Inquilab Logo

راہل: مقبولیت اور معرکے (۲)

Updated: June 14, 2024, 2:01 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

دو بھارت جوڑو یاتراؤں کی وجہ سے کانگریسی کارکنان میں پیدا ہونے والے جوش و خروش کو نتیجہ خیز منصوبہ بندی اور عمل آوری تک لے جانا ایسا معرکہ ہے جس کو سر کئے بغیر راہل گاندھی اور اُن کی پارٹی اپنی ساکھ کو مضبوط نہیں کرسکیں گے۔ پا

Photo: INN
تصویر:آئی این این

  دو بھارت جوڑو یاتراؤں  کی وجہ سے کانگریسی کارکنان میں  پیدا ہونے والے جوش و خروش کو نتیجہ خیز منصوبہ بندی اور عمل آوری تک لے جانا ایسا معرکہ ہے جس کو سر کئے بغیر راہل گاندھی اور اُن کی پارٹی اپنی ساکھ کو مضبوط نہیں  کرسکیں  گے۔ پارٹی کی کئی ریاستی اکائیاں  خستہ حالی کا شکار ہیں ۔ انہیں  نئے سرے سے تشکیل دینا اور یہ دیکھنا کہ وہاں  عوامی کام ہورہے ہیں ، پارٹی قیادت کی ذمہ داری ہے۔ بھارت جوڑو یاترا یا کسی معاملے میں  حکومت سے سوال کرنا اپنی جگہ بہت اہم اور ضروری ہے مگر اس سے الیکشن نہیں  جیتے جاتے اور جب تک الیکشن جیتنے اور جیتتے رہنے کا سلسلہ شروع نہیں  ہوتا تب تک پارٹی مضبوط نہیں  کہلا سکتی۔ 
 پارٹی چاہتی ہے کہ راہل گاندھی اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے ذمہ داری قبول کریں ۔اس پر اب تک اُنہوں  نے کوئی جواب نہیں  دیا ہے۔ اُن کے سامنے شاید یہ کشمکش ہو کہ وہ کوئی عہدہ قبول کرلیں  گے تو پارٹی کو باہر سے تقویت پہنچانےاور مجموعی کارکردگی کو بہتر بنانے کی کوشش کیونکر ممکن ہوگی۔اگر یہ کشمکش ہے تب بھی اور نہیں  ہے تب بھی راہل کو ذہن بنا کر کہ اُنہیں  کیا کرنا ہے، اس کا اعلان کردینا چاہئے تاکہ مخالفین کو اُلٹی سیدھی کہنے کا موقع نہ ملے۔
 سب جانتے ہیں  کہ ’’انڈیا‘‘ کی تشکیل میں  راہل کا اہم کردار ہے۔ یہ اتحاد بھلے ہی بی جے پی کو اقتدار سے بے دخل نہ کرپایا ہو مگر اسے کامیابی تو شاندار ملی ہے۔ عوام نے اسے نوازا اَور شریک پارٹیوں  کی ہم آہنگی کو سراہا ہے۔ اب ضرورت ہے کہ راہل، جن کا قد تمام پارٹیوں  کی نگاہ میں  بڑھا ہے، اس اتحاد کو بچائے رکھنے میں  بھی اہم کردار ادا کریں ۔ مخالفین اس مقصد کے تحت الگ ماحول بنانے کیلئے کوشاں  رہیں  گے کہ ’’انڈیا‘‘ اتحاد کے بارے میں  غلط تاثر قائم ہو۔ مخالفین کی جانب سے یہ جنگ کبھی بھی چھیڑی جاسکتی ہے۔ اس سے متنبہ رہنے کی ضرورت ہے۔
 راہل نے نظریاتی بحث بار بار چھیڑی ہے۔ بار بار یہ بھی کہا ہے کہ گاندھی پر یقین رکھنے والی کانگریس کی جنگ گوڈسے پر یقین رکھنے والے آر ایس ایس اور بی جے پی سے ہے۔ کہنا اور خود کو اپنے نظریات پر راسخ رکھنا دو الگ باتیں  ہیں ۔ راہل کو بیانات پر اکتفا نہ کرتے ہوئے پارٹی میں  نظریاتی مضبوطی لانے کی فکر کرنی چاہئے تاکہ ادنیٰ کارکنان سے لے کر اعلیٰ لیڈران تک کوئی بھی نظریاتی سمجھوتہ کی جرأت نہ کرے۔ماضی میں  ایسا ہوا ہے، اب نہیں  ہونا چاہئے۔نظریاتی سمجھوتہ کی حالیہ مثالوں  میں  اُن لیڈروں  کا خیرمقدم شامل ہے جو بی جے پی کو چھوڑ کر کانگریس کے ساتھ آئے تھے۔اُن کا آنا کانگریس کیلئے سیاسی اعتبار سے فائدہ مند ہوسکتا ہے مگر نظریاتی اعتبار سے نہیں ۔ کیا کانگریس نے اُن سے پوچھا تھا کہ وہ جس پارٹی کو چھوڑ رہے ہیں  کیا اُس کے نظریات سے بھی پنڈ چھڑا رہے ہیں ؟ یقیناً نہیں  پوچھا ہوگا۔ یہ طرز عمل ٹھیک نہیں  ہے۔اسی طرح، جو کانگریسی ناراض ہوکر بی جے پی میں  چلا گیا تھا، کچھ عرصہ بعد واپس آنا چاہے تو اُصولاً اُسے پارٹی میں  جگہ نہیں  ملنی چاہئے کیونکہ اُس نے نظریات کی تحقیر کی تھی، مگر عملاً ایسا نہیں  ہوتا۔ کیا راہل سے اُمید کی جائے کہ وہ نظریات کے معاملے میں  اس حد تک حساس رہیں  گے؟
 یہ اور ایسے کئی معرکے ہیں  جو راہل گاندھی کو سر کرنے ہیں ۔ کھرگے کی قیادت میں  اُن کیلئے سفر آسان ہونا چاہئے کیونکہ موجودہ صدرِ کانگریس نے اس پارٹی کے ساتھ ایک عمر گزاری ہے۔ وہ کانگریس کے حقیقی نظریات کے پروردہ ہیں  ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK