امریکی حفاظتی ایجنسیوں اور امریکی صدر کے بیانات میں تضاد ہے۔ اہل امریکہ ایسے تضادات کو کیوں برداشت کرتے ہیں یہ سمجھنا مشکل ہے مگر تضادات بہرحال ہیں ۔ ٹرمپ ایران پر حملے کا کوئی قابل قبول جواز اب تک پیش نہیں کرسکے ہیں
امریکی حفاظتی ایجنسیوں اور امریکی صدر کے بیانات میں تضاد ہے۔ اہل امریکہ ایسے تضادات کو کیوں برداشت کرتے ہیں یہ سمجھنا مشکل ہے مگر تضادات بہرحال ہیں ۔ ٹرمپ ایران پر حملے کا کوئی قابل قبول جواز اب تک پیش نہیں کرسکے ہیں ۔ ویسے تو جنگ کا کوئی جواز نہیں ہوتا۔ ہر مسئلہ گفتگو کے ذریعہ حل کرنا چاہئے مگر آج کل کے حکمراں اُصولوں کو بالائے رکھ کر فیصلے کرتے ہیں ۔ اس بے اُصولی کا بھی کوئی اُصول ہونا چاہئے یاعام طور پر ہوتا ہے جیسے امریکہ نے عراق پر حملہ کیا تو عام تباہی کے ہتھیاروں کا جواز پیش کیا تھا جو جھوٹ پر مبنی تھا۔ اس بار ٹرمپ کی زبان پر ایسا کوئی جھوٹ بھی نہیں آیا جبکہ وہ جھوٹ بولنے کی مشین ہیں ۔
اب تک اُنہوں نے یا اُن کی حکومت کے دیگر ذمہ داروں نے جو کچھ کہا ہے اُس میں جنگ کی الگ الگ وجوہات بیان کی گئی ہیں مثلاً کبھی کہا گیا کہ ایران امریکہ کیلئے خطرہ ہے تو کبھی کہا گیا کہ خطرہ تو اسرائیل کیلئے ہے مگر جب اسرائیل اُس پر حملہ کریگا تو جوابی کارروائی میں وہ امریکی مفادات کو نقصان پہنچائے گا اس لئے اُس پر کارروائی ضرو ری تھی۔ کبھی یہ بھی کہا گیا کہ ایران پورے مشرق وسطیٰ کیلئے خطرہ ہے۔ یہ باتیں اب جگ ظاہر ہیں اور ہر اُس گفتگو میں آئی ہیں جو اس موضوع پر ہوئیں خواہ دُنیا کے کسی گوشے میں ہوئی ہو۔
مذکورہ ’’جوازوں ‘‘ میں جو تضاد ہے ویسا ہی تضاد امریکی حفاظتی ایجنسیوں بالخصوص انٹلی جنس کے سربراہوں کے بیانات اور ٹرمپ یا دیگر اہل اقتدار کے بیانات میں بھی ہے۔ ڈائریکٹر آف ڈیفنس انٹلی جنس ایجنسی جیمس ایڈمس، ڈائریکٹر آف نیشنل انٹلی جنس تلسی گبارڈ، آرمی لیفٹننٹ جنرل ولیم ہارٹ مین اور سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹ کلف نے کم و بیش یہی کہا ہے کہ انٹلی جنس کو ’’ایران کے خطرہ‘‘کی کوئی جانکاری نہیں تھی اور یہ بات صدر کے علم میں تھی۔ ان بیانات سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ خود اسرائیل اور امریکہ کا جنگ کا مقصد مشترکہ نہیں تھا۔ یہ بات اب تک کے واقعات سے بھی سمجھ میں آئی ہے۔ اسرائیل نے ایرانی لیڈروں پر حملے کئے اور اقتدار کی تبدیلی کو مقصد بتایا جبکہ امریکہ نے ایران کے میزائل نیٹ ورک اور فوجی ٹھکانوں کو جارحیت کا نشانہ بنایا۔
یہ بات گبارڈ کے بیان میں بھی ہے اور ریٹ کلف نے بھی کہی کہ اقتدار تبدیل کرنا امریکی حملے کا مقصد نہیں ، ہوسکتا ہے یہ حکومت ِ اسرائیل کا مقصد رہا ہوگا۔ حفاظتی ایجنسیوں کے بیانات کے مطابق امریکہ و اسرائیل نے ایرانی مزاحمت اور جوابی حملوں کی طاقت و صلاحیت کو کم آنکا تھا اور یہی سوچ کر جنگ شروع کی کہ ایران کو دو چار دن میں گھٹنوں پر لاکر اپنی مرضی کی حکومت کو اقتدار دِلوا دینگے مگر واشنگٹن اور تل ابیب دونوں ایران کی ٹوہ میں رہنے کے باوجود یہ نہیں جان سکے کہ وہ کئی برس سے جنگ کی تیاری کررہا تھا، اُسے علم تھا کہ آج نہیں تو کل جنگ ہوگی۔
تضادات وہاں بھی ہیں جہاں عموماً نہیں ہوتے۔ مثلاً امریکی افسران بار بار کہہ رہے ہیں کہ ایران کی طاقت ختم ہوچکی ہے۔ ٹرمپ تو یہ تک کہہ چکے ہیں کہ ایران میں جہاں جہاں بمباری ممکن تھی ہوچکی اب وہاں کوئی جگہ نہیں جسے ہدف بنایا جائے۔ امریکی میڈیا کی رپورٹوں میں امریکی صدر اور افسران کے بیانات کی قلعی کھولی گئی ہے جو اپنے عوام کو دھوکے میں رکھ رہے ہیں ۔