Inquilab Logo Happiest Places to Work

سنگھانیہ: کمپلیٹ مین، اِن کمپلیٹ لائف

Updated: March 31, 2026, 11:16 AM IST | Inquilab News Network | Mumbai

ہندوستانی صنعتکاروں میں جو نام نمایاں رہے ہیں اُن میں سے ایک وجے پت سنگھانیہ کا ہے جنہوں نے تین روز قبل ممبئی میں ۸۷؍ سال کی عمر میں آخری سانس لی۔ اُن کی کمپنی ’’ریمنڈ‘‘ سے ہر خاص و عام واقف ہے۔

Vijaypat Singhania.Photo:INN
وجے پت سنگھانیہ۔ تصویر:آئی این این
ہندوستانی صنعتکاروں میں جو نام نمایاں رہے ہیں اُن میں سے ایک وجے پت سنگھانیہ کا ہے جنہوں نے تین روز قبل ممبئی میں ۸۷؍ سال کی عمر میں آخری سانس لی۔ اُن کی کمپنی ’’ریمنڈ‘‘ سے ہر خاص و عام واقف ہے۔ اس کمپنی کا تیار کردہ کپڑا اُس دور میں ممتاز ہوا جب کپڑا ملیں تو بہت تھیںملک بھی اس صنعت میں کافی آگے تھا، مگر تشہیری مہم کے ذریعہ کسی پروڈکٹ کو برانڈ میں تبدیل کرنے کا رواج تب تک نہیں تھا۔ ریمنڈ نے ’’دی کمپلیٹ مین‘‘ کے نعرہ کے ساتھ مردانہ کپڑا مارکیٹ کو گویا نیا خواب دکھایا تھا۔ 
یہ ہندوستان میں صارفیت کا اولین دور تھا جس کے پہلے تشہیری مہم بھی نہایت گھریلو نوعیت کی ہوتی تھی مگر ’’کمپلیٹ مین‘‘ نے ملک کے اُس طبقے میں، جو اچھا کھانے اور اچھا پہننے کی استطاعت رکھتا تھا، برانڈ کے ساتھ اپنی پہچان کرنے کی خواہش پیدا کی۔ اِس دور تک تیار شدہ ملبوسات (ریڈی میڈ) کے بازار نے زور نہیں پکڑا تھا۔ وجے پت سنگھانیہ نےریمنڈ کمپنی کو جو ۱۹۲۵ء میں البرٹ ریمنڈ نے قائم کی تھی، ۱۹۸۰ء میں خریدا اور ریمنڈ لمیٹیڈ میں تبدیل کرکے اس کے چیئرمین اور ایم ڈی بنے۔ وجے پت کے والد اور دادا کانپور کے بڑے تاجروں میں سے تھے۔ وجے پت کی ابتدائی اور ثانوی تعلیم کانپور ہی میں ہوئی، بعد ازیں وہ ممبئی آئے اور سڈنہم کالج سے بی کام کی ڈگری حاصل کی۔ قابل ذکر ہے کہ خاندانی تجارت میں شامل ہونے سے پہلے اُنہوں نے جمنا لال بجاج انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ میں بحیثیت پروفیسر خدمات انجام دی تھیں۔ 
 
 
وجے پت سنگھانیہ کی سب سے خاص بات خطرہ مول لینے کی وہ عادت تھی جس نے اُنہیں اُس دور میں بھی شہرت دلائی جب ذرائع ابلاغ کی آج جیسی وسعت نہیں تھی۔ وجے پت سنگھانیہ تب سرخیوں میں تھے جب اُنہوں نے ۵؍ ہزار گھنٹوں کی فضائی پرواز کا ریکارڈ بنایا تھا۔ اس شہرت میں تب بھی چار چاند لگے جب اُنہوں نے مائیکرولائٹ ایئرکرافٹ کے ذریعہ کم و بیش ۵؍ ہزار میل کا لندن تا ممبئی تنہا سفر کیا تھا۔ گرم ہوا کے غبارہ کا کارنامہ (ورلڈ ریکارڈ) بھی اُن کے نام ہے۔ اس غبارہ کے ذریعہ اُنہو ںنے فضا میں ۶۹؍ ہزار فٹ بلندی کا سفر کیا تھا جبکہ اُس وقت اُن کی عمر ۶۷؍ سال ہوچکی تھی۔ کپڑا صنعت میں اعلیٰ کوالیٹی کے ذریعہ ریمنڈ کو ملک کا اہم برانڈ بنانے اور پھر اسے بیرون ملک لے جانے کے باوجود وجے پت سنگھانیہ کی ایویئیشن (ہوا بازی) سے دلچسپی اور اس میں نام کمانا اُن کے مہم جویانہ مزاج کا نتیجہ تھا۔ 
 
 
وجے پت سنگھانیہ کو متعدد اعزازات ملے، مثلاً ۲۰۰۵ء میں ممبئی کے شیرف بنائے گئے، ۲۰۰۶ء میںپدم وبھوشن دیا گیا، انڈین ایئر فور س نے اعزازی ’’ایئر کوموڈور‘‘ مقرر کیا۔ اس سے قبل ۲۰۰۱ء میں اُنہیں تینزنگ نورگے نیشنل ایڈونچر ایوارڈ دیا گیا تھا۔ مختصر یہ کہ وجے پت سنگھانیہ نے بھرپور زندگی گزاری مگر عمر کے آخری پڑاؤ میں املاک کے تنازع سے اُنہیں بھی تکلیف ہوئی اور اُن کے وقار کو بھی ٹھیس لگی۔ اس تنازع کے بعد بھرپور زندگی بھی اُن کی نگاہ میں ’’آدھی ادھوری‘‘ قرار پائی اور ’’کمپلیٹ مین‘‘ کا برانڈ وضع کرنے والا اپنی خود نوشت کا نام ’’این اِن کمپلیٹ لائف‘‘ رکھنے پر مجبو ر ہوا تھا۔ یہ کتاب ۲۰۲۱ء میں شائع ہوئی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK