• Thu, 22 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کوئی تو ٹوکے، کوئی تو روکے!

Updated: January 22, 2026, 5:29 PM IST | Mumbai

ٹرمپ کا ایک سال پورا ہوگیا یا تین سال باقی ہیں۔ کبھی کبھی یہ طے کرنا مشکل ہوتا ہے کہ بات کیسے کہی جائے۔ چار سال کی صدارت کے پیش نظر دونوں باتوں کا ایک ہی مطلب نکلتا ہے اس کے باوجود معنویت میں فرق ہے۔

Donald Trump. Photo: INN
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: آئی این این

ٹرمپ کا ایک سال پورا ہوگیا یا تین سال باقی ہیں۔ کبھی کبھی یہ طے کرنا مشکل ہوتا ہے کہ بات کیسے کہی جائے۔ چار سال کی صدارت کے پیش نظر دونوں باتوں کا ایک ہی مطلب نکلتا ہے اس کے باوجود معنویت میں فرق ہے۔ جس نے گزرنے والے ایک سال کو بھگتا ہے اس سے پوچھئے تو اس کا جواب الگ ہوگا اور جن لوگوں کی ان سے وابستہ امیدیں پوری ہو رہی ہیں، بالخصوص وہ طبقہ جو میک امریکہ گریٹ اگین کا حامی تھا، ان کا جواب الگ ہوگا، وہ ایک سال کم ہو جانے کا افسوس کریں گے بلکہ ایک اور صدارتی میعاد کی سفارش کرتے ہوئے انہیں تاحیات صدر بنائے رکھنے پر زور دیں گے۔ ٹرمپ نے ایک سال ایسے گزارا ہے جیسے وہ ایک ہی سال کیلئے صدر بنائے گئے ہوں، پورا سال عجلت اور بے چینی کی علامت بنے رہے اور پورا سال بجلیاں گراتے رہے۔ اس دوران یہ بھی کہا کہ خود کو شاباشی دیتے رہے اور نوبیل انعام مانگتے رہے۔ نہیں ملا تو کسی اور کا لے لیا۔ اب جب  لے ہی لیا ہے تو ممکن ہے کہ نوبیل دینے والے ادارے سے کہیں کہ انعام کے طلائی تمغے پر الفریڈ نوبیل کی تصویر کی جگہ ان کی تصویر والے تمغے بنائے جائیں اور جب تک وہ صدر ہیں تب تک امن کا نوبیل پرائز انہی کو دیا جائے۔ گزرے ہوئے ایک سال کو انہوں نے اسی انداز میں گزارا ہے۔ اقتدار کی باگ ڈور سنبھالنے سے پہلے ہی سرگرم ہوکر انہوں نے پوری دنیا میں اتھل پتھل مچا دی، تارکین وطن کے خلاف ہنگامہ خیز کارروائی کی، دوستوں سے دشمنی کی، ’’دشمنوں‘‘سے ڈر کر رہے، بہتوں کو ناراض کیا، کسی کی بے عزتی کی تو کسی کو گھر بلا کر بے عزت کیا، کسی کی تحقیر و تذلیل کی، کسی ملک پر شب خون مارا، وہاں کے صدر کو گرفتار کیا، کسی ملک کو خریدنا چاہا اور کسی پر قبضے کیلئے بے چین ہوگئے، اچانک سوچا کہ بہت سی عالمی تنظیمیں اور ادارے بیکار محض ہیں امریکہ کو ان سے علاحدہ ہونا چاہئے، پھر۶۶؍ عالمی اداروں سے تعلق توڑنے کے فیصلے پر دستخط بھی کر دیئے۔ کسی صدر نے کیا تھا کبھی ایسا؟اب وہ بورڈ آف پیس کے نام سے تماشا کر رہے ہیں۔ یہ غزہ کی تعمیر نو کا منصوبہ تھا جس کی تائید و حمایت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کی تھی مگر ٹرمپ نے اسے اچک لیا اور اب ان کے ہاؤ بھاؤ سے ایسا لگ رہا ہے جیسے اقوام متحدہ کے متوازی ادارہ کے طور پر اس بورڈ کو مستحکم کرنا مگر ذاتی ملکیت کی حیثیت سے استعمال کرنا ان کا مقصد ہو۔ اسی لئے انہوں نے خود کو اس کا چیئرمین بنالیا اور اس کی جو دستاویز (چارٹر) تیار کی اس میں اپنا ہی نام بار بار لینا ان کی خود پسندی اور ہر چیز کو ذاتی ملکیت سمجھنے کی عادت ہے جسے نظر انداز کیا جا سکتا ہے مگر کیا الٹے سیدھے فیصلوں کو بھی نظر انداز کریں؟ ایک ارب ڈالر طلب کرنا کیا ہے؟ جو بورڈ میں شامل نہ ہو اس پر ٹیرف لگانا کیا ہے؟ مجوزہ بورڈ کو’’تاریخ کا سب سے عظیم اور سب سے پروقار بورڈ‘‘ قرار دینا اور پھر اقوام متحدہ کو برا بھلا کہنا کیا معنی رکھتا ہے؟ٹرمپ سے متعلق تمام مسائل کا ایک ہی حل ہے۔ کوئی بھی ملک ان سے ڈرے نہیں جیسا فرانس نے کیا۔ اس نے بورڈ آف پیس میں شامل ہونے سے انکار کردیا۔ دس بیس ممالک انکار میں جواب دے دیں تو ٹرمپ اپنی خو تو نہ بدلیں گے مگر ان کی وضع بدلنے لگے گی۔ کیا بڑے بڑے ممالک بالخصوص یورپی ممالک مل جل کر بھی ٹرمپ کی دھاندلیوں کو نہیں روک سکتے؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK