الگ الگ پارٹیوں سے نکل کر بی جے پی میں شامل ہونے والوں کی تعداد کم نہیں ۔ گزشتہ بارہ سال میں اتنے لوگوں نے یک رخی دل بدلی کی ہے کہ صحافی حضرات نے اپنی بیاضوں میں درج کرنا بھی چھوڑ دیا کہ کون، کب، کس پارٹی سے ٹوٹ کر بی جے پی کی پناہ میں چلا گیا۔
الگ الگ پارٹیوں سے نکل کر بی جے پی میں شامل ہونے والوں کی تعداد کم نہیں ۔ گزشتہ بارہ سال میں اتنے لوگوں نے یک رخی دل بدلی کی ہے کہ صحافی حضرات نے اپنی بیاضوں میں درج کرنا بھی چھوڑ دیا کہ کون، کب، کس پارٹی سے ٹوٹ کر بی جے پی کی پناہ میں چلا گیا۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس یک رخی دل بدلی کی وجہ سے خود بی جے پی میں جو بے چینی پیدا ہونی چاہئے تھی، وہ اگر ہوتی بھی ہے تو منظر عام پر نہیں آتی۔ اس داستان میں مقامات حیرت یعنی مقامات آہ و فغان اور بھی ہیں مثال کے طور پر ایسا بھی ہوا ہے کہ جس پر سنگین الزام لگے اعلیٰ لیڈرشپ نے اسے بھی قبول کرلیا۔ کسی کو وزیر اعلیٰ تو کسی کو مرکزی وزیر بنایا گیا اس طرح پارٹی کے پرانے خادموں کو پیچھے کرکے نوواردوں کو آگے کیا گیا تاکہ دل بدلی کی حوصلہ افزائی ہو۔ اپنی پارٹی چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہونے کے واقعات میں افراد تو ہیں ہی، گروپ بھی شامل ہیں جیسے اجیت پوار کی سربراہی میں این سی پی کے اور ایکناتھ شندے کی سربراہی میں شیو سینا کے اراکین اسمبلی۔ اس کی وجہ سے مہاراشٹر میں این سی پی اور شیو سینا کو ایسا جھٹکا لگا کہ شرد پوار اور ادھو ٹھاکرے آج تک اس صدمے سے باہر نہیں آسکے ہیں ۔ ان کی پارٹیاں بھی اس نقصان کی بھرپائی نہیں کرسکی ہیں اور اب اس کا امکان بھی دکھائی نہیں دیتا۔
اس سلسلے کا تازہ واقعہ عام آدمی پارٹی (آپ) کا ہے جس کے راجیہ سبھا کے اراکین نے راگھو چڈھا کی قیادت میں دل بدلی کی ہے۔ راگھو سمیت سات اراکین کا اس طرح پارٹی سے نکل جانا غیر معمولی سیاسی واقعہ قرار پا سکتا تھا مگر اس نوع کے واقعات عام ہوجانے کے سبب خبر بھی اب خبر نہیں ہے۔ مگر خبر کا اثر ضرور دیکھنے کو ملا جو اصل خبر بن گیا، وہ یہ کہ راگھو چڈھا کے آپ سے نکلنے کے اعلان کے بعد چوبیس گھنٹوں میں ان کے سوشل میڈیا (انسٹاگرام) کے دس لاکھ فالوورس نے انہیں ’’اَن فالو‘‘ کردیا۔ ایسا ری ایکشن پہلے کبھی سامنے نہیں آیا تھا۔ اس سے ثابت ہوا کہ کسی خبر کے خبر نہ رہ جانے کے باوجود عوام خبروں پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور بھلے برے کی تمیز کررہے ہیں ۔ اتنے کم وقت میں اتنے زیادہ لوگوں کا ردعمل معنی خیز ہے۔ اس سے اروند کیجریوال کو تھوڑی راحت ملی ہوگی مگر جن کو راجیہ سبھا کی سیٹ دی گئی اگر وہ اس قدردانی کے باوجود بے مروتی کا مظاہرہ کریں تو اس کا افسوس عام سیاسی واقعات کا افسوس نہیں ہے۔ ہمارا موضوع کیجریوال کی سیاست نہیں ہے، اس پر کسی اور دن بات ہوسکتی ہے، یہاں موضوع راگھو چڈھا اور ان کے ساتھ بی جے پی میں جانے والوں کا طرز عمل ہے۔ ایسے لوگ کسی بھی پارٹی کے ہوتے اور ایسی حرکت کرتے تو انہیں ہدف تنقید بنایا جاتا۔ انہیں پارٹی چھوڑنے کے ساتھ راجیہ سبھا کی رکنیت بھی چھوڑنی چاہئے تھی جو عام آدمی پارٹی کی دی ہوئی تھی مگر مفاد پرستی دیکھئے کہ انہیں راجیہ سبھا کی رکنیت چاہئے، پارٹی نہیں چاہئے۔
دل بدلی کا قانون موجود ہے مگر اس سے بچ نکلنے کی راہیں تلاش کی جاتی ہیں چنانچہ پارٹی چھوڑنے والوں نے پہلے ہی کہہ دیا کہ ہم ایوان میں پارٹی کی مجموعی تعداد (دس) کا دو تہائی سے زیادہ ہیں اس لئے ہم پر اس قانون کا اطلاق نہیں ہوگا۔ یہ قانونی معاملہ ہے اس لئے اسے قانون کی باریکیاں جاننے والوں کے سپرد کرتے ہوئے ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ دل بدلی مخالف قانون کو مزید طاقت دینے کیلئے اس میں دل بدلی کے اسباب کی وضاحت کو شامل کیا جائے تاکہ ذاتی مفاد میں یا کوئی سودا کرکے یا کسی کارروائی سے بچنے کیلئے پارٹی بدلنے کے اقدام کی حوصلہ شکنی ہو۔ کیا یہ نہیں ہو سکتا ہے؟