قومی سیاست میں جتنا انتشار گزشتہ برسوں میں پیدا ہوا ہے اتنا ماضی کے کسی دور میں نہیں رہا ہوگا۔اس وقت ’’ووٹ چوری‘‘ کی وجہ سے ماحول گرم ہے اور عوام پریشان ہیں ۔
EPAPER
Updated: August 29, 2025, 4:17 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai
قومی سیاست میں جتنا انتشار گزشتہ برسوں میں پیدا ہوا ہے اتنا ماضی کے کسی دور میں نہیں رہا ہوگا۔اس وقت ’’ووٹ چوری‘‘ کی وجہ سے ماحول گرم ہے اور عوام پریشان ہیں ۔
قومی سیاست میں جتنا انتشار گزشتہ برسوں میں پیدا ہوا ہے اتنا ماضی کے کسی دور میں نہیں رہا ہوگا۔اس وقت ’’ووٹ چوری‘‘ کی وجہ سے ماحول گرم ہے اور عوام پریشان ہیں ۔ اِس سے پہلے کچھ اور تھا، اُس سے پہلے کچھ اور۔ اگر آپ گزشتہ برسوں کے واقعات کو یاد بھی کرنا چاہیں تو فوری طور پر تمام واقعات یاد نہیں آئینگے۔ عالم یہ ہے کہ ایک واقعہ پر دوسرا واقعہ اس طرح غالب آ جاتا ہے کہ ہر خاص و عام کی توجہ دوسرے واقعہ پر مبذول ہوجاتی ہے اور پہلا واقعہ حاشئے پر چلا جاتا ہے۔ کیا دوسرے واقعے کے پس پشت مقصد یہی ہوتا ہے کہ پہلا پس پشت چلا جائے؟ چند واقعات ہم یاد دِلاتے ہیں ۔ ابھی زیادہ دن نہیں ہوئے جب نائب صدر جمہوریہ جگدیپ دھنکر نے خرابیٔ صحت کو بنیاد بناکر اچانک استعفیٰ دے دیا تھا۔ اُس کے بعد سے اب تک وہ منظر عام پر نہیں آئے۔ کہاں ہیں اور کیا کررہے ہیں اس کا کسی کو علم نہیں ۔ یاد کیجئے نتیش کمار کو۔ بہار کا الیکشن سر پر ہے اور موصوف کم کم دکھائی دیتے ہیں ۔ سنتے ہیں کہ اُن کی صحت ٹھیک نہیں ہے مگر ریاست کے وزیر اعلیٰ تو وہ اب بھی وہی ہیں ۔ کتنے لوگوں کے ذہن میں نتیش کو لے کر کوئی سوال ہے؟ اگر وہ عدم صحت ہیں تو استعفےٰ دے کر اپنی پارٹی کے کسی اور لیڈر کو وزارت اعلیٰ سونپ کیوں نہیں دیتے؟ یاد کیجئے ڈونالڈ ٹرمپ نے تیس سے زائد مرتبہ دعویٰ کیا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ اُنہوں نے رُکوائی۔ہرچند کہ اس مسئلہ یا واقعہ کا تعلق اُمور خارجہ سے ہے مگر چونکہ ہماری حکومت نے اُن کو جھٹلایا نہیں ہے اس لئے اسے بھی ہم قومی سیاست ہی سے جوڑتے ہیں ۔ ممکن تھا کہ وہ باز آجاتے مگر اُنہیں دعوے کو دُہرانے ہی کا موقع مل رہا ہے اور شاید اس میں لطف بھی آرہا ہے۔ کیا عجب وہ اس دعوے کی سنچری بنالیں ! مگر وہ ایسا کیوں کررہے ہیں ؟شاید اس لئے کہ اُن کے دعویٰ کرنے کے واقعہ پر دیگر واقعات نہ غالب آجائیں ۔
ایک واقعہ پر دوسرا واقعہ یا واقعہ در واقعہ عالم یہ ہے کہ واقعات کا انبار ہے اس لئے اکثر واقعات ذہنوں سے محو ہوتے جارہے ہیں ۔ کتنے لوگوں کو یاد ہے کہ وزیر اعظم نے پی ایم فنڈ بنایا تھا؟ کتنے لوگوں کو یاد ہے کہ انتخابی بونڈ جاری ہوئے تھے اور انتخابی چندہ کے طور پر کروڑوں یا اس سے بھی زیادہ کا سرمایہ جمع کیا گیا تھا؟ کتنے لوگو ں کو یاد ہے کہ کسانوں نے دہلی کی سرحدوں پر دھرنا دیا تھا؟ کتنے لوگوں کو یاد ہے کہ خاتون پہلوانوں نے جنسی ہراسانی کی شکایت کے تحت دھرنا دیا اور خاطی سربراہ کو ہٹانے کی مانگ کی تھی؟ کتنے لوگوں کو یاد ہے کہ کووڈ کے دور میں ہزاروں مزدور ٹرینوں اور بسوں کی عدم موجودگی میں پیدل ہی وطن واپسی کیلئے نکل پڑے تھے؟ کتنے لوگوں کو یاد ہے کہ جن دھن یوجنا کے تحت غریب اور پسماندہ آبادیوں کے لوگوں کے بینک کھاتے کھلوائے گئے تھے یا اُجولا یوجنا کے تحت غریب خواتین کو مفت ایل پی جی کنکشن دینے کا اعلان کیا گیا تھا؟ کتنے لوگوں کو یاد ہے کہ بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ کا نعرہ بہت اہم سمجھا جارہا تھا؟ واقعات کی یک سطری فہرست ہی بنائیں تو کتاب بن جائیگی۔ ان تمام واقعات کے باوجود اب بھی نت نئے واقعات کا رونما ہونا جہاں عوامی حافظے کی آزمائش ہے وہیں مضبوط حافظہ والوں کیلئے خود کو انتشار سے بچانے کا چیلنج ہے۔ کیا یہ سب اس لئے ہے کہ عوام کسی ایک موضوع پر یکسو نہ ہوں ؟ مگر کون کہہ سکتا ہے کہ عوام کبھی یکسو‘ نہ ہونگے؟