Inquilab Logo Happiest Places to Work

پارلیمنٹ نے اسرائیلیوں کے قتل کے مرتکب فلسطینیوں کے لیے سزائے موت کی منظوری دی

Updated: March 31, 2026, 11:06 AM IST | Jerusalem

اسرائیل کی پارلیمنٹ نے ایک قانون منظور کیا جس کے تحت اسرائیلیوں کے قتل کے جرم میں سزا یافتہ فلسطینیوں کے لیے سزائے موت دی جا سکے گی۔ اس اقدام کو عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے سختی سے تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اسے امتیازی اور غیر انسانی قرار دیا ہے۔

Israel Parliament.Photo:INN
اسرائیل پارلیمنٹ۔ تصویر:آئی این این

اسرائیل کی پارلیمنٹ نے ایک قانون منظور کیا جس کے تحت اسرائیلیوں کے قتل کے جرم میں سزا یافتہ فلسطینیوں کے لیے سزائے موت دی جا سکے گی۔ اس اقدام کو عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے سختی سے تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اسے امتیازی اور غیر انسانی قرار دیا ہے۔اس بل کی منظوری انتہائی دائیں بازو کی جانب سے کئی سالوں سے جاری اس کوشش کا نتیجہ ہے جس کا مقصد اسرائیلیوں کے خلاف قوم پرستانہ جرائم میں ملوث فلسطینیوں کے لیے سزاؤں کو مزید سخت کرنا تھا۔ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے خود پارلیمنٹ (کنیسٹ) میں آ کر اس بل کے حق میں ووٹ دیا۔
یہ قانون مغربی کنارے کے ان فلسطینیوں کے لیے، جو قوم پرستانہ بنیادوں پر قتل کے مجرم قرار پائیں، سزائے موت (پھانسی کے ذریعے) کو بنیادی سزا بناتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اسرائیلی عدالتوں کو یہ اختیار بھی دیتا ہے کہ وہ اسی نوعیت کے جرائم میں سزا یافتہ اسرائیلی شہریوں کو بھی سزائے موت دے سکیں تاہم قانونی ماہرین کے مطابق یہ شق عملاً سزائے موت کو فلسطینی نژاد اسرائیلی شہریوں تک محدود کر دیتی ہے اور یہودی شہریوں کو اس سے مستثنیٰ رکھتی ہے۔
یہ قانون ماضی پر لاگو نہیں ہوگا، یعنی اس کا اطلاق ان قیدیوں پر نہیں ہوگا جو اس وقت اسرائیل کی تحویل میں ہیں، جن میں ۷؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء کو حملہ کرنے والے حماس کے زیر قیادت جنگجو بھی شامل ہیں، جس کے نتیجے میں غزہ کی پٹی میں اسرائیل-حماس جنگ شروع ہوئی۔ حتمی ووٹنگ میں ۶۲؍ کے مقابلے میں ۴۸؍ ووٹوں سے منظوری کے بعد اراکین  پارلیمنٹ نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے تالیاں بجائیں اور کھڑے ہو گئے۔ نیتن یاہو، جو اپنی نشست پر بیٹھے رہے، نے فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا اور نہ ہی کچھ کہا۔
اسرائیل کے سخت گیر وزیر برائے قومی سلامتی، اتمار بن گویر، جنہوں نے اس قانون کے لیے مہم کی قیادت کی، جشن کے طور پر ایک بوتل لہراتے نظر آئے۔ انتہائی دائیں بازو کی رکن پارلیمنٹ لیمور سون ہار میلیخ، جو اس بل کی ابتدائی حامیوں میں شامل تھیں اور جن کے پہلے شوہر کو مغربی کنارے میں ایک فلسطینی عسکریت پسند حملے میں قتل کر دیا گیا تھا، آنسوؤں کے ساتھ مسکراتی دکھائی دیں۔

یہ بھی پڑھئے:راجستھان نے چنئی کو ۸؍وکٹوں سے روند ڈالا،ویبھو سوریہ ونشی کی ہاف سنچری


 قانون کو قانونی چیلنجز کا سامنا ہوگا
یہ قانون، جس کے مطابق ۳۰؍ دن میں نافذ العمل ہونا ہے، یقینی طور پر قانونی چیلنجز کا سامنا کرے گا جو اس کے نفاذ میں تاخیر کا باعث بن سکتے ہیں۔بل کی منظوری کے چند منٹ بعد ہی اسرائیل میں شہری حقوق کی تنظیم نے اعلان کیا کہ اس نے اس قانون کے خلاف اسرائیل کی اعلیٰ ترین عدالت میں درخواست دائر کر دی ہے۔ تنظیم نے اس قانون کو ’’بنیادی طور پر امتیازی‘‘ قرار دیا اور کہا کہ پارلیمنٹ نے اسے ’’قانونی اختیار کے بغیر‘‘ مغربی کنارے کے فلسطینیوں پر نافذ کیا ہے، جو اسرائیلی شہری نہیں ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:جے پور میں ہاتھی کو پینٹ کرنے پر تنازع، تحقیقات کا حکم


اسرائیل ڈیموکریسی انسٹی ٹیوٹ کے سینٹر فار ڈیموکریٹک ویلیوز اینڈ انسٹی ٹیوشنز کے سینئر فیلو، امیخائی کوہن، نے کہا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی پارلیمنٹ کو مغربی کنارے میں قانون سازی نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ یہ اسرائیل کا خودمختار علاقہ نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK