تعلیم وہی نہیں ہے جو اسکول میں ہوتی ہے۔ تعلیم وہ بھی ہے جو گھروں میں ہوتی ہے یا ہوسکتی ہے۔ اس کے لئے رمضان بہترین مہینہ ہے۔ اس ماہ میں بڑوں کے ساتھ بچے بھی روزہ رکھتے ہیں اور روزہ کی برکت سے وہ بھی کچھ سوچنے، سننے اور سمجھنے کے روادار ہوجاتے ہیں ۔
تعلیم وہی نہیں ہے جو اسکول میں ہوتی ہے۔ تعلیم وہ بھی ہے جو گھروں میں ہوتی ہے یا ہوسکتی ہے۔ اس کے لئے رمضان بہترین مہینہ ہے۔ اس ماہ میں بڑوں کے ساتھ بچے بھی روزہ رکھتے ہیں اور روزہ کی برکت سے وہ بھی کچھ سوچنے، سننے اور سمجھنے کے روادار ہوجاتے ہیں ۔ یہ ذہنی کیفیت تعلیم کے نقطۂ نظر سے بہت اہم ہے جب موبائل دُور اور گھر کے بڑے پاس ہوں ۔ سحری و افطار کا وقت تو سونے پر سہاگہ ہے۔ کتنے والدین اس کا خیال کرتے ہیں ؟ ہوسکتا ہے ہم غلط ہوں مگر اکثر گھروں میں سحری چند منٹ میں ختم ہوجاتی ہے اور ہماہمی افطار کے وقت کیلئے مخصوص ہے۔ یہ وقت اشیائے خوردونوش لانے، دسترخوان سجانے اور بار بار گھڑی دیکھنے یا اذان کی آواز پر کان لگائے رکھنے میں صرف ہوجاتا ہے۔
ہم یہ نہیں کہتے کہ افطار کی ہماہمی کم کردیجئے یا سحری کے بعد بچو ں کو لے کر لازماً بیٹھئے مگر ہم یہ ضرور کہیں گے کہ ان اوقات میں چونکہ بچے یکسو‘ ہوتے ہیں اس لئے اس کا فائدہ اُٹھانا چاہئے، طریقہ کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ عام دنوں میں بھی والدین اور گھر کے بڑوں کی کوشش ہونی چاہئے کہ وہ بچوں کو ساتھ لے کر اس طرح بیٹھیں کہ خود بھی موبائل کو دور رکھ دیں اور اُن سے بھی کہیں کہ وہ پندرہ منٹ کیلئے موبائل سے دستبردار ہوجائیں ۔ جب بچے قریب آکر بیٹھیں تب یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ یہ آپ کی تعلیم کا وقت ہے، اس لئے کوئی ایسی بات، کوئی ایسا نکتہ اُن کے سامنے پیش کیا جانا چاہئے جس سے اُن کی دلچسپی پیدا ہو۔ مثال کے طور پر، آپ کہہ سکتے ہیں کہ بچو، آپ کے کسی ساتھی یا ہم جماعت کو یہ علم نہیں ہوگا (کہ کلام پاک میں کتنی سورتیں ہیں ؟) یا کسی کو یہ معلوم نہیں ہوگا (کہ کتنے پارے ایسے ہیں جن کے نام کسی نبی کے نام پر رکھے گئے ہیں ۔) یا کوئی نہیں جانتا ہوگا کہ (فجر اور عصر کی باجماعت نماز کے بعد پیش امام صاحب دائیں جانب رُخ کرکے کیوں بیٹھتے ہیں جبکہ بقیہ تین نمازوں میں وہ ایسا نہیں کرتے۔)
یہاں ’’کسی ساتھی کو یہ علم نہیں ہوگا‘‘ اور ’’کسی کو معلوم نہیں ہوگا‘‘ اور ’’کوئی نہیں جانتا ہوگا‘‘ جیسے فقروں سے بچوں میں ایک طرح کا مسابقتی جذبہ پیدا ہوتا ہے کہ جو ہمیں بتایا جارہا ہے وہ کسی بھی دوسرے ہم جماعت کو نہیں معلوم ہے اور چونکہ انہیں بتایا جارہا ہے اس لئے اب اُنہیں دوسروں پر سبقت حاصل ہوگی۔ یہ تجربہ مائیں دن میں کئی بار کرتی ہیں کہ ’’بیٹا کھیر کھا لے ورنہ فلاں کو دے دوں گی۔‘‘ یہی تو مسابقت پیدا کرنے کا طریقہ ہے جس پر غیر دانستہ طور پر پہلے سے عمل ہورہا ہے۔ اب اسی کو منظم کرنے کی ضرورت ہے۔ اس نوع کے ابتدائی جملے یا فقرے اُنہیں متوجہ کرنے کیلئے کافی ہوسکتے ہیں ۔
گھر کی یہ تعلیم اس لئے ضروری ہے کہ آج کل کے بچوں کی دینی معلومات بہت کم ہے۔ اُن میں سے اکثر کو خلفائے راشدین یا اُمہات المومنین یا صحابہؓ یا تابعین کے نام معلوم نہیں ہیں ۔ اُنہیں بتائیے تاکہ اُن میں دلچسپی پیدا ہو اور آگے چل کر وہ تفصیلی معلومات حاصل کرسکیں ۔ والدین اور گھر کے بڑوں کو حکمت عملی کے طور پر سوالات کو یا سوال پوچھنے کے طریقے کو دلچسپ بنانا چاہئے کیونکہ جن بچوں کو سکھانا اور سمجھانا مقصود ہے وہ دلچسپی کے دریا بہا دینے والے شارٹس کے زمانے کی نسل ہیں ۔ شارٹس سے مقابلہ حکمت ہی کے ذریعہ ہوسکتا ہے ۔