شیئرز کی طرح اب ممبئی کی بارش کی بھی ٹریڈنگ ہوگی، یکم جون سے اس’ ویدر ڈیریویٹیو کانٹریکٹ ‘ کا کاروبار ہوگا۔
EPAPER
Updated: May 22, 2026, 1:29 PM IST | New Delhi
شیئرز کی طرح اب ممبئی کی بارش کی بھی ٹریڈنگ ہوگی، یکم جون سے اس’ ویدر ڈیریویٹیو کانٹریکٹ ‘ کا کاروبار ہوگا۔
ممبئی کی بارش کو اکثر ایک آفت کے طور پر دیکھا جاتا ہے، کیونکہ ملک کی معاشی راجدھانی بارش کی وجہ سے تقریباً تھم جاتی ہے۔ لیکن اب اس بارش کی پہچان بدلنے والی ہے۔ اب اس بارش کو سونے، چاندی اور شیئرز کی طرح ایک قیمتی کموڈیٹی مانا جائے گا، اور ہر بوند پر داؤ لگایا جائے گا۔
ملک کے بڑے کموڈیٹی ایکسچینج’این سی ڈی ای ایکس‘نے یکم جون سے ملک کا پہلا ایکسچینج ٹریڈیڈ ویدر ڈیریویٹیو کانٹریکٹ لانچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ کانٹریکٹ ممبئی میں ہونے والی بارش کے اعداد و شمار پر مبنی ہوگا۔
ویلیو کیسے طے ہوگی؟
رپورٹ کے مطابق یہ ایک کیش سیٹلڈ فیوچرز کانٹریکٹ ہوگا۔ اس کی ویلیو انڈیا میٹریولوجیکل ڈپارٹمنٹ کے رین فال ڈیوی ایشن ڈیٹا کی بنیاد پر طے کی جائے گی۔ یعنی مجموعی طور پر ممبئی میں معمول سے زیادہ یا کم بارش ہونے پر ٹریڈرز اور کمپنیاں داؤ لگا سکیں گی۔
یہ بھی پڑھئے: ماہرین کے مطابق ڈالر کے مقابلے روپیہ ۱۰۰؍ کے پار جا سکتا ہے
یہ کانٹریکٹ خاص کیوں ہے؟
ممبئی میں ہر سال مانسون کے دوران شدید بارش ہوتی ہے۔ اس کی وجہ سے نہ صرف عام لوگ مشکلات کا سامنا کرتے ہیں بلکہ ٹرانسپورٹ، سپلائی چین، تعمیرات اور کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوتی ہیں۔ اس سے کمپنیوں کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوتا ہے، اور اس نقصان پر کسی کا کنٹرول بھی نہیں ہوتا۔ ایسے میں این سی ڈی ای ایکس پر موسم کی وجہ سے ہونے والے نقصان سے بچنے کے لئے فنانشل ہیجنگ کی جا سکے گی۔
کن شعبوں کو فائدہ ہوگا؟
ٹریڈنگ تو کوئی بھی کر سکتا ہے، لیکن این سی ڈی ای ایکس کے مطابق زراعت، لاجسٹکس، تعمیرات، پاور اور بینکنگ سیکٹر اس پروڈکٹ کو خاص طور پر ہیجنگ کیلئے استعمال کر سکیں گے، کیونکہ یہ شعبے موسم کے اثرات کے حوالے سے کافی حساس ہوتے ہیں۔
ویدر ڈیریویٹیو کیسے کام کرے گا؟
اگر کسی کمپنی کو خدشہ ہے کہ زیادہ بارش سے اس کا کاروبار متاثر ہو سکتا ہے، تو وہ اس کانٹریکٹ کے ذریعے اپنے ممکنہ نقصان کو ہیج کر سکے گی۔ دوسری طرف ٹریڈرز بارش کی پیش گوئی کی بنیاد پر منافع کمانے کے مواقع تلاش کر سکیں گے۔
یہ بھی پڑھئے: ملک ایل پی جی سپلائی کے بحران سے دوچار؟
دنیا کے کئی ممالک میں درجہ حرارت اور بارش پر مبنی ڈیریویٹو پہلے سے ٹریڈ ہوتے ہیں، لیکن ہندوستان میں یہ پہلی بار ہوگا کہ بارش کو براہِ راست ایک قابلِ تجارت کموڈیٹی کا درجہ دیا جائے گا۔
کمزور مانسون کی تشویش کے درمیان لانچ
ہندوستان اس وقت شدید گرمی کی لہر (ہیٹ ویو) کا سامنا کر رہا ہے۔ خاص طور پر’ ال نینو‘ کے باعث ۲۰۲۶ء میں معمول سے کم مانسون کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ ایسے میں’ویدر ڈیریویٹیوز کم بارش کے خطرات کو سنبھالنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔این سی ڈی ای ایکس نے اپنی اس نئی پیشکش کو سوشل میڈیا پر بھی پروموٹ کیا ہے۔اس کی تشہیری مہم ’TradeRain‘کافی موضوعِ بحث بنی ہوئی ہے۔ اس کے لیے کمپنی نے ایک دلچسپ ٹیگ لائن بھی دی ہے:’’کسی کیلئے یہ صرف بارش ہے، لیکن کسی کیلئے یہ ایک موقع ہے۔‘‘