اس دعا میں کہیں کسی طرح بھی مذہب کا حوالہ نہیں ہے ، اس کے باوجود تین اساتذہ پر مذہبی سرگرمیوں کو فروغ دینے کا الزام لگاتے ہوئے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ کاش ایسا کرنے پہلے یہ تو غور کیا جاتاکہ اردو فراقؔ، چکبستؔ اور ساورکر کی بھی زبان ہے۔
اخبارات میں یہ خبر شائع ہوئی ہے کہ سنبھل (یوپی) کے جالب سرائے کے ’پی ایم شری سرکاری اسکول‘ کے تین اساتدہ کو ’’لب پہ آتی ہے دعا‘‘ پڑھانے پر معطل کر دیا گیا ہے اور ان کے خلاف ایف آئی آر بھی درج ہوئی ہے۔ الزام ہے کہ فروری کے مہینے سے اسکول میں مذہبی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے ساتھ دوسرے مذاہب پر توہین آمیز تبصرے بھی کئے جارہے تھے۔ ہم کسی بھی مذہب حتیٰ کہ معبودانِ باطل کی بھی توہین کے خلاف ہیں اور ہمیں یہ بھی نہیں معلوم کہ سنبھل کے اسکول میں کیا ہوا؟ ہاں پورے وثوق کے ساتھ یہ کہتے ہیں کہ اقبال کی دعا میں ایک حرف بھی ایسا نہیں ہے جس سے مذہب یا معبود کی توہین ہوتی ہو۔ اس میں ایک بچے کی زبان پر صرف یہ دعا رکھی گئی ہے کہ ’’زندگی شمع کی صورت ہو ، مرے دم سے دنیا کا اندھیرا دور ہوجائے، ہر جگہ میرے چمکنے سے اجالا ہو اور جس طرح پھول سے چمن کی زینت ہوتی ہے مجھ سے بھی میرے وطن کی زینت میں اضافہ ہو۔‘‘ دوسرے بند میں علم کی معرفت، دین دکھیوں کے کام آنے، بیماروں اور بوڑھوں سے محبت کرنے کی تمنا اور اللہ سے یہ دعا کی گئی ہے کہ اللہ برائی سے بچائے اور نیک راہ پر چلائے۔ نیک راہ کا بھی تعین نہیں ہے۔ نظم بھی ماخوذ یعنی کسی کے خیال کی ترجمانی ہے۔ اس پر کیسے یہ الزام لگایا جاسکتا ہے کہ اس سے مذہبی منافرت پھیلتی ہے؟ اللہ کے لئے بھی خدا کا استعمال ہوا ہے جو فارسی کا لفظ ہے۔ یہ سب اس لئے بھی پیدا ہورہا ہے کہ ہم اپنے تہذیبی سرمایہ اور اس کے صحیح مفہوم سے واقف ہیں نہ نئی نسل کو واقف کرانے کی کوشش کررہے ہیں ۔ دوچار اسکولوں میں تہذیبی سرگرمیاں جاری تھیں بھی تو بند ہوگئی ہیں کیونکہ اداروں کے سربراہوں کی تمام تر توجہ خوشامدی پیدا کرنے میں ہے۔ باقی لوگ اسٹیج پر آنے کے لئے وہ وہ سازشیں کرتے ہیں کہ اللہ کی پناہ، حالانکہ وہ خوب جانتے ہیں ان کے دل میں جو تمنا جاگ رہی ہے اس کے وہ اہل نہیں ہیں ۔
جو اہل ہیں وہ بتا سکتے ہیں کہ بچے نے شمع کی صورت میں ہی روشن ہونے کی تمنا کیوں کی ہے کیونکہ شمع کی روشنی ہوتی ہی ہے کتنی دیر اور دُور کے لئے؟ شمع تو زیادہ سے زیادہ کسی کمرے کے گوشے کو منور کرتی ہے کیونکہ اس کی روشنی کا دائرہ بہت چھوٹا ہوتا ہے اور وہ بھی چند گھنٹوں کیلئے۔ ایک چاند، سورج ، ستارے اور مصنوعی سیارے تو شمع سے زیادہ اور دور تک روشنی ڈالتے ہیں ۔ راقم بہت کم علم ہے اور وہ یہ بھی تسلیم کرتا ہے کہ اقبال بہت ذی علم تھے اور کئی لفظ اسی مفہوم میں اس طرح استعمال کرسکتے تھے کہ مصرع کی موزونیت پر فرق نہ پڑے۔ نجم، ماہ، چاند، مہر وغیرہ ایسے الفاظ ہیں جو ذروں کو تابناک بناتے ہیں ۔ ان کے علاوہ بحر، نہر، آب، چاہ، باد، خاک ایسے الفاظ ہیں جو زندگی کو بامعنی بناتے ہیں ۔ یہ بحر میں بھی ہیں ، ان کے استعمال سے مصرع کے ناموزوں ہوجانے کا خطرہ بھی نہیں تھا، اس کے باوجود: ’’ مَیں نے سیارے تراشے ہیں چراغِ شام سے‘‘ کہے جانے والے دَور میں اقبال نے لفظ ’’شمع‘‘ کا استعمال کیا ہے تو اس کا ایک خاص مفہوم ہے۔ یہ کہنا درست نہیں کہ اقبال نے ضرورت ِ شعری کے تحت یہ لفظ استعمال کیا ہوگا۔ وہ بآسانی سے کہہ سکتے تھے:
l زندگی نجم کی صورت ہو خدایا میری
l زندگی ماہ کی صورت ہو خدایا میری
l زندگی چاند کی صورت ہو خدایا میری
l زندگی مہر کی صورت ہو خدایا میری
نجم یعنی ستارہ بھٹکے مسافروں کو راہ دکھاتا ہے ، اندھیری راہ کو خوشگوار بناتا ہے۔ماہ یا چاند جب روشنی بکھیرتا ہے تو شبنمستاں بھی منور ہوتا ہے اور شمشان و قبرستان بھی۔ حفیظ جونپوری نے کہا ہے کہ:
دن میں اک نور برستا ہے مری تربت پر
رات میں چادر مہتاب تنی ہوتی ہے
چکبست نے ’’رامائن کا ایک سین‘‘ میں چاندنی یا چاند کی روشنی کا استعمال اس ہنسی کے لئے کیا ہے جو دکھ کو چھپانے کے لئے جبراً لبوں یا چہرے پر لائی گئی ہوں :
چہرہ پہ یوں ہنسی کا نمایاں ہوا اثر
جس طرح چاندنی کا ہو شمشان میں گزر
مہر (سورج) تو کاروانِ زندگی کو رواں دواں اور ذرہ ذرہ کو منور کرتا ہے ،مگر اقبال نے ان میں سے کوئی لفظ نہ استعمال کرکے شمع کا لفظ نظم کیا ہے۔ افادیت کو مدنظر رکھیں تو اقبال کہہ سکتے تھے کہ:
l زندگی آب کی صورت ہو خدایا میری
l زندگی چاہ کی صورت ہو خدایا میری
l زندگی نہر کی صورت ہو خدایا میری
l زندگی بحر کی صورت ہو خدایا میری
l زندگی باد کی صورت ہو خدایا میری
l زندگی خاک کی صورت ہو خدایا میری
آب یا پانی جو نہر، بحر، چاہ سے دستیاب ہوتا ہے، پیاس بجھانے کے علاوہ غلاظت صاف کرنے کے بھی کام آتا ہے۔ اسی طرح باد (ہوا) نشوونما اور فرحت کی ضامن ہے۔ باد آکسیجن بھی ہے اور خاک یعنی مٹی، مکان اور راستے بنانے کے علاوہ پھل پھول اگانے اور یہ یاد دلانے میں بھی معاون ثابت ہوتی ہے کہ ہمیں اسی مٹی میں ملنا ہے یعنی خاک انجام کے ساتھ فروتنی بھی سکھاتی ہے۔ مگر اقبال نے ان میں سے کوئی لفظ استعمال نہیں کیا ۔ انہوں نے استعمال کیا ہے ’’شمع۔‘‘ اس لئے کہ شمع علامت ہے حرارت و روشنی اور زندگی کی، شمع علامت ہے علم سے بہرہ ور ہونے اور جہل و تاریکی و توہم سے نجات پانے کی اور شمع علامت ہے تہذیب بلکہ اس تہذیب کی جو فنا ہوکر بقا کا راز سمجھاتی ہے۔ اس میں کہیں کسی طرح بھی مذہب کا حوالہ نہیں ہے، اس کے باوجود تین اساتذہ پر مذہبی سرگرمیوں کو فروغ دینے کا الزام لگاتے ہوئے ان کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئی ہے تو بس یہی کہا جاسکتا ہے کہ
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے
ایف آئی آر درج کرنے سے پہلے یہ تو غور کرنا چاہئے تھا کہ اردو فراقؔ، چکبستؔ اور ساورکر کی بھی زبان ہے۔