بیان دیا کہ امریکہ کو ایران کے ساتھ مذاکرات کیلئے ملاقات میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ امریکی افواج یورینیم کی افزودگی کے اہم مقامات کے قریب ایرانی علاقوں کو نشانہ بنا سکتی ہیں۔
EPAPER
Updated: July 22, 2026, 7:03 PM IST | Washington/Tehran
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے منگل کے دن بیان دیا کہ امریکہ کو ایران کے ساتھ مذاکرات کیلئے ملاقات میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ امریکی افواج یورینیم کی افزودگی کے اہم مقامات کے قریب ایرانی علاقوں کو نشانہ بنا سکتی ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق، امریکی فوج نے مسلسل گیارہویں رات بھی ایران پر حملے کئے اور طیاروں کے ہینگرز اور ڈرون اسٹوریج کے مقامات کو نشانہ بنایا۔ اس دوران، جنگ بندی معاہدے کی بحالی کیلئے پاکستان کی قیادت میں سفارتی کوششیں کسی واضح پیش رفت کے بغیر جاری ہیں۔ دوسری طرف صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف حملوں میں مزید شدت لانے کا اشارہ دیا ہے۔
ٹرمپ کی ’پکیکس ماؤنٹین‘ جوہری تنصیب پر حملے کی دھمکی
ایک حالیہ بیان میں صدر ٹرمپ نے نطنز کے قریب واقع ایران کی انتہائی محفوظ زیرِ زمین جوہری تنصیب ’کوہِ کلنگ گزلا‘ (پکیکس ماؤنٹین) پر بمباری کرنے کی دھمکی دی ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ”ہم بہت جلد... انتہائی شدت کے ساتھ اس علاقے کو نشانہ بنا رہے ہوں گے۔“
ٹرمپ کے اس بیان پر ایران کی ملٹری کمانڈ نے سخت ردعمل ظاہر کیا اور خبردار کیا کہ اس طرح کے حملے کا نتیجہ ”خطے میں جنگ کے دھماکے“ کی صورت میں نکلے گا۔ واضح رہے کہ زمین سے ۱۰۰ میٹر نیچے زیرِ زمین واقع یہ جوہری تنصیب، تباہ شدہ سینٹری فیوج پلانٹ کے متبادل کے طور پر بنائی گئی تھی۔ ۲۰۲۵ء میں نطنز، فردو اور اصفہان پر ہونے والے حملوں کے بعد سے اس میں مزید توسیع کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران نے باقاعدہ جنگ کا اعلان کردیا، حملوں میں شدت، امریکی اڈے دہل گئے
امریکی جانی نقصان میں اضافہ، جنگ کے اخراجات ۳۸ ارب ڈالر کے قریب پہنچ گئے
سی بی ایس نیوز کے مطابق، پینٹاگون نے دوبارہ جنگ شروع ہونے کے بعد چوتھے امریکی فوجی اہلکار کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے، جس کے بعد ایران جنگ میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی کل تعداد ۱۸ تک پہنچ گئی ہے۔ جانی نقصان کے علاوہ امریکہ کے جنگی اخراجات بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔
الجزیرہ اور این ڈی ٹی وی کی رپورٹس کے مطابق، منگل کو امریکی سینٹ کی ایپروپری ایشنز کمیٹی کے سامنے گواہی دیتے ہوئے وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے بتایا کہ ایران کے خلاف جنگ پر امریکہ کو اب تک تقریباً ۵ء۳۷ ارب ڈالر کے اخراجات آئے ہیں، جو مئی کے وسط میں لگائے گئے ۲۹ ارب ڈالر کے پہلے تخمینے سے زیادہ ہیں۔ فوج کی مدد کیلئے ریپبلکنز کی جانب سے ۹۵ ارب ڈالر کے بجٹ پیکج کی پیش رفت کے دوران ہیگسیتھ کو فنڈنگ کے حوالے سے سینیٹرز کے سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔
آبنائے ہرمز تنازع کا مرکز بنی ہوئی ہے
امریکہ اور ایران جنگ کے درمیان آبنائے ہرمز مسلسل سرخیوں میں ہے۔ منیلا میں آسیان (ASEAN) کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے دوران امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے آبنائے میں تجارتی جہازوں پر ایران کے حملوں کو ”ناقابلِ قبول“ قرار دیا اور کہا کہ امریکہ بین الاقوامی جہاز رانی کی ’حفاظت کرنا‘ جاری رکھے گا۔ روبیو نے خبردار کیا کہ ایران کو اس آبی گزرگاہ کو کنٹرول کرنے اور ٹول ٹیکس وصول کرنے کی اجازت دینا ’خطرناک مثال‘ قائم کرے گا جسے دنیا میں کہیں بھی دہرایا جا سکتا ہے۔
بحری انٹیلیجنس کمپنی ’کیپلر‘ (Kpler) کے مطابق، آبی گزرگاہ سے بحری جہازوں کے گزرنے کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے۔ یہاں سے ۲۰ جولائی کو صرف ۱۳ اور ۲۱ جولائی کو صرف ۹ جہاز ہی گزر پائے۔
یہ بھی پڑھئے: فرانس: یورپی یونین سے مقبوضہ مغربی کنارے سے مصنوعات کی درآمد بند کرنے کا مطالبہ
ایران کے خلیجی ممالک پر حملے
ایران نے خطے بھر میں اپنی جوابی کارروائیوں کو وسیع کر دیا ہے۔ ایرانی فوج نے مغربی کویت میں کیمپ ڈوہا میں امریکی فوج کے گولہ بارود اور لاجسٹک مقامات پر ڈرون حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ کویت نے اس سے قبل کہا تھا کہ ایرانی حملوں نے مسلسل چوتھے روز بجلی اور پانی کو نمک سے پاک کرنے کی تنصیبات کو نشانہ بنایا، ان حملوں کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی جسے کنٹرول کرنے کیلئے ایمرجنسی عملے کو طلب کرنا پڑا۔ کویت کی وزارتِ خارجہ نے آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے کویتی ٹینکر کیفان پر حملے میں عملے کے کئی ارکان کے زخمی ہونے کے بعد ایرانی سفیر کو بھی طلب کیا۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی کارکنوں کا جیل میں قید فلسطینی ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کی رہائی کا مطالبہ
لڑائی کے باوجود سفارت کاری کی کوششیں جاری
اسلام آباد، امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کو ختم کرنے کیلئے ثالثی کی کوششوں میں مصروف ہے۔ ایرانی وزیرِ داخلہ اسکندر مومنی نے رواں ہفتے پاکستان کا سفر کیا جہاں انہوں نے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسیز فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی۔ تاہم، ٹرمپ نے منگل کے دن بیان دیا کہ امریکہ کو ایران کے ساتھ مذاکرات کیلئے ملاقات میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ امریکی افواج یورینیم کی افزودگی کے اہم مقامات کے قریب ایرانی علاقوں کو نشانہ بنا سکتی ہیں۔