امریکن چیمبر آف کامرس کی ایک کانفرنس میں وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل نے انکشاف کیا کہ پچھلے چھ مہینوں میں امیزون، گوگل اور ایسی ہی دیگر کمپنیوں نے ہندوستان میں ۶۰؍ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہامی بھری ہے۔
امریکن چیمبر آف کامرس کی ایک کانفرنس میں وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل نے انکشاف کیا کہ پچھلے چھ مہینوں میں امیزون، گوگل اور ایسی ہی دیگر کمپنیوں نے ہندوستان میں ۶۰؍ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہامی بھری ہے۔ یہ اچھی بات ہے مگر کیا متعلقہ کمپنیاں اپنا وعدہ وفا کریں گی؟ اس سوال کا جواب فوری طور پر مل جائے اس کی توقع تو سوال کرنے والے کی جانب سے زیادتی ہوگی مگر چھ ماہ بعد اگر وزیر ِموصوف نے یہ بتانے کی زحمت نہ کی کہ پورے ۶۰؍ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوچکی ہے یا نہیں تو یہ اُن کی جانب سے زیادتی ہوگی۔ امریکی ٹیک فرموں کی ہندوستان میں سرمایہ کاری کی اطلاع پر ہمیں اس لئے شبہ ہے کہ جن سرمایہ کاروں نے ماضی میں ہندوستان میں پیسہ لگایا تھا اُنہوں نے اس قدر سرمایہ واپس لیا ہے کہ یقین نہیں آتا۔ہندوستان کو زرخیز ملک سمجھ کر سرمایہ لگانا اور پھر بے تحاشا واپس لے جانا عجیب رجحان ہے۔ کیا اُن کے خیال میں ہندوستان کی زرخیزی کم ہوگئی؟ کیا ہندوستان میں اب اُتنا منافع ممکن نہیں ہے جتنا دیگر ملکوں میں ملنے کی اُمید دن کے دلوں میں گھر کرگئی ہے؟
نہ صرف بیرونی سرمایہ کار بلکہ ہندوستانی سرمایہ کار بھی یہاں سے پیسہ نکال رہے ہیں ۔پچھلے صرف دو مہینوں میں بیرونی سرمایہ کاروں نے ہندوستانی مارکیٹ سے ۲۱؍ ارب ڈالر واپس لئے ہیں ۔ روپوں میں یہ رقم ۲؍ لاکھ کروڑ کے مساوی ہے۔ بازار پر گہری نگاہ رکھنے والے بتاتے ہیں کہ ۱۹۹۳ء میں ہندوستان کا بازار کھلنے کے بعد سے یہ پہلا موقع ہے جب اتنے کم وقت میں اتنی بڑی رقم واپس لی گئی۔ اس سے قبل کی خبروں میں نسبتاً زیادہ دورانیہ کے اعدادوشمار سے بھی اسی رجحان کا علم ہوا تھا۔ مارچ ۲۶ء میں بتایا گیا تھا کہ غیر ملکی سرمایہ کاروں نے ہندوستان سے ۸۸؍ ہزار کروڑ روپے کا سرمایہ نکالا ہے۔
اس کی وجہ اگر ایران جنگ، اس کے معاشی اثرات اور اے آئی میں پیسہ لگانے کی ہوڑ ہے جس کے سبب امریکہ میں سرمایہ کاری بڑھ رہی ہے تو روپے کی کم ہوتی قیمت بھی ہے۔ روپیہ جس تیزی سے گرا اور گرتا چلا جارہا ہے اس کی وجہ سے بھی کافی فرق پڑا ہے۔ چونکہ سرمایہ کاروں کا ایک ہی مقصد ہوتا ہے منافع، اس لئے جہاں زیادہ منافع کی اُمید ہوتی ہے وہ وہاں پیسہ لگاتے ہیں ۔ اُنہیں کسی ملک سے دلچسپی نہیں ہوتی۔ اس لئے ان سے گلہ کرنا بے معنی ہے۔ البتہ حیرت ہندوستانی سرمایہ کاروں پر ہے۔ بلاشبہ انہیں بھی منافع سے دلچسپی ہے مگر ان میں اتنی مروت تو ہونی چاہئے کہ جہاں سے کمایا ہے وہاں اپنے سرمائے کا کچھ حصہ لگا رہنے دیں ۔ ان میں وہ لوگ بھی ہیں جو پیسہ ہی نہیں نکال رہے ہیں ، خود بھی نکل جارہے ہیں ۔ اس کا معنی یہ ہے کہ یہاں کا کمایا ہوا پیسہ نکال کر وہاں لگا رہے ہیں جہاں سے اب تک اُن کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ کم معروف صنعت کاروں یا سرمایہ کاروں کی بات نہ کرتے ہوئے اگر ملک کے ممتاز اور بے حد معروف صنعتکاروں کی بات کی جائے تو امبانی اور اڈانی جیسے لوگ بھی امریکہ میں پیسہ لگانے کی راہ پر ہیں ۔
رواں مہینے کے پہلے ہفتے میں امریکی سفارتخانے نے اعلان کیا کہ ہندوستانی کمپنیاں کئی امریکی شعبوں میں کم و بیش ۲۰؍ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا ارادہ رکھتی ہیں ۔ ایک طرف امریکہ کا گن گان ہے تو دوسری طرف یہ صورتحال کہ کل تک جو عالمی ادارے ہندوستان کو تیز ترین معیشت اور تیزی سے وسیع ہوتا صارف بازار کہتے تھے آج اسے کمتر فی کس آمدنی (۳؍ ہزار ڈالر کے نیچے) والا ملک کہہ رہے ہیں ۔ کیا یہ حالات کو دیکھ کر رنگ بدلنے والی کیفیت نہیں ہے؟کیا حکومت کو فوراً حرکت میں نہیں آنا چاہئے؟