ایران جوہری عدم پھیلائو معاہدے سے دستبرداری پر غور کررہا ہے،پارلیمنٹ سمیت متعلقہ حکومتی ادارے ’’فوری طور پر‘‘ دستبرداری پر غور کر رہے ہیں۔
EPAPER
Updated: March 29, 2026, 10:44 PM IST | Tehran
ایران جوہری عدم پھیلائو معاہدے سے دستبرداری پر غور کررہا ہے،پارلیمنٹ سمیت متعلقہ حکومتی ادارے ’’فوری طور پر‘‘ دستبرداری پر غور کر رہے ہیں۔
ایران کی تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق، تہران کے نائب مالک شریعتی نے امریکی سوشل میڈیا کمپنی ایکس پر کہا کہ’’ ایران کے جوہری حقوق کے تحفظ کے لیے ہنگامی منصوبے‘‘ کے تین اہممقاصدہیں: این پی ٹی سے دستبرداری کا اعلان، ۲۰۱۴ءکے جوہری معاہدے پر عمل درآمد میں جوابی قانون کی منسوخی، اور چین (شنگھائی) اور برکس گروپ (برازیل، روس، ہندوستان، چین، جنوبی افریقہ) جیسے ہم خیال ممالک کے ساتھ پرامن جوہری ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے نیا بین الاقوامی معاہدہ۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی حملہ میں دو صحافیوں کی موت
واضح رہے کہ یہ ممکنہ دستبرداری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پورا خطہ چوکنا ہے، کیونکہ۲۸؍ فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر فضائی حملے شروع کیے تھے، جس میں سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای سمیت۱۳۴۰؍ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ یاد رہے کہ امریکہ طویل عرصے سے ایران کے جوہری مواد کو ہتھیاروں کی سطح تک افزودہ کرنے پر اعتراض کرتا رہا ہے۔ تاہم ایران نے حملوں کے جواب میں اسرائیل، اردن، عراق اور خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں کو ڈرون اور میزائلوں سے نشانہ بنایا، جس سے جانی و مالی نقصان ہوا اور عالمی منڈیاں اور ہوابازی متاثر ہوئی۔