طالب علم کو انگریزی میں اسٹوڈنٹ کیوں کہتے ہیں یہ سمجھنا مشکل ہے۔ تحقیق کیجئے تو پتہ چلتا ہے کہ یہ لفظ لاطینی زبان کے لفظ ’’اسٹوڈیئر‘‘ (Studere) سے مستعار ہے جس کا معنی ہے خود کو جھونکنے کا عمل(Applying Oneself to)۔
طالب علم کو انگریزی میں اسٹوڈنٹ کیوں کہتے ہیں یہ سمجھنا مشکل ہے۔ تحقیق کیجئے تو پتہ چلتا ہے کہ یہ لفظ لاطینی زبان کے لفظ ’’اسٹوڈیئر‘‘ (Studere) سے مستعار ہے جس کا معنی ہے خود کو جھونکنے کا عمل(Applying Oneself to)۔لاطینی زبان ہی میں اس لفظ کے دیگر معنی پڑھنے اور کوئی خاص کام کرنے کے ہیں ۔ انگریزی زبان نے اس لفظ کو اپنا تو لیا مگر بہت محدود کردیا۔ اس نے اسٹوڈنٹ کو ایسا فرد قرار دیا جو اسکول، کالج یا یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہے۔انگریزی کی بعض لغات اسٹوڈنٹ کو ’’لرنر‘‘ اور ’’اسکالر‘‘ بھی کہتی ہیں ۔ اس کے مقابلے میں قربان جائیے اُردو زبان کے جس میں ہر اسٹوڈنٹ ’’طالب علم‘‘ ہے مگر ہر طالب علم اسٹوڈنٹ نہیں ہے۔ ہماری زبان نے اس لفظ کو جو معنوی وسعت عطا کی ہے اُس کا جواب نہیں ۔ یہاں یہ مفرد نہیں بلکہ مرکب لفظ ہے۔ طالب اور علم۔اِن دو الفاظ پر بھی غور کر لیجئے، آپ محسوس کریں گے کہ دونوں ہی الفاظ اپنے اندر بڑی وسعت رکھتے ہیں ۔ طالب کا معنی ہے طلب کرنے والا، مانگنے والا، چاہنے والا، تلاش کرنے والا، جستجو کرنے والا، جویا، مشتاق، خواستگار، اُمیدوار۔ طالب کو مطلوب کی ضرورت ہوتی ہے اسی لئے اہل اُردو نے طالب کے آگے سوالیہ نشان کی ضرورت نہیں رہنے دی کہ کوئی پوچھے کس چیز کا طالب۔ اس زبان نے اُس کے آگے علم رکھ دیا کہ علم کا طالب۔ اب علم کے بارے میں سوچئے کہ علم کیا ہے۔ ہمارے یہاں علم کا معنی ایجوکیشن جتنا محدود نہیں ہے جو اسکول کالج اور یونیورسٹی میں دی جانے والی تعلیم کو کہا جاتا ہے۔ ہماری زبان میں یہ لفظ اپنی تمام معنوی وسعتوں کے ساتھ استعمال ہوتا آیا ہے۔ اس کی کئی معنوی جہتیں ہیں چنانچہ علم یعنی دانش، دانائی، واقفیت، آگاہی، ہنر، فن، جوہر وغیرہ۔ اس کے ساتھ ہی علم کی اقسام کو ذہن میں لائیے تو ایک دُنیا جلوہ گر ہوتی ہے جو ہر طرح کے علم کو محیط ہے۔ اسی میں علم ِوہبی بھی ہے اور علم کسبی بھی یعنی وہ جو خدا داد ہے اور وہ جو محنت و مشقت اور جدوجہد کے ذریعہ حاصل کیا گیا ہے۔
اس طرح طالب بھی اپنے اندر بھرپور معنویت رکھتا ہے اور علم بھی لہٰذا طالب علم محض اسٹوڈنٹ نہیں رہ جاتا بلکہ تحصیل علم کا جذبہ ہے تو اسٹوڈنٹ کو جو اسکول بھیجتا ہے (والدین)، اسکول میں جو ٹیچ یا ایجوکیٹ کرتا ہے (ٹیچر) حتیٰ کہ ہر وہ شخص جو کسی اسٹوڈنٹ کو اسٹوڈنٹ سمجھ کر کچھ سمجھانے اور سکھانے کی کوشش کرتا ہے وہ بھی اُتنا ہی اسٹوڈنٹ ہے جتنا کہ خود اسٹوڈنٹ۔ اسی لئے کہتے ہیں سیکھنے کی کوئی عمر نہیں اور انسان ہر عمر میں طالب علم رہتا ہے اگر اُسے علم کی جستجو ہے، شوق ہے اور جذبہ ہے۔ یہاں تک کہ داعی ٔ اجل کو لبیک کہنے تک وہ طالب علم رہتا ہے، کبھی یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ اُس نے علم حاصل کرلیا۔ کوئی یہ دعویٰ کرے بھی تو برخود غلط ہوگا کیونکہ علم بحر زخار (لبالب بھرا ہوا اور موجیں مارتا ہوا سمندر) ہے۔ آدمی کتنی ہی کوشش کرلے وہ اس بحر سے چند کوزے ہی پانی لے سکتا ہے اس سے زیادہ نہیں ۔ اس گفتگو کا ماحصل یہ ہے کہ ہماری زبان نے طالب علم کو فرش پر نہیں رہنے دیا عرش پر بٹھا دیا جبکہ اسٹوڈنٹ تب ہی خود کو اسٹوڈنٹ کہنے سے رُک جاتا ہے جب مطلوبہ سند حاصل کرکے ادارے کو خیرباد کہہ دیتا ہے۔
یہ تمہید اس لئے ہے کہ کم از کم وہ لوگ، جو خود کو اہل اُردو کہتے ہیں ، طالب علم کو اسٹوڈنٹ کی محدود معنوی صف میں نہ لائیں بلکہ محسوس کریں کہ اُن کی زبان نے اُن کے منصب کو بلند سے بلند تر کیا ہے اور اس منصب کا تقاضا ہے کہ چند نصابی کتابیں پڑھنے تک محدود رہنے کے بجائے حصول علم کی مخلصانہ فکر اور جدوجہد کی جائے۔