Inquilab Logo Happiest Places to Work

آئی آئی ٹی بامبے کا درختوں کے سوکھے پتوں سے توانائی پیدا کرنے کا دعویٰ

Updated: March 30, 2026, 12:38 PM IST | Nadeem Asran | Mumbai

ایران، امریکہ اور اسرائیل جنگ کے سبب عوام ایل پی جی اور پی این جی کی قلت کے سبب پریشان ہیں۔ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی بامبے) نے ایل پی جی کی قلت کے پیش نظر اس مسئلہ اور بحران سےآسانی سے نمٹنے کا دعویٰ کیا ہے۔

IIT Bombay. Photo: INN
آئی آئی ٹی بامبے۔ تصویر: آئی این این

ایران، امریکہ اور اسرائیل جنگ کے سبب عوام ایل پی جی اور پی این جی کی قلت کے سبب پریشان ہیں۔ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی بامبے) نے ایل پی جی کی قلت کے پیش نظر اس مسئلہ اور بحران سےآسانی سے نمٹنے کا دعویٰ کیا ہے۔ آئی آئی ٹی بامبے نے درختوں کے سوکھے پتوں سے توانائی پیدا کرکے نہ صرف گیس کی ضرورت کو پورا کرنے کا دعویٰ کیاہے بلکہ کچن میں اس کا استعمال کرنے کی بھی اطلاع دی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: کلیان: بی ایل اوز کے عدم تعاون سے میپنگ کا کام متاثر، شہری پریشان

آئی آئی ٹی بامبے نے درختوں کے سوکھے پتوں سے ’بائیو ماس گیسی فیکیشن ٹیکنالوجی ‘ کی مدد سےقدرتی گیس پیدا کرنے میں کامیابی حاصل کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے اس سے لاکھوں روپے کی بچت ہونے اور کئی لاکھ ٹن قدرتی گیس پیدا کئے جانے کی بھی اطلاع دی ہے۔ یونیورسٹی کے مطابق گیس کی قلت سے محفوظ رہتے ہوئے درختوں کے سوکھے پتوں سے پیدا کردہ اس گیس سے لگائے گئے پلانٹ اور اس میں نصب کردہ پائپ لائن سےکیمپس میں کھانا بنانے کیلئے ۶۰؍ فیصد مذکورہ گیس کا استعمال کیا جارہا ہے۔اس تعلق سے آئی آئی ٹی بامبے کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر بھی پوسٹ ڈالی گئی ہے اور ایک دہائی قبل سے شروع کئے گئے تجربات اور کوششوں کے نتیجہ میں سوکھے پتوں سے قدرتی گیس پیدا کرنے میں کامیابی حاصل ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

آئی آئی ٹی بامبے کے کیمیکل انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ کے پروفیسر سنجے مہاجنی کی سربراہی میں حاصل کی جانے والی اس کامیابی کے تعلق سے پروفیسر نے بتایا کہ’’ کیمپس میں لگے بے شمار درختوں کے سوکھے پتوں کو ضائع کرنا ایک مسئلہ تھا اور اسے حل کرنے کیلئے ۲۰۱۴ء سے سائنسی تجربات کئے جارہے تھے۔ شروع میں قدرتی گیس پیدا کرنے کی کوشش میں اسے جلانے پر دھوئیں سے ہونے والے مسائل کا سامنا کرنا پڑا لیکن مسلسل کئے جانے والے بےشمار تجربات کے بعد سوکھے پتوں سے قدرتی گیس حاصل کرنے میں کامیابی ملی۔ یہی نہیں ان دنوں جہاں شہری، ریاستی اور ملکی سطح پر عوام کو ایل پی جی بحران کا سامنا ہے، ہم نے کیمپس کی کینٹین میں ۲۰۲۴ء سےکھانا بنانے کیلئے اب محض ۴۰؍ فیصد ایل پی جی جبکہ ۶۰؍ فیصد سوکھے پتوں سے پیدا کی جانے والی قدرتی گیس کا استعمال کرنا شروع کیا تھا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: سرکاری زمینوں پر۲۰۱۱ء تک کی تعمیرات کو قانونی حیثیت دینے کا اعلان

آئی آئی ٹی بامبے کے ذمہ داروں کے بقول اس سلسلہ میںسیفٹی اور دیگرتکنیکی ضرورت کومدنظررکھتےہوئے پروفیسر سندیپ کمار اور ان کی ٹیم نے پلانٹ بنانے، پائپ لائن کے ذریعہ اس کا استعمال کرنے کے کئی تکنیکی شعبوںپر کام کیا ہے۔ ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اس کے ذریعہ سالانہ تقریباً ۸؍ لاکھ ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کمی واقع ہوگی اور سوکھے پتوں سے بننے والی قدرتی گیس سے سالانہ ۵۰؍ لاکھ روپے بچیں گے۔ اب اسےجلد ہی شہری اور ریاستی سطح پر متعارف کرانے کیلئے حکومت کو تجویز پیش کی جائے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK