ایران نے امریکی اقدامات کی حمایت کرنے والے ممالک کو سخت وارننگ جاری کی ہے۔ نائب صدر اسماعیل ثاقب اصفہانی نے بیان دیا کہ ایران کے تیل انفراسٹرکچر کو پہنچنے والے کسی بھی نقصان کا جواب انتہائی شدید طریقے سے دیا جائے گا۔
EPAPER
Updated: April 27, 2026, 9:56 PM IST | Washington/Tehran
ایران نے امریکی اقدامات کی حمایت کرنے والے ممالک کو سخت وارننگ جاری کی ہے۔ نائب صدر اسماعیل ثاقب اصفہانی نے بیان دیا کہ ایران کے تیل انفراسٹرکچر کو پہنچنے والے کسی بھی نقصان کا جواب انتہائی شدید طریقے سے دیا جائے گا۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس ملک کے پاس معاہدہ کرنے کے لیے صرف تین دن باقی ہیں ورنہ اسے اپنے تیل انفراسٹرکچر کے حوالے سے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران، امریکی ناکہ بندی کی وجہ سے تیل برآمد کرنے میں ناکام رہتا ہے، تو میکانیکی دباؤ اور قدرتی قوتوں کی وجہ سے اس کی پائپ لائنیں اندر سے پھٹ سکتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ”وہ کہتے ہیں کہ ایسا ہونے سے پہلے ان کے پاس صرف تین دن باقی ہیں... اور جب یہ پھٹ جائے گا، تو آپ اسے کبھی بھی پہلے جیسی حالت میں دوبارہ تعمیر نہیں کر سکیں گے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی قسم کی دوبارہ تعمیر سے اس کی اصل صلاحیت کا صرف نصف حصہ ہی بحال ہو سکے گا۔
ٹرمپ کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کوششیں تعطل کا شکار ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ایران نے دشمنی ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے مقصد سے نئی تجویز پیش کی ہے، تاہم اس نے ایٹمی مذاکرات کو موخر کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، واشنگٹن اس تجویز کا جائزہ لے رہا ہے۔ توقع ہے کہ ٹرمپ اپنی قومی سلامتی کی ٹیم کے ساتھ اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کریں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی پاکستان اور عمان سمیت کئی سفارتی دوروں میں مصروف ہیں اور اب ان کی روس میں ولادیمیر پوتن سے ملاقات طے ہے۔ تہران کا موقف برقرار ہے کہ جب تک بحری ناکہ بندی سمیت اہم رکاوٹیں ختم نہیں کی جاتیں، امریکہ کے ساتھ بات چیت کا امکان کم ہے۔ اس سے قبل، ٹرمپ نے ایلچیوں کے اسلام آباد کے طے شدہ دورے کو منسوخ کر دیا تھا اور اس بات کا اعادہ کیا تھا کہ اگر ایران مذاکرات چاہتا ہے تو اسے رابطہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تہران کو ایٹمی ہتھیار ہرگز حاصل نہیں کرنے چاہئیں۔
تیل انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے پر ایران کی ’چار گنا‘ جوابی کارروائی کی وارننگ
ایران نے امریکی اقدامات کی حمایت کرنے والے ممالک کو سخت وارننگ جاری کی ہے۔ نائب صدر اسماعیل ثاقب اصفہانی نے بیان دیا کہ ایران کے تیل انفراسٹرکچر کو پہنچنے والے کسی بھی نقصان کا جواب انتہائی شدید طریقے سے دیا جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ”ہماری ریاضی مختلف ہے: ایک تیل کا کنواں = چار تیل کے کنویں۔“ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر ایران کی اپنی تنصیبات پر حملہ کیا گیا تو وہ اتحادی ممالک کے انفراسٹرکچر کو ”چار گنا“ زیادہ نقصان پہنچائے گا۔
یہ بھی پڑھئے: مصر: توانائی بحران میں کمی کے بعد دکانوں کے اوقات پر پابندی ختم
دریں اثناء، ایران کی مبینہ تجویز کی تفصیلات سے سہ مرحلہ منصوبے کا اشارہ ملا ہے جس میں دشمنی کا فوری خاتمہ، امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی کی بحالی شامل ہے۔ اس کے بعد ایٹمی مسائل پر تاخیری مذاکرات ہوگے۔ ان پیش رفتوں کے باوجود، واشنگٹن اور تہران کے درمیان براہِ راست بات چیت کی تصدیق نہیں ہوئی ہے اور سفارتی رفتار غیر یقینی دکھائی دیتی ہے کیونکہ دونوں فریقین کی جانب سے سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔