Inquilab Logo Happiest Places to Work

ترنمول کو ہرا کر بھی دل نہیں بھرا؟

Updated: June 01, 2026, 2:32 PM IST | Inquilab News Network | mumbai

مغربی بنگال میں دو دنوں میں ٹی ایم سی لیڈروں پر دو بڑے حملے، جن کا الزام بی جے پی کارکنان پر ، یہ ثابت کرتا ہے کہ ممتا سرکار لاکھ’’بری‘‘ سہی، اس کے دور میں اراکین پارلیمان پر تو حملے نہیں ہوتے تھے۔ سنیچر کو ابھیشیک بنرجی پر سونارپور، ۲۴؍ پرگنہ ضلع میں اس وقت حملہ ہوا جب وہ انتخابات کے بعد رونما ہوئے تشدد کے متوفی ٹی ایم سی کارکن کے اہل خانہ کو پرسہ دینے گئے تھے۔

INN
آئی این این
مغربی بنگال میں  دو دنوں  میں  ٹی ایم سی لیڈروں  پر دو بڑے حملے، جن کا الزام بی جے پی کارکنان پر ، یہ ثابت کرتا ہے کہ ممتا سرکار لاکھ’’بری‘‘ سہی، اس کے دور میں  اراکین پارلیمان پر تو حملے نہیں  ہوتے تھے۔ سنیچر کو ابھیشیک بنرجی پر سونارپور، ۲۴؍ پرگنہ ضلع میں  اس وقت حملہ ہوا جب وہ انتخابات کے بعد رونما ہوئے تشدد کے متوفی ٹی ایم سی کارکن کے اہل خانہ کو پرسہ دینے گئے تھے۔ کل، اتوار کو ہگلی کے چاندی تالا علاقے میں  کلیان بنرجی پر بھی حملہ ہوا جب وہ پارٹی کارکنان کی گرفتاریوں  کے خلاف میمورینڈم دینے کے مقصد سے مقامی پولیس اسٹیشن جا رہے تھے۔ دونوں  ہی حملوں  میں  بھیڑ امڈی جس نے ’’چور چور‘‘ کے نعرے لگائے اور حملہ کیا۔ ابھیشیک بنرجی بھلے ہی نوجوان ہیں  مگر کلیان بنرجی معمر ہیں ۔ حملہ کسی پر نہیں  ہونا چاہئے مگر جب کسی عمر رسیدہ شخص پر کیا جاتا ہے تو اس کی سنگینی دوگنا ہو جاتی ہے۔ کلیان بنرجی لگ بھگ ۷۰؍ سال کے ہیں ۔ بھیڑ میں  شامل نوجوان چونکہ ایک خاص مقصد سے حملہ آور تھے اس لئے بھول گئے کہ کلیان بنرجی ان کے آدرنیہ پتا سے بھی بڑے ہیں  اور اس لحاظ سے زیادہ آدرنیہ ہیں ۔
کیا یہ سب اس لئے ہو رہا ہے تاکہ الیکشن کے نتائج ظاہر ہو جانے کے بعد بھی اس تاثر کو کمزور نہ ہونے دیا جائے کہ عوام ٹی ایم سی کے دور حکومت سے سخت ناراض تھے اور پارٹی کو ہرانے کے باوجود ان کا غصہ کم نہیں  ہوا ہے؟ لگتا تو یہی ہے۔ جو غصہ بی جے پی کے مبینہ کارکنان میں  دکھائی دے رہا ہے، وہ عوامی کم اور سیاسی زیادہ ہے۔ ادھر بارہ تیرہ برس میں  سیاست نے نہایت جارح رخ اختیار کرلیا ہے۔ کسی پارٹی کو ہرا کر اطمینان نہیں  کرلیا جاتا بلکہ کوشش کی جاتی ہے کہ وہ اس حد تک بے دم ہو جائے کہ دوبارہ سرگرم ہوکر سیاسی بساط پلٹنے کی جرأت نہ کرے۔
ٹی ایم سی کے لیڈروں  کے خلاف بھیڑ کا امڈنا اس بات کا بھی اشارہ ہوسکتا ہے کہ پارٹی کے ایم پی اور ایم ایل ایز اپنے سیاسی مستقبل کے بارے میں  نئے سرے سے غور کریں  اور اگر ای ڈی بھیجے بغیر وفاداری بدل سکتے ہوں  تو بدل لیں ۔ وزیر اعلیٰ شوبندھو ادھیکاری خود ٹی ایم سی کا حصہ اور ممتا بنرجی کے قریبی رہ چکے ہیں  مگر اس بار بھی اور اس سے قبل بھی ممتا بنرجی کے خلاف الیکشن لڑ کر انہوں  نے کچھ ثابت کرنا چاہا تھا۔ یہ ثابت کردینے کے عوض کہ بنگال میں  ان سے بڑا ٹی ایم سی مخالف کوئی نہیں  ہے، انہیں  انعام مل چکا ہے مگر یہ ایسا دور ہے جس میں  وفاداری ایک بار نہیں  بار بار ثابت کرنی پڑتی ہے۔ شاید شوبھندو ادھیکاری وہی کررہے ہیں ۔
ہم یہ دعویٰ نہیں  کرسکتے کہ سیاسی اشاروں  کی زبان سمجھتے ہیں  مگر اتنا تو کہہ ہی سکتے ہیں  کہ بعض سیاسی اشاروں  میں  ’’خود وضاحتی عنصر‘‘ ہوتا ہے۔ دو دن میں  ٹی ایم سی کے دو اراکین پارلیمان پر حملہ یہ واضح کرتا ہے کہ ٹی ایم سی کے خلاف بی جے پی کی لڑائی ابھی ختم نہیں  ہوئی ہے جبکہ اس الیکشن میں  ٹی ایم سی کی سیاسی طاقت آدھی سے بھی کم ہوگئی ہے۔ نہ صرف اقتدار چھن گیا بلکہ اسمبلی میں  اس کے اراکین کی تعداد بھی، جو دو سو سے زیادہ تھی، اسّی پر آگئی۔ اب اگر ان اراکین میں  سے بھی دس بیس ایسے نکل آئے جنہیں  ’’تحفظ‘‘ درکار ہو تو ٹی ایم سی کی طاقت مزید گھٹ جائیگی۔ ممتا لڑنے کا ہنر جانتی ہیں  بلکہ یہ کہیں  کہ مخالف حالات میں  ان کی سیاست کا تیور ہی کچھ اور ہوتا ہے تو غلط نہ ہوگا مگر اب ان کی صحت ویسی نہیں  ہے جیسی ’’سڑک کی راج نیتی‘‘ کیلئے ضروری ہوتی ہے اس لئے ممتا کو مخالف حالات سے لڑنے کی خصوصیت اپنے بہت اعتماد کے لوگوں  میں  پیدا کرنی ہوگی تبھی ان کی پارٹی اور ان کی وراثت بچ پائے گی۔ 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK