• Sat, 12 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اندھا فقیر

Updated: September 12, 2026, 3:20 PM IST | Siraj Anwar | Mumbai

فقیر کی مدد کرنے پر انجم اور ثروت کو بہترین انعام ملتا ہے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این
انجم اور ثروت کے سالانہ امتحان بہت نزدیک آگئے تھے۔ اور وہ دونوں جی جان سے اس امتحان کی تیاری میں مشغول تھے۔ انجم کو ابّا نے ایک گھڑی لا دینے اور ثروت کو کھلونوں کا ایک سیٹ لا دینے کا وعدہ کر رکھا تھا مگر یہ وعدہ اس شرط پر پورا ہونا تھا کہ وہ دونوں امتحان میں اوّل نمبر پاس ہو کر دکھائیں.... لالچ بُری بلا ہے۔ ذرا سی رشوت سے بھی بڑے بڑے کام یوں چٹکی بجاتے میں ہو جاتے ہیں۔ ان دونوں کو اور کیا چاہئے تھا مجبوراً محنت کرنے لگے۔
جس جگہ یہ دونوں بیٹھ کر پڑھا کرتے تھے وہ ایک بیٹھک تھی جس کی کھڑکیاں باہر سڑک پر کھلتی تھیں۔ انجم کھڑکیاں کھلی رکھتا تھا تاکہ ایک تو ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا آتی رہے۔ دوسرے بازار کی آوازیں بھی کانوں میں رَس گھولتی رہیں۔ سبکتگین نے اگر ایک ہرنی پر رحم کیا تھا تو اس سے انجم کو کیا۔ بابر نے ہمایوں کے لئے اپنی جان دے دی تو اس میں انجم کا کیا قصور۔ آخر وہ یہ بے معنی کہانیاں کیوں یاد کرے۔ اور اگر گھڑی پانے کے لئے ایسی کہانیاں یا دبھی کرنی پڑیں تو کم از کم باہر سڑک سے گزرتے ہوئے پھل والوں کی آوازیں تو اس کے کانوں میں رَس ٹپکاتی رہیں۔
ثروت چاہتی تھی کہ کھڑکی نہ کھلے اس طرح باہر کی آوازیں اس کے کانوں میں گھس کر دماغ پر جمی ہوئی یادداشتوں کو لے بھاگتی تھیں۔
 
 
تاریخ کے پرچے کی تیاریاں کی جا رہی تھیں۔ سَر جوڑ کر پڑھا جا رہا تھا اُس زمانے کی باتیں یاد کی جا رہی تھیں جبکہ وہ پیدا بھی نہ ہوئے تھے۔ بس یوں سمجھو کہ گڑے مُردے اکھاڑے جا رہے تھے۔ اچانک باہر سے ایک فقیر کے گانے کی آواز آئی۔ اس کی آواز میں کچھ اتنا در د تھا کہ ثروت بھی مجبور ہوگئی کہ کھڑکی سے جھانک کر اس فقیر کو دیکھے۔ انجم تو شوقین تھا ہی گانے کا۔ کھڑکی سے آدھے سے زیادہ جھک کر باہر دیکھنے لگا۔ ایک دُبلا پتلا فقیر تھا۔ بالکل اندھا بیچارہ! جب دو منہ اونچا کرکے بلند آواز میں گاتا تو اس کے گلے کی رگیں پھول جاتیں۔ اس کے کمزور سے ہاتھ میں ایک لاٹھی تھی جسے وہ گانے کے ساتھ ساتھ سڑک پر بجاتا ہوا چلتا۔ اس کی آواز اتنی پیاری تھی کہ انجم نے آج تک ایسی آواز کسی فقیر کی نہیں سنی۔
انجم نے دیکھا کہ اس فقیر کے پیچھے بہت سے میلے کچیلے کپڑے پہنے ہوئے گندے اور آوارہ لڑکے اُچھلتے کودتے چلے آرہے تھے۔ یہ لڑکے وہ تھے جنہیں پڑھنا پڑھانا تو آتا نہیں تھا۔ ہاں اگر آتا تھا تو شور مچانا۔ دوسروں کو دکھ پہنچانا۔ اپنے سے بڑے کو گالیاں دینی آتی تھیں۔ اس وقت بھی وہ چھوٹے بڑے پتھروں سے اندھے حافظ جی کی تواضع کر رہے تھے۔ انجم کو بڑا غصہ آیا۔ اور اس غصے کی اس وقت کچھ حد نہ رہی جبکہ محلے کے ایک بچے نے حافظ جی کے سوال کرنے پر پوچھا:
’’کیا چاہئے حافظ جی؟‘‘
’’اللہ کے واسطے ایک پیسہ۔ اللہ تمہیں بہت سارا دے گا بیٹا!‘‘
’’بھلا اللہ میاں کو ہمارے پیسوں کی کیا ضرورت.... یہ کیوں نہیں کہتے کہ رات کو تمہیں کھانے کے لئے چاہئیں۔‘‘ یہ ایسے ہی جب الٹے سیدھے سوال حافظ جی سے کئے گئے تو انجم کو طیش آگیا۔ اس نے ان لڑکوں کو ڈانٹا، لڑکے اس کی ڈانٹ سن کر بھاگے تو نہیں، ہاں چپ چاپ وہیں کھڑے ہوگئے۔ فقیر ایک رحم دل آواز سن کر کھڑکی کے قریب آگیا اور سوال کرنے لگا۔ انجم کے پاس اس وقت تو کچھ نہیں تھا اس لئے اس نے فقیر سے کہا کہ وہ کل صبح آکر کچھ لے جائے۔ فقیر دعائیں دیتا ہوا چلا گیا۔
بات اصل میں تھی عجیب.... انجم جس کی شرارتوں سے شیطان بھی پناہ مانگتا تھا، اچانک اتنا شریف بن جائے کہ حافظ جی کی قمیص کے پیچھے پٹاخوں کی ایک گڈی باندھنے کے بجائے ان پر رحم کرے اور انہیں کچھ دینے کا وعدہ کرے! مگر نہ جانے کیا بات تھی کہ اس وقت انجم نے شرارت نہیں کی۔ اور پھر حسب وعدہ دوسری صبح کو اس نے فقیر کو کچھ رقم دے ہی دی۔
چند دن بعد کی بات ہے کہ انجم اور ثروت سڑک کے کنارے کنارے گول گول پتھر ا کٹھے کرتے ہوئے جا رہے تھے۔ سڑک کے برابر ایک گہرا نالا تھا۔ کھیتوں میں جانے کے لئے اس نالے میں پانی بھرا رہتا۔ نالہ کے پاس چلتے چلتے اچانک انجم ٹھٹک کر رہ گیا۔ ثروت نے بھی انجم کے رک جانے پر اس طرف دیکھا جدھر انجم دیکھ رہا تھا.... اور وہ کیا چیز تھی جسے یہ دونوں دیکھ رہے تھے؟ کمبل.... ایک اونی کمبل.... اور یہ میلا کچیلا سا کمبل نہر میں ڈوبا ہوا تھا۔ اس کمبل میں ہوا بھری ہوئی تھی اس لئے بیچ میں سے وہ کچوری کی طرح پھولا ہوا تھا۔ ان دونوں کے لئے یہ بڑی حیرت کی بات تھی۔ انجم جلدی سے آگے بڑھا اور دوڑ کر اس نے نہر میں سے وہ کمبل نکال لیا۔ غور سے دیکھا تو کمبل کے ساتھ ہی وہ فقیر بھی نہر میں پڑا نظر آیا۔ یہ دیکھ کر انجم کے بدن میں اچانک پھرتی آگئی اور ثروت کی مدد سے اس نے فقیہ کو باہر نکال لیا۔
فقیر بالکل بے ہوش تھا۔ دونوں اسے ہوش میں لانے کی کوششیں کرنے لگے۔ بڑی دیر کے بعد اس نے کراہنا شروع کیا۔ انجم نے چلا کر کہا ’’حافظ جی ہم ہیں انجم اور ثروت.... کیا بات ہے یہ تمہیں کیا ہوا؟‘‘
حافظ جی نے ٹٹول کر انجم کے سَر پر ہاتھ پھیرا اور کہنے لگے ’’بیٹا! مَیں تمہارا بہت شکر گزار ہوں تم نے میری زندگی بچالی ہے ورنہ میرے مرنے میں کسر ہی کیا رہ گئی تھی۔ اس بد معاش نے مجھے اتنا مارا کہ میری ہڈی پسلی ہل گئی!‘‘
 
’’کس نے مارا؟‘‘ ثروت نے پوچھا۔
’’کلّو بدمعاش نے۔ وہی جو تمہارے گھر کے پاس رہتا ہے؟‘‘
’’کلّو....!‘‘ انجم کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا سانس نیچے رہ گیا، ’’وہ تو بہت بُرا آدمی ہے بابا! مَیں ابا جی سے کہہ کر اسے ضرور پٹواؤں گا۔‘‘
فقیر ہنسا اور کہنے لگا ’’جسے مَیں نہ مار سکا اسے تمہارے ابّا کیا ماریں گے؟‘‘
’’مَیں ابّا سے کہوں گی ضرور۔‘‘ ثروت نے سنجیدگی سے کہا۔
’’نہیں ایسا مت کرنا۔‘‘ فقیر نے آہستہ سے کہا ’’جبکہ اب جب کلّو تمہیں نظر آئے تو تم میں سے ایک تو اسے باتوں میں لگانا اور دوسرا فوراً مجھے آکر بتائے، مَیں برگد کے پیڑ کے نیچے بیٹھا ہوں گا۔ وہی جو تمہاری گلی کے سامنے ہے۔‘‘
’’اچھا ہم ایسا ہی کریں گے.... مگر کیا وہ اب نظر نہ آئے گا؟‘‘ انجم نے پوچھا۔
’’ہاں وہ اب مجھ سے چھپنے کی کوشش کرے گا۔‘‘ فقیر نے کہا۔
’’لیکن کیوں؟‘‘
’’یہ مَیں پھر بتاؤں گا۔ پہلے تو مَیں کہتا ہوں وہی کرو.... بس شاباش اب جاؤ۔‘‘
اور پھر یہ اس سے دوسرے دن کی بات ہے کہ انجم اور ثروت صبح کی سیر سے واپس آرہے تھے کہ انہیں کلّوبد معاش اپنا منہ چھپائے ایک طرف کو جاتا نظر آیا۔ انجم نے اسے دیکھ کر ثروت سے کہا ’’ثروّ.... تم اسے باتوں میں لگاؤ میں حافظ جی کو خبر کر دوں۔‘‘
ثروت نے سَر کے اشارے سے ہاں کہی اور پھر جلدی سے راستہ کاٹ کر اس سے آگے جا کر بیٹھ گئی اور بیٹھتے ہی اس نے جھوٹ موٹ رونا شروع کر دیا۔ کلّوبڑی جلدی میں تھا اس لئے ثروت کے آگے سے نکل کر جانے لگا مگر ثروت چلّانے لگی ’’ہوں اوں.... میرا روپیہ، میرا رو پیہ کھو گیا۔ میرا روپیہ ڈھونڈ دو۔‘‘
اب یہ بات تو نہیں کہ بدمعاش بچوں کے معاملے میں بھی بدمعاش بن جائیں۔ کلّوکے بھی آخر بچے تھے، اس نے جو ایک چھوٹی سی پیاری پیاری لڑکی کو روتے دیکھا تو قریب آکر بولا ’’کیا بات ہے؟‘‘ اس کی آواز واقعی بہت ڈراؤنی تھی۔
 
ثروت نے اسے بتایا کہ اس کا روپیہ کھو گیا ہے۔ کلّوزمین پر بیٹھ کر اسے ڈھونڈنے لگے ثروت بھی ساتھ ہی اِدھر اُدھر روپیہ تلاش کرتی رہی مگر روپیہ کھویا ہوتا تو ملتا۔ کلّوواپس جانے کے لئے اُٹھا ہی تھا کہ ثروت پھر رونے لگی.... کلّوٹھٹک گیا۔ ابھی وہ ثروت کو دیکھ ہی رہا تھا کہ پیچھے سے ایک طاقتور ہاتھ نے اس کی گردن پکڑ لی۔ اس نے بمشکل اپنے آپ کو چھڑایا۔ دیکھا تو سامنے فقیر کھڑا تھا مگر سب سے حیرت انگیز بات جو انجم اور ثروت نے دیکھی، یہ تھی کہ فقیر کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں اور اس کے ہاتھ میں ایک پستول تھا۔
’’بھاگنے کی کوشش مت کرو۔‘‘ فقیر نے زور دار آواز میں کہا۔ مگر اس کی آواز سنتے ہی کلّو نے بھاگنا چاہا ہی تھا کہ انجم دوڑ کر اس کی ٹانگوں سے لپٹ گیا اور ثروت نے اس کے ہاتھ میں کاٹ کھایا.... آوازیں سن کر راہ گیر اکٹھے ہوگئے اور ان کی مدد سے فقیر نے کلّوکو گرفتار کر لیا۔
تم سب جو اس کہانی کو پڑھ رہے ہو پوچھو گے کہ آخر یہ سب ہوا کیا؟ بھئی بات اصل میں یہ تھی کہ کلّوایک نامی گرامی مجرم تھا جس کی گرفتاری کے لئے حکومت نے سی آئی ڈی انسپکٹر شرما (اندھے حافظ جی) کو مقرر کیا تھا۔ ساتھ ہی اس کا پتہ بتانے والے کو سو روپے کا خصوصی انعام بھی دینے کا اعلان کیا تھا۔ سو روپے کا یہ انعام انجم اور ثروت کو ملا۔ اور ابّا کی طرف سے انجم کو گھڑی اور ثروت کو کھلونوں کا ایک خوبصورت سیٹ الگ ملا۔ دونوں اس دن بہت خوش ہوئے، ان کے خیال میں تو یہ انعام انہیں اس لئے ملا تھا کہ انہوں نے ایک بوڑھے اور اندھے فقیر کی مدد کی تھی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK