Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران اور امریکہ میں پھر ٹھن گئی، ایک دوسرے پر شدید حملے

Updated: July 14, 2026, 10:45 AM IST | Washington

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکہ نے مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کی اور امریکی اڈوں پر کارروائیاں حق دفاع میں کی گئی ہیں۔

A photo released by the IRGC of a US base destroyed in an Iranian attack in the Middle East. Photo: INN
مشر ق وسطیٰ میں ایران کے حملے میں تباہ ہونے والے ایک امریکی اڈے کی تصویر جو آئی آرجی سی نے جاری کی ۔ تصویر: آئی این این

امریکہ کی جانب سے ایران پر حملے کے بعد مشرق وسطیٰ میں ایک بار پھر حالات ہنگامہ خیز ہوگئے ہیں۔ امریکی حملوں کے نتیجے میں ایران میں تقریباً ۲۴؍ افراد شہید ہوئے ہیں جبکہ درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔ایران نے جواب میں مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔ 

امریکہ نےایران کے کن مقامات کو نشانہ بنایا؟

رپورٹ کے مطابق  امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ۱۲؍ جولائی کو ایران کے مختلف فوجی اہداف پر ایک اور بڑے فضائی آپریشن کے دوران درجنوں مقامات کو جدید اور انتہائی درست نشانہ لگانے والے ہتھیاروں سے نشانہ بنایا ہے۔سینٹکام کے جاری کردہ بیان کے مطابق حملوں میں ایران کے فضائی دفاعی نظام، ساحلی رڈار تنصیبات، میزائل اور ڈرون صلاحیتوں، چھوٹی فوجی کشتیوں اور دیگر عسکری اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔بیان میں کہا گیا کہ اس کارروائی میں امریکی لڑاکا طیاروں، بحری جنگی جہازوں، فضائی ڈرونز اور سمندری ڈرونز کا استعمال کیا گیا تاکہ ایرانی فوجی صلاحیتوں کو کمزور کیا جا سکے۔امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق اس آپریشن کا مقصد ایران کی اس صلاحیت کو محدود کرنا ہے جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بین الاقوامی تجارتی بحری جہازوں کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ایرانی میڈیا کا کہنا ہے امریکی حملوں میں بوشہر کے تین شہروں، صوبہ لرستان کے علاقے ویسیان کو نشانہ بنایا گیا۔ ریشہ میں فوجی بیرکوں اور بندر دیر میں ایک فوجی چوکی میں دھماکے ہوئے۔ کنگان بھی دھماکوں سے گونج اٹھا۔ ہرمزگان کے ساحلی شہر جاسک میں دس سے زائد دھماکے سنے گئے، چاہ بہار کے قریب دو اور قشم جزیرے پر بھی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ امریکی سینٹ کام کا کہنا ہے ایران میں ایک سو چالیس اہداف کو نشانہ بنایا گیا، نئے حملوں کا مقصد ہرمز میں قبرص کے تجارتی جہاز پر حملے پر ایرانی افواج کو جواب دہ ٹھہرانا تھا۔ رواں ہفتے تین حملوں میں ایران کے تین سو سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: ایران کے سابق صدر احمدی نژاد نظر بند: امریکی اخبار

ایران نے امریکی اڈوں کو ہدف بنایا 

دوسری جانب امریکی حملوں کے بعد ایران کی جانب سے کویت، بحرین اور اردن میں جوابی حملے جاری ہیں، ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ خطے میں امریکی اڈوں پر ڈرون حملے کیے گئے ہیں۔ ارنا نیوز ایجنسی کے مطابق ایرانی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس نے اردن، کویت اور بحرین میں امریکی اڈوں، دفاعی نظام، میزائل تنصیبات اور بنکروں پر تباہ کن ڈرون حملے کیے ہیں۔ ایک دیگر رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے اُردن میں سلطان حسن ایئر بیس میں امریکی کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹراور ایم کیو ڈرون ہینگر کو تباہ کرنے کا دعوی کیا ہے۔ قطر میں العدید ایئربیس کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔ عمان کی بندرگاہ دُقم میں لاجسٹک سپورٹ مراکز پر میزائل داغے گئے۔ کویت اور بحرین میں پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام، اسلحہ گودام اور ریڈار تنصیب کو نشانہ بنایا۔

ایرانی فوج نے اپنے بیان میں ایران میں فوجی تنصیبات، شہری انفرااسٹرکچر اور شہریوں پر امریکی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انھیں اقوامِ متحدہ کے منشور کے بنیادی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔واضح ہو کہ اس سے قبل ایران کی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے کویت میں واقع علی السالم اور احمد الجابر امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔ دوسری جانب کویتی فوج کے جنرل اسٹاف نے کہا ہے کہ ملک کا فضائی دفاعی نظام ملکی فضائی حدود میں داخل ہونے والے دشمن فضائی اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: جاپان: غیر معمولی سماجی تبدیلی، بچوں سے زیادہ پالتو جانور!

امریکی کارروائی نے سفارتی کوششوں کو بے معنی کردیا

ایران نے اپنی سرزمین پر ہوئےتازہ امریکی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کارروائیوں نے گزشتہ کئی ماہ سے جاری تمام سفارتی کوششوں کو بے معنی اور ناکام بنا دیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ جنگ بندی کا اسلام آباد ایم او یو ختم ہوچکا ہے۔ایران نے مفاہمتی یادداشت کی کبھی خلاف ورزی نہیں کی اور امریکہ نے اس معاہدے کی بار بار خلاف ورزی کی ہے۔ جب تک دوسرا فریق اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتا، ایران بھی ایم او یو پر عمل درآمد نہیں کرے گا۔ امریکہ کے حالیہ حملے اقوام متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی قوانین اور ریاستی خودمختاری کے بنیادی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK