Inquilab Logo Happiest Places to Work

خارگ جزیرے پر خطرہ، ایران جنگ کے امریکی اخراجات ۱۲؍ ارب ڈالر

Updated: March 16, 2026, 10:03 PM IST | Tehran

ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ نے عالمی توانائی کی منڈیوں اور معیشت پر بھی اثر ڈالنا شروع کر دیا ہے۔ ایران نے خبردار کیا ہے کہ خارگ جزیرے کے تیل کے بنیادی ڈھانچے پر کسی بھی حملے سے عالمی توانائی کی قیمتوں کی مساوات بدل سکتی ہے۔ دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران میں ایندھن کے ڈپو پر اسرائیلی گولہ باری بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے اور اس سے شہریوں کی صحت اور ماحولیات کو طویل مدتی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اسی دوران وہائٹ ہاؤس نے اعتراف کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری امریکی جنگی کارروائیوں کے اخراجات ۱۲؍ ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

(۱) ایران نے خبردار کیا کہ خارگ جزیرے پر حملہ عالمی توانائی کو متاثر کرے گا
ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس کے اہم تیل مرکز خارگ جزیرے کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ کیا گیا تو اس کے اثرات عالمی توانائی کی منڈیوں پر پڑ سکتے ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق خارگ جزیرہ ایران کی تیل برآمدات کیلئے ایک کلیدی مرکز ہے اور یہاں کسی بھی قسم کی تباہی عالمی سپلائی کو متاثر کر سکتی ہے۔ ایک ایرانی عہدیدار نے کہا کہ ’’اگر ہمارے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا تو اس کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی تیل کی قیمتوں پر بھی پڑیں گے۔‘‘ ماہرین کے مطابق خلیج فارس میں توانائی کے مراکز عالمی معیشت کیلئے انتہائی اہم ہیں کیونکہ دنیا کے تیل کا ایک بڑا حصہ اسی خطے سے برآمد ہوتا ہے۔ اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر جنگ کے دوران توانائی کے مراکز پر حملے بڑھتے ہیں تو عالمی منڈیوں میں شدید اتار چڑھاؤ پیدا ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: پوپ کی جنگ بندی اپیل، ایران نے یورپ کو دفاع کا واضح پیغام دیا

(۲) تہران کے ایندھن ڈپو پر اسرائیلی گولہ باری بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی: عراقچی
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران میں ایندھن کے ذخائر پر اسرائیلی گولہ باری بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے اور اس سے شہریوں کی صحت اور ماحولیات کو طویل مدتی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ ’’شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ اس کے ماحولیاتی اثرات بھی انتہائی سنگین ہو سکتے ہیں۔‘‘ عراقچی نے اس حملے کو ’’ماحولیاتی تباہی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے شہریوں کی صحت اور تندرستی کو طویل مدت تک نقصان پہنچ سکتا ہے۔ خیال رہے کہ ایندھن کے ذخائر پر حملوں سے نہ صرف آگ اور دھماکوں کا خطرہ بڑھتا ہے بلکہ اس سے فضائی آلودگی اور دیگر ماحولیاتی مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ ایسے حملوں کی مذمت کی جائے اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کو یقینی بنایا جائے۔

یہ بھی پڑھئے: ایران کی جدید میزائلوں سے اسرائیل میں تباہی

(۳) ایران کے خلاف امریکی جنگ کا بل ۱۲؍ ارب ڈالر تک پہنچ گیا
وہائٹ ہاؤس کے مطابق ایران کے خلاف جاری امریکی فوجی کارروائیوں کے اخراجات اب تک تقریباً ۱۲؍ ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس رقم میں فوجی آپریشنز، فضائی حملوں، میزائل دفاعی نظام اور دیگر جنگی سرگرمیوں کے اخراجات شامل ہیں۔ ایک امریکی عہدیدار نے کہا کہ ’’جدید جنگی کارروائیاں انتہائی مہنگی ہوتی ہیں اور ان میں ہر روز بڑے پیمانے پر مالی وسائل استعمال ہوتے ہیں۔‘‘ دفاعی ماہرین کے مطابق اگر جنگ طویل ہو جاتی ہے تو اخراجات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ خیال رہے کہ جنگی اخراجات میں اضافہ نہ صرف امریکی بجٹ پر دباؤ ڈال سکتا ہے بلکہ عالمی معیشت پر بھی اثر ڈال سکتا ہے کیونکہ مشرق وسطیٰ کی کشیدگی عالمی تجارت اور توانائی کی قیمتوں کو متاثر کرتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK