Inquilab Logo Happiest Places to Work

آبنائے ہرمز کھلی ہے مگر جنگی خوف حاوی، ایران کا امریکہ اسرائیل پر الزام

Updated: March 23, 2026, 2:10 PM IST | Tehran

آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایران نے واضح کیا ہے کہ راستہ بند نہیں، مگر امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے باعث جہاز رانی متاثر ہو رہی ہے۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ جنگی ماحول اور انشورنس خدشات کی وجہ سے جہاز گزرنے سے ہچکچا رہے ہیں، نہ کہ ایران کی پابندی کی وجہ سے۔

Iran is charging around $2 million in fees from some ships passing through the Strait of Hormuz. Photo: INN.
ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کچھ جہازوں سے تقریباً۲۰؍ لاکھ ڈالر فیس وصول کر رہا ہے۔تصویر: آئی این این۔

ایران کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز’کھلی‘ ہے، مگر امریکہ اور اسرائیل کی ’جنگِ انتخاب‘ کے باعث جہاز گزرنے سے ہچکچا رہے ہیں۔ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اتوار کو ایکس پر کہا:’’آبنائے ہرمز بند نہیں ہے۔ جہاز اس  لئے ہچکچا رہے ہیں کیونکہ بیمہ کرنے والی کمپنیاں اُس جنگ سے خوفزدہ ہیں جو آپ نے شروع کی ہے ایران نے نہیں۔‘‘انہوں نے مزید کہا:’’کوئی بیمہ کمپنی اور کوئی ایرانی مزید دھمکیوں سے مرعوب نہیں ہوگا۔ عزت سے بات کریں۔آزادیٔ جہاز رانی، آزادیٔ تجارت کے بغیر ممکن نہیں۔ دونوں کا احترام کریں ورنہ دونوں سے محرومی کیلئے تیار رہیں۔‘‘ایرانی وزارتِ خارجہ نے بھی ایک بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز’بند نہیں‘ ہے۔تاہم، اس میں یہ بھی کہا گیا کہ ’جارح فریقوں‘ کے جہازوں کو عام اور غیر دشمنانہ گزرگاہ نہیں سمجھا جائے گا، اور ان کے ساتھ تنازع سے متعلق قانونی فریم ورک اور ایرانی حکام کے فیصلوں کے مطابق نمٹا جائے گا۔

یہ بھی پڑھئے: ایران نےجنگ کے خاتمے کیلئے۶؍ شرائط رکھیں

آبنائے کی بندش
مارچ کے آغاز سے ایران نے مؤثر طور پر آبنائے ہرمز کو زیادہ تر جہازوں کیلئے بند کر رکھا ہے۔ یہ ایک اہم تیل کی گزرگاہ ہے جہاں سے روزانہ تقریباً۲۰؍ ملین بیرل تیل اور دنیا کی لگ بھگ۲۰؍ فیصد مائع قدرتی گیس گزرتی ہے۔اس بندش کے باعث:شپنگ اور انشورنس کے اخراجات بڑھ گئے ہیں،تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اورعالمی معیشت میں تشویش پیدا ہوئی ہے۔ سنیچرکو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دھمکی دی کہ اگر ایران نے۴۸؍ گھنٹوں کے اندر یہ راستہ نہ کھولا تو وہ ایران کے بجلی گھروں کو’تباہ‘ کر دیں گے۔
خطے میں کشیدگی
۲۸؍فروری سے امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ ایران نے جواب میں ڈرون اور میزائل حملے کئے، جن کا ہدف اسرائیل اور وہ خلیجی ممالک تھے جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ایران کا اسرائیل پر بڑا میزائل حملہ،اسرائیل کے دو شہر تباہ کر دیے

ٹرانزٹ فیس
ایرانی رکنِ پارلیمنٹ نے بتایا کہ ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کچھ جہازوں سے تقریباً۲۰؍ لاکھ ڈالر فیس وصول کر رہا ہے۔پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے رکن علاء الدین بروجردی نے کہا:’’کچھ جہازوں سے ۲۰؍ لاکھ ڈالر فیس وصول کرنا ایران کی طاقت کی عکاسی کرتا ہے۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے۴۷؍ سال بعد اس آبنائے پر ’’خودمختاری کا نیا تصور‘‘ قائم کیا ہے۔
جانی نقصان اور ردعمل
امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں اب تک۱۳۰۰؍سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای بھی شامل ہیں۔ایران نے جوابی کارروائی میں اسرائیل، اردن، عراق اور خلیجی ممالک کو نشانہ بنایا، جس سے جانی نقصان، انفراسٹرکچر کو نقصان، اور عالمی منڈیوں اور ہوابازی میں خلل پیدا ہوا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK