علم اور تعلیم میں دراصل علم ہی اہم ہے۔ ہمارا دین بھی علم ہی کا علمبردار ہے۔ برِّ صغیر سے جب مسلمانوں کا تسلّط ختم ہوا اور میکالے کا نظام عام ہوا تب تعلیم نے علم کی جگہ لے لی۔
EPAPER
Updated: March 01, 2026, 11:43 AM IST | Mubarak Kapdi | Mumbai
علم اور تعلیم میں دراصل علم ہی اہم ہے۔ ہمارا دین بھی علم ہی کا علمبردار ہے۔ برِّ صغیر سے جب مسلمانوں کا تسلّط ختم ہوا اور میکالے کا نظام عام ہوا تب تعلیم نے علم کی جگہ لے لی۔
علم اور تعلیم میں دراصل علم ہی اہم ہے۔ ہمارا دین بھی علم ہی کا علمبردار ہے۔ برِّ صغیر سے جب مسلمانوں کا تسلّط ختم ہوا اور میکالے کا نظام عام ہوا تب تعلیم نے علم کی جگہ لے لی۔ تعلیم دراصل اسکولی یا اعلیٰ تعلیمی نظام کی نمائندگی کرنے والی ایک رسمی، نصابی، سرکاری یا نیم سرکاری نظام کا نام ہے جبکہ علم کی اصطلاح میں بڑی وسعت ہے کیوں کہ یہ نمائندگی کرتی ہے کسی بات کوسمجھنے ، جاننے، اُس پر اپنی رائے قائم کرنے اور اپنے شعور کو پختہ کرنے کے عمل کی اور اسی لیے تعلیم محدود ہے اور علم لامحدود۔
یہ بھی پڑھئے: آسام دل بدلی، یوگی-شنکراچاریہ تنازع اور تعلیمی نظام پر ایس سی تبصرہ سرخیوں میں
برِّ صغیر کے مسلم معاشرے میں دینی اجلاس کے انعقاد کی ایک روشن روایت رہی ہے۔ کیسی کیسی عظیم المرتبت شخصیات گزری ہیں جنہوں نے اپنے علم و عرفان سے لاکھوں بلکہ کروڑں ذہنوں کو منوّر کیا۔ اُن تاریخ ساز شخصیات نے فکری انقلاب بھی برپاکئے۔ گذشتہ دو صدیوں میں برِّصغیر کے مسلمانوں کی صرف ایک تحریک ایسی رہی جو نا قابل تلافی نقصان ثابت ہوئی اور وہ تھی تقسیم ہند کی تحریک۔انتہائی عاقبت ناشناس،جو شیلے اور جذباتی افراداُس غیر منطقی، غیر فطری اور غیر ذمہ دارانہ مطالبہ کیلئے ’ملّت بیداری‘ اجلاس میں پورے برِّصغیر میں جمع ہوتے تھے اور اس طرح وہ بھول جاتے تھے کہ اُنہوں نے کبھی پورے برِّصغیر پر ایک دو نہیں بلکہ سات صدیوں تک راج کیاتھا۔
آزادیٔ ہند کے بعد جب ملک کا منظر نامہ مکمل طور پر تبدیل ہو ا تب بھی مسلم معاشرے میں بیداری کے اجلاس منعقد ہونے لگے۔ اُن میں دینی بیداری کے سنجیدہ اجلاس بھی شامل رہے البتہ افسوس یہ ہے کہ اب اکثر اجلاس سیاست دانوں کے اسپانسر کئے ہوتے ہیں۔ اسلئےجب جب کوئی الیکشن قریب آتا ہے ، ہمارے کچھ بڑے میدان میں اُترتے ہیں اور’ ملّت بچائو کانفرنس‘،’اقلیتی حقوق کا نفرنس‘ وغیرہ برپا کرتے ہیں۔ ان تمام ملک گیر اجلاس میں ہمارے یہاں چند چیزیں مشترک ہیں: (الف) لگ بھگ سارے مقررین اقبال کا شکوہ و جوابِ شکوہ رُک رُک کر سناتے ہیں تاکہ درمیان میں فلک شگاف نعرے لگتے رہیں۔ یا(ب ) یہ کہتے ہیں کہ ہم کومٹا سکے یہ زمانے میں دم نہیں۔ یا (ج) یونان و مصرو روما.... وغیرہ وغیرہ۔
یہ بھی پڑھئے: معاشیانہ: ہندوستانی سنیما کا بدلنا رجحان؛ اب ہدایت کار ہیں ’اسٹار‘
یہ معاملہ رہا گزشتہ لگ بھگ دو صدیوں میں ہمارے معاشرے کی مختلف نوعیتوں کے اجلاس کا۔ اب گزشتہ نصف صدی میں ان میں تعلیمی رہنمائی اجلاس کا اضافہ ہوا۔ محکمۂ تعلیم کے تجویز کردہ کچھ نصابی اجلاس کا اہتمام ہوا کرتا تھا البتہ طلبہ و والدین میں بیداری اور رہنمائی کیلئے کوئی نظم نہیں تھا۔ ہندوستان میں کریئر یا ووکیشنل گائیڈنس کا باضابطہ نظم ۱۹۱۱ء میں پارسی پنچایت نے کیا، جس کو۱۹۳۷ء میں سنگھ پریوار نے اپنایا اور لگ بھگ نصف صدی پہلے ۱۹۷۸ء میں مسلمانوں میں شروع ہوا۔ مسلمانوں میں نصف صدی سے جاری ان تعلیمی اجلاس کی نوعیت یا ہیئت کچھ اس طرز کی تھی:
(۱)تعلیم کیوں؟ جی ہاں جس قوم کی آخری کتاب کے ۶۳۴۸؍احکامات میں اوّلیت’اقراء‘ کو حاصل ہو، جس کو اُسی کتاب میں یہ کہا گیا ہو کہ علم والے اور بغیر علم والے برابر نہیں ہو سکتے۔ جو قوم سارے علوم میں صدیوں تک بلا شرکت غیرے اِمام رہی اُس قوم کو ’علم کیوں حاصل کریں‘ یہ سمجھانا پڑتا تھا۔
(۲) کون سی تعلیم؟ دینی یا دنیاوی؟ اُس کے بعد کم و بیش ۳۰؍ منٹ تک ہمیں یہ سمجھانا پڑتا کہ یہ دینی و دنیاوی علم کا بٹوارہ ہی غلط ہے۔ قرآن میں صرف علم نافع کا ذکرہے یعنی انسانیت کو نفع پہنچانے والا علم اورپھر قرآن کے بیسوں حوالوں کے ساتھ ہمیں بتانا پڑتا کہ دین کی روشنی میں ہمیں تمام تر عصری علوم حاصل کرنے ہیں۔ کچھ لوگ ڈاروِن کی تھیوری پر اٹک جاتے، ان کی گاڑی کو منطقی دلائل سے ری اِسٹارٹ کرنا پڑتا تھا۔
(۳) کہاں سے اور کیسے تعلیم؟ اب طلبہ و والدین کو مختلف کورسیز وکر یئرس کی تفصیل بتائی جاتی جو اسکول کے امتحان میں نمایاں کامیابی کے بعد اُنہیں دستیاب ہیں۔۴۔۵؍ دہائی قبل طلبہ و والدین کوکریئرس کے تعلق سے کوئی جانکاری نہیں ہوتی تھی۔ وہ یا تو اپنے رشتہ داروں کی نقل کرتے، انتہائی غلط اور غیر موزوں کورسیز کا انتخاب کرتے، خلیجی ممالک کے چھوٹے موٹے کریئرس کے ہتھے چڑھتے، راتوں رات بڑا بننے کی دوڑ میں شامل ہوجاتے وغیرہ وغیرہ۔
یہ بھی پڑھئے: میرے دادا مرغ پالتے، انہیں بادام، پستہ کھلاتے اور مرغوں کے مقابلوں میں لڑاتے تھے
(۴) کس طرح تعلیم؟ اب طلبہ و والدین کی یہ رہنمائی کی جاتی کہ اُن کریئرس کو اپنانے کے کیا تقاضے ہیں۔ کیا ضروری ہے اُن کیلئے، کیا قربانی دینی ہے ، کتنا صبر کرنا ہے۔ اپنے کر یئر کو زیادہ مفید، زیادہ جا ذب بنانے کے لئے کن کن مراحل سے گزرنا ہے۔
یہ اُس دَور کے تعلیمی رہنمائی اجلاس کا منظر نامہ تھا جب اسمارٹ فون نہیں تھا۔ دراصل اس دنیا کے تعلیمی، سماجی، معاشی و فکر ی محاذ کو اب ہم دو دَور میں تقسیم کرسکتے ہیں: اسمارٹ فون/اے آئی سے پہلے کا دَور اور اُس کے بعد کا دَور !
آج سے۴۰۔۵۰؍ سال پہلے کا مسلمانوں کا تعلیمی منظر نامہ یہ تھا:(الف) بڑے گھر کے بچّے پڑھتے تھے (ب) عام گھروں سے بچّے ایس ایس سی تک تعلیم حاصل کرتے تھے (کہیں کہیں تو۵۰؍ فیصد تک ترک تعلیم بھی کر دیتے تھے)(ج) پاس طلبہ میں سے اکثر خلیجی ممالک میں کوئی ملازمت حاصل کرنے کا خواب دیکھتے تھے۔ (د) مغربی ساحل (کو کن سے کیرالا) کے مسلم گھروں میں مرچنٹ نیوی میں ملازمت حاصل کیا جاتا تھا (و)نفسانفسی کا عالم یہ تھا کہ جن کے پاس کر یئرس کی معلومات تھی وہ اپنے بچّوں کے علاوہ کسی کے ساتھ بانٹنے کو تیار نہیں تھے (ہ) اسکول کے بورڈ کے امتحان میں نمایاں ترین کامیابیاں حاصل کرنے والے لاکھوں طلبہ کا ٹیلنٹ مسلسل ضائع ہوتا رہا مگر حکومتی اداروں یا وزارت تعلیم نے اس جانب کوئی مثبت پروگرام مرتّب نہیں کیا اور ہر سال ہمارے لاکھوں طلبہ بے سہارا اور بے آسرا زندگی کی دھارا سے کٹتے گئے۔اس گھٹاٹوپ اندھیرے میں لگ بھگ نصف صدی قبل تعلیمی آگہی و بیدار ی کے اجلاس نے ہماری قوم کے نوجوانوں میں خود اعتمادی اور زندگی میں کامیابی کی بلندترین چوٹیوں پر بھی اپناپرچم لہرانے کی خواہشیں جاگیں، یہ صد فی صد حقیقت ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ورلڈ این جی او ڈے: ہماری تنظیمیں حقیقی این جی او کے معیار پر کیسے پورے اتریں؟
معاشرے کا منظر نامہ البتہ اسمارٹ فون اور اے آئی کے بعد تبدیل ہوا ہے۔ اب بے پناہ معلومات کے ذرائع گوگل اور موضوعی ذہانت کے ذریعے دستیاب ہیں۔ اب کسی ایک کورس یا کریئر کی معلومات حاصل کرنے کیلئے ایک نوجوان اپنے اسمارٹ فون کااسکرین ٹچ کرتا ہے تو اس کے سامنے معلومات کی برسات ہو جاتی ہے لہٰذا اب ہمیں ہمارے تعلیمی بیداری کے اجلاس کی سمت،ساخت ،شکل وصورت اور ڈھانچے کو تبدیل کرنا ہے۔
اب ہمارے تعلیمی بیداری اجلاس برائے طلبہ و والدین کا خد و خال کچھ اس طرح ہوناچاہئے:
(۱) گفتگو کا آغاز علم کی اہمیت دین حق کے حوالے سے ہو۔
(۲) جدید ٹیکنالوجی اور ہُنر کو کیوں اور کیسے اپنایا جائے اِس پر کم و بیش ۳۰؍منٹ گفتگو ہو۔
(۳)پروفیشنل تعلیم کو زیادہ پائیدار بنانے، کمیونی کیشن اور انٹرویو نیز گروپ ڈِسکشن پر ۳۰؍منٹ ہو۔
(۴) اب اپنے تعلیمی اجلاس کاپو را رُخ اُس جانب موڑ دیجئے جہاں پو را تعلیمی نظام خاموش ہے۔
موجودہ تعلیمی نظام سے مکالمہ کیجئے ، وہ کہتا ہے : بچّوں کو سائنس پڑھائو، جغرافیہ، کمپیوٹرس، ریاضی.... ’’قدریں؟‘‘ ’’گھر میں پڑھو‘‘ ’’بڑوں کا ادب؟‘‘ گھر کا مضمون ہے‘‘ ’’ماں باپ کی خدمت؟‘‘ ’’گھر میںسیکھو‘‘، ’’پڑوسی کے حقوق ؟‘‘ ’’اسکول میں یہ سب سکھانے کیلئے کوئی گنجائش نہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: خراب ہوتی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے درمیان ’محمد دیپک‘ کا بھائی چارگی کا اعلان
حضرات و خواتین ، وقت آگیا ہے ہمیں اپنی بنیادوں کی طرف واپس آنے کا۔ معلومات کا ایک خزانہ ہر نوجوان اپنی جیب میں لئے پھر رہا ہے اور وہ کسی نیو کلیائی بم سے کم بھی نہیں ہے۔اسلئے اب صرف کریئرس یا پیکیج اور بینک بیلنس کے محاذ پر جنونی کیفیت کو ختم کر دو اور ان تعلیمی اجلاس کو اوپن کلاس روم میں تبدیل کرو اور وہاں ہمارے نوجوانوں کو قدریں، اخلاقیات ، زبان، ثقافت ،اور ہر اُس جانب لے آئو جو نصاب میںشامل ہی نہیں۔ فائیوجی سے خطرناک دَور آنے والا ہے، سماج کو سنبھالو، معاشرے کی فکر کرو،نوجوان ٹوٹ رہا ہے، توازن بگڑ رہا ہے، اے آئی اور الگورتھم کے شور شرابے میں بھی اشہد ان لاالہ اِلااللہ کی آواز بلند ہونے دو۔