Inquilab Logo Happiest Places to Work

انڈیا اتحاد کے اجلاس میں راہل کا خطاب

Updated: June 15, 2026, 12:47 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

راہل گاندھی کی وہ تقریر، جو انہوں نے ۸؍ جون کو انڈیا اتحاد کی میٹنگ میں کی، اس قابل ہے کہ اسے سنا جائے۔ یہ تقریر نہیں ایک درد مند دل کی پکار ہے۔

Rahul Gandhi.Photo:INN
راہل گاندھی۔ تصویر:آئی این این
راہل گاندھی کی وہ تقریر، جو انہوں نے ۸؍ جون کو انڈیا اتحاد کی میٹنگ میں کی، اس قابل ہے کہ اسے سنا جائے۔ یہ تقریر نہیں ایک درد مند دل کی پکار ہے۔ راہل  کی  ۸؍۹؍  منٹ کی تقریر ان ۸۰؍۹۰؍ منٹ کی تقریروں پر بھاری ہے جن میں الفاظ کا دریا بہتا ہے مگر ایک کوزہ پانی نہیں ملتا۔ راہل نے حلیف پارٹیوں کو، جو شاید ان پر یا کانگریس پر میٹنگ کے دوران تنقید کر چکی تھیں، سمجھایا کہ آپ مجھ پر تنقید کرسکتے ہیں، مجھ پر الزام بھی دھر سکتے ہیں، میں ہر طرح کا الزام اور دشنام سہنے کو تیار ہوں مگر خدارا حالات کے تیور کو سمجھئے۔ اگر بھرپور مزاحمت نہ کی گئی، حالات سے لوہا لینے کی نتیجہ خیز کوشش نہیں کی گئی اور جیسا اب تک چلتے تھے اب بھی ویسا ہی چلنا ہے تو معاف کیجئے حالات کا رخ موڑنا ممکن نہیں ہوگا۔ جب بیشتر ادارے اپنی اہمیت، معنویت، غرض و غایت اور تاریخی حقیقت بھول چکے ہیں، یہ ہم ہیں جنہیں یاد رکھنا ہوگا کہ نوشتہ دیوار بھی کوئی چیز ہے جسے پڑھنا دانشمندی ہے اور نہ پڑھنا عاقبت نا اندیشی۔ انگریزی میں کی گئی اس تقریر میں راہل کی، الفاظ پر گرفت مضبوط تھی، لہجہ میں اعتماد تھا، جملوں میں عزم و عمل کی چنگاریاں تھیں اور مایوسی نام کو نہیں تھی۔
 
 
ہوسکتا ہے بعض قارئین اسے کانگریس کی ستائش پر محمول کریں مگر یہ ستائش نہیں اظہار حقیقت ہے ورنہ ہم نے ان کالموں میں کئی بار کانگریس کے طرز عمل سے اختلاف کیا ہے۔ راہل گاندھی کی بھی گرفت کی ہے مگر ان کے جذبے کی صداقت کو ہمیشہ محسوس کیا ہے۔ یہ ان کا ایسا وصف ہے جس کا مخالفین بھی اعتراف کرتے ہیں۔  اس تقریر سے ان لیڈروں نے بھی اختلاف نہیں کیا جو وہاں موجود تھے اور ممکنہ طور پر جنہوں نے کانگریس کو مورد الزام ٹھہرایا تھا کہ اس نے انڈیا اتحاد کو مضبوطی عطا کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں لی۔ اگر راہل کی باتوں میں دردمندی نہ ہوتی اور مشترکہ خطرہ کے خلاف متنبہ کرنے کی کوشش نہ ہوتی تو قریب بیٹھے ہوئے لیڈران کچھ نہ کچھ ضرور کہتے۔ مگر سب نے راہل کو سنا اور آج تیسرا دن ہے جب اس تقریر کا آڈیو سوشل میڈیا پر آیا، کسی نے ان کی کسی بات کا نہ تو برا مانا نہ ہی اس پر ردعمل ظاہر کیا۔ اس سے، اس خیال کو تقویت ملتی ہے کہ بات جو دل سے  نکلی تھی، دل تک پہنچی۔ چونکہ ہم وہاں موجود نہیں تھے اور میٹنگ کا کوئی ویڈیو منظر عام پر نہیں ہے اس لئے مزید کچھ لکھنے سے قاصر ہیں ورنہ اتحادی لیڈروں بالخصوص اکھلیش اور تیجسوی کے چہرے کے تاثرات سے بہت کچھ سمجھا جا سکتا تھا۔
 
 
یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ آیا راہل کی اپیل کا کوئی فائدہ ہوگا مگر اس اپیل کو نظر انداز کرنے میں نقصان یقینی ہے۔ راہل نے جس ایک  لفظ پر اصرار کیا وہ ’’مزاحمت‘‘ہے جسے انہوں نے جدوجہد، احتجاج اور خود کو منوانے کے معنی میں استعمال کیا ہے۔ راہل نے تاریخی حوالوں سے کہا کہ کانگریس نے اس دور میں طویل مزاحمت کی اور کامیاب ہوئی جب کامیابی میں معاون بننے والے ادارے، جو موجودہ وقت میں غیر معاون بنائے جا رہے ہیں، موجود نہیں تھے۔ راہل نے سب کو ساتھ لے کر چلنے کے کانگریس کے عزم و ارادہ کا اظہار کیا مگر، ہمیں ایسا لگتا ہے کہ، بین السطور یہ پیغام بھی دیا کہ اگر آپ کو اب بھی پرانی روش پر قائم رہنا ہے تو یہ روش  مبارک، کانگریس جدوجہد آزادی کے دور سے روشنی حاصل کرتے ہوئے مزاحمت کی اسی راہ پر پوری قوت اور توانائی کے ساتھ گامزن ہوگی جس کے ذریعہ ماضی میں انگریزوں کا راج ختم کیا گیا تھا۔ اجلاس میں راہل نے الیکشن جیتنے کو مقصد نہیں بتایا بلکہ اتحاد مضبوط کرکے آئینی و جمہوری اداروں اور آئیڈیا آف انڈیا کی حفاظت پر زور دیا اور اس کیلئے مزاحمت اور جدوجہد کی راہ اپنانے کی صلاح دی۔ آئندہ دنوں میں شاید ہم دیکھ سکیں کہ اتحادیوں نے اس تقریر کا کتنا اثر لیا۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK