Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹیسلا کو یورپ میں بڑا دھچکا، کاروں کی فروخت میں کمی

Updated: August 29, 2025, 6:51 PM IST | London

ٹیسلا کے مالک ایلون مسک کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔ درحقیقت جولائی میں یورپ میں ٹیسلا کی کاروں کی فروخت میں تیزی سے کمی آئی ہے، جو مسلسل ساتواں مہینہ کمی کا ہے جبکہ چینی کمپنی بی وائی ڈی جو کہ ٹیسلا کی مدمقابل کمپنی ہے، نے اپنی فروخت میں زبردست اضافہ دیکھا ہے۔

BYD Car.Photo:INN
بی وائی ڈی کار۔تصویر:آئی این این

ٹیسلا کے مالک ایلون مسک کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔  جولائی میں یورپ میں ٹیسلا کی کاروں کی فروخت میں تیزی سے کمی آئی ہے۔آپ کو بتاتے ہیں کہ یہ معلومات جمعرات کو جاری کردہ ایک ڈیٹا سے سامنے آئی ہیں۔یورپی آٹوموبائل مینوفیکچررس اسوسی ایشن (اے سی ای اے ) کے مطابق جولائی میںٹیسلا کی نئی کاروں کی فروخت صرف۸۸۳۷؍ تھی  جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں ۴۰؍فیصد کم ہے۔ یعنی ٹیسلا کی فروخت میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ چینی کمپنی بی وائی ڈی نے جولائی میں ۱۳۵۰۳؍ نئی کاریں فروخت کی ہیں جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں۲۲۵؍فیصد زیادہ ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ بی وائی ڈی  کی فروخت میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھئیے:’’روسی تیل سے صرف چند ریفائنریوں کو فائدہ ،عوام کا کیا؟‘‘

یورپ میں الیکٹرک کاروں کی فروخت میں اضافہ ہوا 
 غور طلب ہے کہ ٹیسلا کی فروخت میں کمی کے باوجود یورپ میں بیٹری الیکٹرک کاروں کی مجموعی فروخت میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ لوگ الیکٹرک کاریں تو خرید رہے ہیں لیکن ٹیسلا کے مقابلے دیگر کمپنیوں کی کاروں کو زیادہ پسند کیا جا رہا ہے۔ ایلون مسک کی کمپنی ٹیسلا کو یورپ میں کئی چیلنجز کا سامنا ہے، اس کی وجہ سخت مقابلہ، مسک کا متنازع بیان اور ٹرمپ انتظامیہ سے تعلقات ہیں۔ جو براہ راست برانڈ کی امیج کو متاثر کر رہا ہے۔
 ٹیسلا کو عالمی سطح پر مشکلات کا سامنا ہے 
حال ہی میں ٹیسلا کو عالمی سطح پر بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس سال کی دوسری سہ ماہی میں آٹو سیلز سے کمپنی کی آمدنی میں کمی آئی  ہےاور مسک نے خبردار کیا  ہےکہ ’کچھ سخت سہ ماہی‘ آگے آسکتی  ہیں۔ ٹیسلا کے سب سے بڑے مسائل میں سے ایک یہ ہے کہ اس کی کار لائن اپ میں زیادہ تبدیلی نہیں آئی ہے۔ کمپنی نے اس سال کہا کہ وہ ایک سستی الیکٹرک کار پر کام کر رہی ہے جو۲۰۲۵ء کے دوسرے نصف حصے میں   پروڈکشن  میں جا سکتی ہے۔ سرمایہ کار امید کر رہے ہیں کہ اس سے فروخت بحال ہو سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK