پارلیمنٹ ہاؤس تک مارچ کرنے والے طلبہ اور اُن کے حامیوں کے ساتھ گزشتہ روز جو کچھ ہوا نہایت افسوسناک ہے۔ طلبہ پر لاٹھیاں برسائی گئیں اور آنسو گیس کے گولے داغے گئے جبکہ طلبہ پُرامن تھے اور احتجاج کے اپنے جمہوری حق کا استعمال کررہے تھے۔
EPAPER
Updated: July 21, 2026, 11:31 AM IST | Mumbai
پارلیمنٹ ہاؤس تک مارچ کرنے والے طلبہ اور اُن کے حامیوں کے ساتھ گزشتہ روز جو کچھ ہوا نہایت افسوسناک ہے۔ طلبہ پر لاٹھیاں برسائی گئیں اور آنسو گیس کے گولے داغے گئے جبکہ طلبہ پُرامن تھے اور احتجاج کے اپنے جمہوری حق کا استعمال کررہے تھے۔
پارلیمنٹ ہاؤس تک مارچ کرنے والے طلبہ اور اُن کے حامیوں کے ساتھ گزشتہ روز جو کچھ ہوا نہایت افسوسناک ہے۔ طلبہ پر لاٹھیاں برسائی گئیں اور آنسو گیس کے گولے داغے گئے جبکہ طلبہ پُرامن تھے اور احتجاج کے اپنے جمہوری حق کا استعمال کررہے تھے۔ ’’ملک کے مستقبل‘‘ کے ساتھ بہتر سلوک کیا جانا چاہئے تھا۔ اتنی بڑی تعداد میں ہونے کے باوجود طلبہ نے غیر معمولی صبرو تحمل کا ثبوت دیا۔ ایک آدھ جگہ بیریکیڈ ہٹانے کے علاوہ کوئی ایسی بات نہیں ہوئی جسے ناخوشگوار کہا جائے۔ پُرامن احتجاج پر جب پولیس کا عتاب ٹوٹتا ہے تو سوچنا پڑتا ہے کہ کیا اس کے ذریعہ کون سا پیغام دینا مقصود ہے ۔ کیا یہی کہ احتجاج پُرامن ہو تب بھی گوارا نہیں ہے؟ سچ پوچھئے تو اس کی نوبت ہی نہ آتی اگر جنتر منتر پر شروع ہونے والے احتجاج کے ابتدائی چند دنوں میں ہی حکومت اپنے نمائندوں کو بھیج کر مظاہرین کی شکایات کو سنتی، اُنہیں اطمینان دلاتی اور اعتماد میں لیتی۔ ان طلبہ سے کہا جاسکتا تھا کہ آپ کی تمام شکایات پر ہمدردانہ غورو خوض کیا جائیگا اور ہر ضروری قدم اُٹھایا جائیگا۔ حکومت نے بی جے پی کے سابق مرکزی وزیر جے پی نڈا کو آگے کیا اور اُنہیں مظاہرین سے گفتگو کی ذمہ داری سونپی۔ یہ کام ۲۰؍ جون کو احتجاج شروع ہونے کے فوراً بعد بھی ہوسکتا تھا۔ اس کے بجائے حکومت نے تجاہل عارفانہ سے کام لیا اور طلبہ کی بے چینی کو بڑھنے دیا اوراُن کی حمایت کیلئے بھوک ہڑتال پر بیٹھنے والے مشہور ماہر تعلیم و سائنسداں سونم وانگ چک اور طلبہ نیہا بورا، منیش کمار اور امین امیتوج کی حالت بگڑنے دی۔ کیا اس کا مقصد مظاہرین کے صبر کا امتحان لینا تھا؟ جب یہ بات مان لی گئی تھی کہ نیٹ کا پرچہ لیک ہوا تھا، جس کا ثبوت یہ تھا کہ ۴؍ مئی کو جو امتحان لیا جاچکا تھا وہ منسوخ کرکے از سر نو امتحان لینے کا اعلان کردیا گیا تھا تو دیگر ضروری اقدامات بھی لازم تھے مثلاً نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کی جوابدہی طے کرنا، وزیر تعلیم کا استعفےٰلینا، جن طلبہ نے ’’ری نیٹ‘‘ کی وجہ سے خود کشی کی اُن کے اہل خانہ سے اظہار ہمدردی کرنا اور اُنہیں بھرپور معاوضہ دینا، یا، مقابلہ جاتی امتحانوں کے نقائص دور کرنے کیلئے جامع حکمت عملی اور میکانزم کا اعلان کرنا۔ ان میں سے کوئی کام نہیں ہوا۔ کیا یہ سب طلبہ کو چڑانے جیسی حرکت نہیں تھی؟ کیا اس میں یہ پیغام نہیں تھا کہ غلطی این ٹی اے نے کی ہے مگر اس کا خمیازہ طلبہ بھگتیں گے چاہے ’’ری نیٹ‘‘ کی شکل میں، خود کشیوں کی شکل میں، بھوک ہڑتال کی شکل میں یا لاٹھی ڈنڈے کھا کر۔ وہ طلبہ جنہیں کلاس روم میں، لائبریری میں، علمی مباحثوں میں یا سمیناروں میں ہونا چاہئے تھا اُنہیں جنتر منتر آباد کرنا پڑا، بھوک ہڑتال کرنی پڑی اور جب وہ اپنی مہم میں شدت پیدا کرنے کے مقصد سے سنسد مارچ کیلئے نکلے تواُنہیں لاٹھیاں بھی کھانی پڑیں اور آنسو گیس کا نشانہ بھی بننا پڑا۔ ’’ڈیموگرافک ڈِویڈنڈ‘‘ (آبادی میں نوجوانوں کی کثرت کا معاشی فائدہ) کنارے رہ گیا اور نوجوانوں کے ساتھ حریفائی جیسی کیفیت پیدا کردی گئی۔ اب بھی وزیر تعلیم کے استعفے کا امکان نظر نہیں آ تا۔ ایسی صورت میں ہمیں نہیں لگتا کہ احتجاج جلد ختم ہوگا۔ یہ تبھی ختم ہوسکتا ہے جب احتجاج کرنے والوں کے ساتھ ہمدردی کا برتاؤ ہو، اُن کی سنی جائے اور اُنکے مسائل کا حل نکالا جائے۔