Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران کا اسرائیل پر بڑا میزائل حملہ،اسرائیل کے دو شہر تباہ کر دیے

Updated: March 23, 2026, 12:05 AM IST | Tehran

دفاعی نظام آئرن ڈوم ناکام،اسرائیل کے اسٹرٹیجک شہروں دیمونا اور عراد پر ایران نے درجنوں بیلسٹک میزائل داغے ، بڑے پیمانے پر جانی ومالی نقصان

Buildings destroyed by Iranian missile attacks in the Israeli city of Arad. (PTI)
اسرائیل کے شہر عراد میں ایران کے میزائل حملوں سے تباہ ہوئی عمارتیں ۔(پی ٹی آئی)

 ایران نے اسرائیل کے اسٹرٹیجک شہروں دیمونا اور عراد پر درجنوں بیلسٹک میزائل داغ دیے ہیں، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔ اسرائیلی فوج نے باضابطہ اعتراف کیا ہے کہ ان کا جدید ترین فضائی دفاعی نظام ان میزائلوں کو روکنے میں ناکام رہا، جس کے باعث کم از کم دو میزائل براہِ راست شہری آبادی اور حساس علاقوں میں جا گرے۔اسرائیلی میڈیا رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ہمارا دفاعی نظام ایرانی حملہ نہ روک سکا، ایرانی میڈیا نے بتایا ہے کہ حملے میں۲۰؍ عمارتیں تباہ،۱۰؍ اسرائیلی ہلاک اورتقریباً۲۰۰؍ افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں کم از کم۱۱؍ کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
 ایرانی میزائل حملے کے بعد عراد میں ایمرجنسی نافذ کرکے تعلیمی ادارے بند کردیے گئے، اسرائیلی کابینہ کا ہنگامی اجلاس فوری طلب کر کے حملے روکنے میں ناکامی پرتحقیقات شروع کردی گئیں۔اسرائیلی طبی ذرائع کے مطابق متعدد افراد کو شیل کے ٹکڑوں اور بھگدڑ کے دوران چوٹیں آئیں جبکہ کئی افراد شدید خوف و ہراس کا شکار بھی ہوئے۔دیمونا میں واقع اسرائیل کی ایٹمی تنصیبات سے محض۱۳؍  کلومیٹر دور میزائل گرنے سے شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ شہر عراد میں مکمل ایمرجنسی نافذ کر کے تمام اسکول اور کالج غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیے گئے ہیں۔ اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ ہے۔ زیادہ تر افراد میزائل کے ٹکڑوں  اور بھگدڑ کی وجہ سے زخمی ہوئے۔
 ایران کے سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ حملہ ایران کے نطنز جوہری پلانٹ پر ہونے والے مبینہ امریکی حملے کا منہ توڑ جواب ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ ان کا اصل ہدف دیمونا کا جوہری تحقیقی مرکز تھا تاکہ دشمن کو واضح پیغام دیا جا سکے۔دیمونا جیسے حساس ترین علاقے میں میزائلوں کا گرنا اسرائیل کے لیے ایک بہت بڑی سیکوریٹی خامی ہے ۔ اس واقعے کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں ایک مکمل ایٹمی جنگ کا خطرہ مزید بڑھ گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK