ایران کے خلاف چھیڑی گئی جنگ کو ایک ماہ پورا ہوچکا ہے۔ اس دوران چند باتیں اپنی جزئیات کے ساتھ واضح ہوئی ہیں ، مثلاً: (۱) امریکہ اتنا طاقتور نہیں ہے جتنا سمجھا جاتا ہے۔ (۲) ایران اتنا کمزور نہیں ہے جتنا سمجھ لیا گیا تھا۔
ایران کے خلاف چھیڑی گئی جنگ کو ایک ماہ پورا ہوچکا ہے۔ اس دوران چند باتیں اپنی جزئیات کے ساتھ واضح ہوئی ہیں ، مثلاً: (۱) امریکہ اتنا طاقتور نہیں ہے جتنا سمجھا جاتا ہے۔ (۲) ایران اتنا کمزور نہیں ہے جتنا سمجھ لیا گیا تھا۔ (۳) امریکہ، جس نے متعدد خلیجی ملکوں میں فوجی ٹھکانے بنا رکھے تھے، متعلقہ ملکوں کو دھوکہ دے رہا تھا۔ وہ ان کی ’’حفاظت‘‘ نہیں کرسکتا جبکہ فوجی ٹھکانے ان کی نام نہاد حفاظت ہی کے لئے قائم کئے گئے تھے۔ (۴) عالمی معیشت کی صحت برقرار رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ کوئی ملک یا ملکوں کا اتحاد اپنے تنازعات کو اتنا نہ بڑھنے دے کہ جنگ کی نوبت آئے۔ (۵) کوئی ملک یا ملکوں کا اتحاد کسی کو کمزور سمجھ کر اس پر حملہ نہ کرے، ہر ملک وینزویلا نہیں ہوتا۔ وینزویلا بھی نرم چارہ ثابت نہ ہوتا اگر اس پر شب خون نہ مارا جاتا اور اپنے صدر مادورو کے شرمناک اغوا کو اس ملک کے لوگوں نے گوارا بلکہ تسلیم نہ کرلیا ہوتا۔
یہ چند باتیں جلی حروف میں لکھی ایسی عبارتیں ہیں جنہیں ہر شخص آسانی سے پڑھ رہا ہے اور سمجھ رہا ہے۔ یہ بھی صاف ہوگیا ہے کہ ٹیرف کی دھمکیوں کا، جو ٹرمپ نے دی تھیں ، دو ٹوک جواب دیا جاتا اور چند ممالک بڑی جرأت کے ساتھ چین کی طرح جوابی ٹیرف کا اعلان کر دیتے تو ٹرمپ کی داداگیری چند ہی دنوں میں کسی کباڑ خانے میں پہنچ جاتی جو مختلف ملکوں کو ٹیرف کے ذریعہ کچھ اس انداز میں ڈرا رہے تھے کہ جس کی نظیر عالمی تاریخ میں نہیں ملتی۔
گزشتہ ایک ماہ میں یہ بھی واضح ہوا ہے کہ اقوام متحدہ کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور عین ممکن ہے کہ اس کا حال اس کے پیش رو ادارہ لیگ آف نیشنز کی طرح ہوجائے۔ ٹرمپ نے کوشش کی تھی کہ بورڈ آف پیس تشکیل دے کر من مانے فیصلوں کا میکانزم بنائیں اور اقوام متحدہ کو آثار قدیمہ میں شامل کروا دیں مگر بورڈ آف پیس کی تشکیل سے پہلے ہی وہ بورڈ آف وار کے چیئرمین بن گئے اور من مانی جنگ لے آئے جو ان کیلئے وبال جان ثابت ہورہی ہے۔
گزشتہ روز امریکہ کے کم و بیش چار درجن شہروں میں ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف، جس میں ایران جنگ پر برہمی کا اظہار بھی کیا گیا ہے، بڑے پیمانے پر احتجاج ہوا ہے۔ ٹرمپ اس کو خاطر میں نہیں لانا چاہیں گے مگر یہ ان کیلئے انتباہ ہے۔ وسط مدتی انتخابات میں ان کی پارٹی کا صفایا طے معلوم ہوتا ہے۔ اگر ایسا ہی ہوا تو ٹرمپ کا مواخذہ بھی طے سمجھئے۔ وہ مواخذہ ہی سے ڈر سکتے ہیں پانچ لاکھ شہریوں کے احتجاج سے نہیں ڈرتے۔ صدارتی الیکشن میں شاندار کامیابی سے انہیں جو سیاسی طاقت حاصل ہوگئی تھی اس کا ناجائز فائدہ اٹھاتے اٹھاتے انہوں نے امریکہ کو پیچھے کردیا۔ کیا تو ’’گریٹ اگین‘‘ بنانے چلے تھے!
جنگ کے ایک ماہ میں یہ بھی واضح ہوگیا کہ دنیا کو یک قطبی بنانے کا امریکہ کا خواب پورا نہیں ہوسکتا اور یہ اچھا اشارہ ہے۔ اس سے کوئی ملک عالمی داروغہ بن کر بیٹھ نہیں سکے گا۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ ایک عالمی ادارہ جو غیر جانبدار اور عدل و انصاف پسند ہو، عالمی سرپرستی کا فریضہ انجام دے۔ یہ توقع بجا طور پر اقوام متحدہ سے کی جاتی ہے اور کی جاتی رہی ہے مگر یہ ادارہ اپنے فرائض کی ادائیگی میں بری طرح ناکام ہوچکا ہے۔ غزہ کی جنگ نہ رُکوانا اس کی بدترین شکست ہے۔