Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران کے ساتھ جاری تنازع کے درمیان ٹرمپ نے اپنا بیجنگ کا دورہ ملتوی کردیا

Updated: March 17, 2026, 1:05 PM IST | New York

امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران سے متعلق جنگ جلد ختم ہو سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس تنازع کی وجہ سے انہوں نے چین کے اپنے طے شدہ دورے کو فی الحال ملتوی کر دیا ہے، کیونکہ اس وقت انہیں واشنگٹن میں رہنا زیادہ ضروری محسوس ہو رہا ہے۔

Donald Trump.Photo:PTI
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر:پی ٹی آئی

امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران سے متعلق جنگ جلد ختم ہو سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس تنازع کی وجہ سے انہوں نے چین کے اپنے طے شدہ دورے کو فی الحال ملتوی کر دیا ہے، کیونکہ اس وقت انہیں واشنگٹن میں رہنا زیادہ ضروری محسوس ہو رہا ہے۔
اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا یہ جنگ اسی ہفتے ختم ہو سکتی ہے، تو انہوں نے کہا کہ ایسا ضروری نہیں، لیکن یہ زیادہ طویل نہیں چلے گی۔ ان کے مطابق جب یہ جنگ ختم ہوگی تو دنیا پہلے سے زیادہ محفوظ ہو جائے گی۔ ٹرمپ نے بتایا کہ انہوں نے چین سے اپنے دورے کو تقریباً ایک ماہ کے لیے مؤخر کرنے کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ چین کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں اور وہاں جانا چاہتے ہیں، لیکن موجودہ حالات کے پیش نظر انہیں امریکہ میں رہنا ضروری لگ رہا ہے۔ اسی لیے انہوں نے سفر کو تقریباً ایک ماہ کے لیے آگے بڑھانے کی بات کی ہے۔ امریکی صدر کا چین کا دورہ ۲۸؍مارچ سے یکم  اپریل کے درمیان طے تھا، لیکن اب نئی تاریخوں کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ وہ چین جانے کے لیے پرجوش ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بھی اچھے ہیں، لیکن موجودہ جنگی صورتحال میں ان کا امریکہ میں رہنا زیادہ اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی خاص حکمت عملی یا چال نہیں ہے، بات سیدھی ہے کہ جنگ جاری ہے اور ایسے وقت میں ان کا واشنگٹن میں موجود رہنا ضروری ہے۔
 ٹرمپ نے یہ باتیں اس وقت کہیں جب انہوں نے اوول آفس میں گھریلو فریب دہی سے متعلق ایک یادداشت پر دستخط کیے۔ اس کے بعد صحافیوں کے ساتھ طویل گفتگو میں زیادہ تر سوالات ایران اور جاری فوجی کارروائی پر ہی مرکوز رہے۔صدر ٹرمپ نے اس فوجی کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ قدم اٹھانا ضروری تھا، حالانکہ وہ خود جنگ سے بچنا چاہتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یہ فیصلہ لینا پڑا اور وہ خود بھی ایسا راستہ اختیار نہیں کرنا چاہتے تھے۔
 انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی صرف امریکہ کے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کے مفاد میں کی گئی ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام عالمی سلامتی کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ انہوں نے اس فوجی کارروائی کو وسیع تناظر میں بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’’ ہم نے دنیا کے لیے کام کیا، اپنے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے۔ اگر یہ کارروائی نہ کی جاتی تو اس کے کہیں زیادہ سنگین نتائج ہوتے۔ اگر میں وہ نہ کرتا جو میں نے کیا تو ہم پر حملہ ہو چکا ہوتا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:فاروق عبداللہ پر حملے کے بعد سیکوریٹی پر بحث، نائب وزیر اعلیٰ نےگاڑیوں کی خرابی کی شکایت کی


 صدر نے دعویٰ کیا کہ اس تنازع کے بعد ایران کی فوجی صلاحیت کافی کمزور ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب ایران کے پاس مؤثر بحریہ نہیں ہے، فضائیہ نہیں ہے، فضائی حملوں سے بچاؤ کے ہتھیار نہیں ہیں اور قیادت بھی کمزور پڑ گئی ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ انہیں امید تھی کہ اس صورتحال کا اثر شیئر بازار پر زیادہ پڑے گا، لیکن ان کے مطابق اگر بازار پر تھوڑے وقت کے لیے اثر پڑتا بھی ہے تو یہ بہت بڑی قیمت نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھئے:جنت زبیر اور بھائی ایان پر حملہ، پولیس کی تحقیقات جاری، ٹیم کا بیان جاری


 انہوں نے کہا کہ سچ یہ ہے کہ انہیں لگا تھا کہ شیئر بازار اس سے کہیں زیادہ نیچے جا سکتا ہے، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ان کے مطابق اگر کچھ نقصان بھی ہوتا ہے تو یہ بہت چھوٹی قیمت ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آگے فوج کی کیا حکمت عملی ہو سکتی ہے اور کیا زمینی فوج بھیجنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے، تو ٹرمپ نے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK