Updated: July 16, 2026, 7:04 PM IST
| Raipur
چھتیس گڑھ کے رائے پور ضلع کنزیومر ڈسپیوٹ ریڈریسل کمیشن نے پیٹرول میں ۲۰؍ فیصد ایتھنول کی آمیزش (ای۲۰) سے پیدا ہونے والی تکنیکی خرابی کے معاملے میں ماروتی سوزوکی انڈیا لمیٹڈ اور اس کے آتھورائزڈ ڈیلر نویرا مینٹینو اسکائی آٹو موبائلز کو سروس میں کمی اور غیر منصفانہ تجارتی رویے کا قصوروار ٹھہراتے ہوئے صارف کے حق میں ایک اہم فیصلہ سنایا ہے۔
ای ۲۰؍پیٹرول۔ تصویر:آئی این این
چھتیس گڑھ کے رائے پور ضلع کنزیومر ڈسپیوٹ ریڈریسل کمیشن نے پیٹرول میں ۲۰؍ فیصد ایتھنول کی آمیزش (ای۲۰) سے پیدا ہونے والی تکنیکی خرابی کے معاملے میں ماروتی سوزوکی انڈیا لمیٹڈ اور اس کے آتھورائزڈ ڈیلر نویرا مینٹینو اسکائی آٹو موبائلز کو سروس میں کمی اور غیر منصفانہ تجارتی رویے کا قصوروار ٹھہراتے ہوئے صارف کے حق میں ایک اہم فیصلہ سنایا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:میسی نے کبھی سوچا نہیں تھا کہ جس بچے کو انہوں نے نہلایا ،وہ فائنل میں ان کا مقابلہ کریگا
صارفین کی عدالت سے اس حکم کی کاپی جمعرات کو موصول ہوئی ہے۔ کمیشن نے کمپنی کو ہدایت دی ہے کہ وہ ۴۵؍ دنوں کے اندر صارف کو اسی ماڈل کی نئی ای۲۰؍ کے موافق کار فراہم کرے یا پھر گاڑی کی قیمت، انشورنس اور آر ٹی او سمیت ک۲۰۵۰۲۸۸؍ روپے واپس کرے۔ اس کے ساتھ ہی ذہنی اذیت کے ازالے کے طور پر ایک لاکھ روپے، عدالتی اخراجات کے لیے۱۰؍ ہزار روپے اور ادائیگی تک ۷؍ فیصد سالانہ سود دینے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔ یہ حکم کنزیومر فورم کے چیئرمین پرشانت کنڈو اور ممبر ڈاکٹر آنند ورگیس کے بنچ نے دیا ہے۔
کمیشن کے سامنے پیش کی جانے والی دستاویزات کے مطابق، رائے پور کے رہائشی ڈاکٹر پرمود دیوڑا نے ۳؍ جون ۲۰۲۴ء کو ماروتی گرینڈ ویٹارا اسٹرانگ ہائبرڈ زیٹا پلس ۵ء۱؍ سی وی ٹی کار۲۹ء۱۸؍ لاکھ روپے میں خریدی تھی۔ انشورنس اور آر ٹی او سمیت گاڑی پر کل ۲۰۵۰۲۸۸؍ روپے خرچ ہوئے تھے۔ کار وارنٹی کی مدت کے اندر تھی، لیکن تقریباً۲۱۹۱۳؍ کلومیٹر چلنے کے بعد۱۱؍ نومبر۲۰۲۴ء کو انجن میں خرابی کا پتہ چلنے پر کار چلانا بند کر دی گئی۔
شکایت کنندہ کے مطابق گاڑی کو کئی بار مجاز ورکشاپ لے جایا گیا۔ پہلی بار پیٹرول ٹینک خالی کر کے صاف کیا گیا اور نیا پیٹرول ڈال کر گاڑی واپس کر دی گئی، لیکن کچھ فاصلہ طے کرنے کے بعد انجن دوبارہ بند ہو گیا۔ دوسری بار کمپنی نے اعتراف کیا کہ ٹینک پوری طرح صاف نہیں ہوا تھا اور کیمیکل ملا ایندھن باقی رہ گیا تھا۔ تیسری بار بھی فیول ٹینک، پائپ لائن اور فلٹر میں سفید تہہ اور مائع پایا گیا۔ چوتھی بار کار کے انجن میں خرابی آنے پر اس نے ای وی موڈ پر چلنا بند کر دیا جبکہ پانچویں بار انجن مکمل طور پر ناکارہ ہو گیا۔
کمیشن کے حکم میں ذکر کیا گیا ہے کہ پیٹرول کے نمونے کی جانچ ایک آزاد اور سرکاری طور پر منظور شدہ ایس جی ایس لیباریٹری سے کرائی گئی۔ رپورٹ میں دیکھا گیا کہ پیٹرول میں ایتھنول کی موجودگی کی تصدیق ہوئی اور نیچے کے حصے میں سفید تہہ کی شکل میں ایتھنول الگ پایا گیا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایندھن ای۲۰؍ زمرے کا ہی تھا، لیکن سفید تہہ بننے کی وجہ سے موثر ایتھنول کی مقدار صرف چھ سے سات فیصد رہ گئی تھی۔
کمیشن نے اپنے فیصلے میں کہا کہ گاڑی بنانے والی کمپنی (مینوفیکچرر) یہ جانتے ہوئے بھی کہ مرکزی حکومت کی طرف سے پیٹرول میں ایتھنول کی آمیزش کی مقدار ۲۰؍ فیصد تک بڑھائی جا چکی ہے اور ملک بھر میں ای۲۰؍ پیٹرول فراہم کیا جا رہا ہے، صارف کو ایسی گاڑی بیچ دی جس کا انجن ای۲۰؍ ایندھن کے موافق نہیں تھا۔ فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ گاڑی بیچتے وقت صارف کو یہ نہیں بتایا گیا کہ متعلقہ ماڈل ۲۰؍ فیصد ایتھنول ملے پیٹرول پر چلنے کے لیے موزوں نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ورلڈ کپ سیمی فائنل میں انگلینڈ کے خلاف ارجنٹائنا کے ۱۲؍ فاؤلز، ریفری پر جانبداری کے الزامات
کمیشن نے مانا کہ صرف ایندھن کے معیار کا دلیل دینا کافی نہیں ہے۔ مینوفیکچرر یہ واضح نہیں کر سکا کہ گاڑی میں آنے والی خرابی صرف ایندھن کی وجہ سے تھی یا گاڑی کی تکنیکی ساخت کی وجہ سے۔ کمیشن نے یہ بھی تسلیم کیا کہ گاڑی بار بار خراب ہونے کی وجہ سے صارف کو مسلسل ورکشاپ جانا پڑا اور ان کے میڈیکل پروفیشن سے وابستہ کاموں میں بھی رکاوٹ آئی، جس سے انہیں مالی نقصان اور ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔ سماعت کے دوران کمپنی نے دلیل دی کہ کار میں کسی قسم کا مینوفیکچرنگ ڈیفیکٹ نہیں تھا اور مسئلہ ملاوٹ شدہ یا غیر معیاری پٹرول کی وجہ سے پیدا ہوا تھا۔ کمپنی نے یہ بھی کہا کہ گاڑی کی وارنٹی کے تحت ضروری مرمت کی گئی اور کئی بار پٹرول ٹینک صاف کر کے گاڑی صارف کے حوالے کی گئی۔ تاہم، کمیشن نے دستیاب دستاویزات، لیب رپورٹ اور گاڑی کی بار بار کی خرابیوں کی بنیاد پر ان دلیلوں کو کافی تسلیم نہیں کیا۔