گزشتہ۷؍ ماہ میں خودکشی کے۶۰۱؍ افسوسناک واقعات، امتحان، توقعات اور کریئر کا دباؤ، نوجوانوں کے ذہنوں پر بڑھتا بوجھ۔
EPAPER
Updated: September 12, 2026, 2:07 PM IST | Inquilab News Network | Pune
گزشتہ۷؍ ماہ میں خودکشی کے۶۰۱؍ افسوسناک واقعات، امتحان، توقعات اور کریئر کا دباؤ، نوجوانوں کے ذہنوں پر بڑھتا بوجھ۔
کتنے نمبر آئے؟ اس ایک سوال کے گرد طلبہ کا مستقبل، والدین کی توقعات اور کریئر کی فکر الجھتی جا رہی ہے۔ پونے جیسے تعلیمی شہر میں نوجوانوں اور طلبہ سے متعلق خودکشی کے واقعات نے ایک بار پھر اس سنگین مسئلے کو اجاگر کر دیا ہے۔ امتحان، داخلہ، کریئر کی مسابقت، خاندانی مسائل، ذہنی بے چینی اور سماجی دباؤ جیسے کئی عوامل نوجوانوں کی ذہنی صحت پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔
لوک مت نے اپنی ایک رپورٹ میں پونے پولیس کے اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا کہ شہر میں ۲۰۲۳ء کے دوران۱۰۰۴؍ خودکشی کے واقعات درج کیے گئے، جن میں جرائم کے طور پر درج واقعات اور حادثاتی موت کے طور پر درج معاملات شامل ہیں۔۲۰۲۴ءمیں یہ تعداد۹۷۸؍ جبکہ۲۰۲۵ءمیں۱۰۶۷؍ رہی۔ جنوری سے جولائی۲۰۲۶ء تک صرف ۷؍ ماہ میں شہر میں۶۰۱؍ خودکشی کے واقعات درج ہوئے۔ ان میں۴۲۳؍ مرد اور۱۱۸؍ خواتین شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: حوثیوں کا بحیرۂ احمر کے پورے ساحلی علاقے پرقبضہ
۹؍ ستمبر کو ایک ہی دن دو طلبہ کی خودکشی کے الگ الگ واقعات سامنے آنے کے بعد نوجوانوں اور طلبہ سے متعلق خودکشی کے واقعات نے تشویش میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ شہر میں مسابقتی امتحانات کی تیاری کرنے والے عثمان آباد کے۲۹؍ سالہ نوجوان کی خودکشی کا چونکا دینے والا واقعہ بدھ کے روز سامنے آیا۔ اس کا نام پرتھمیش دیشمکھ بتایا گیا ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق مسابقتی امتحانات میں بار بار ناکامی، مالی مشکلات، کھیتی میں نقصان اور بڑھتے ہوئے قرض کے دباؤ کے باعث وہ ذہنی تناؤ کا شکار تھا اور اس نے انتہائی قدم اٹھایا۔دوسرے واقعے میں کاترج علاقے میں میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے والی۲۱؍ سالہ طالبہ آدی مایا شیکھر ریڈی، جو بنیادی طور پر تروما لنگری، حیدرآباد، تلنگانہ کی رہنے والی تھی، نے دسویں منزل سے چھلانگ لگا کر اپنی زندگی ختم کر لی۔ ایک ہی دن طلبہ کی خودکشی کے دو واقعات سامنے آنے سے تعلیمی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
اس سے قبل بھی مطلوبہ نمبر نہ ملنے پر طلبہ کی جانب سے خودکشی کی کوشش کے واقعات سامنے آ چکے ہیں۔ اسی لئے امتحان اور کریئر کا دباؤ نوجوانوں کی ذہنی صحت کو متاثر کرنے والے ایک اہم ممکنہ عنصر کے طور پر زیر بحث آ رہا ہے۔’’طلبہ کی زندگی کی قدر کسی ایک امتحان کے نتیجے سے کہیں زیادہ ہے۔ ‘‘اسلئے نمبر حاصل کرنے کی دوڑ کے بجائے طلبہ سے بات چیت اور انہیں ذہنی و جذباتی سہارا دینے کو ترجیح دینے کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھئے: سلامتی کونسل میں ایران پر پابندیوں کے معاملے پر اختلاف
ان حالات میں والدین کوچاہئے کہ وہ اپنے بچوں سے بات چیت بڑھائیں
طلبہ کے رویے میں اچانک تبدیلی، مسلسل مایوسی، تنہائی اختیار کرنا، پڑھائی میں دلچسپی کم ہونا، نیند یا بھوک میں تبدیلی، مستقبل کے بارے میں شدید منفی سوچ ۔ ایسے وقت میں’’تم کیسا محسوس کر رہے ہو؟‘‘یہ سوال پوچھنے کی ضرورت ہے۔ بروقت کاؤنسلنگ اور ذہنی صحت کے ماہرین کی مدد حاصل کرنا انتہائی اہم ہے۔
کم نمبرکا مطلب سب کچھ ختم ہونا نہیں
طلبہ کو یادرکھنا چاہئے کہ امتحان زندگی کا صرف ایک پڑاؤ ہے، آخری فیصلہ نہیں ہے۔ لیکن والدین کی توقعات، مسلسل دوسروں سے موازنہ، داخلے کیلئے مسابقت آرائی اور سوشل میڈیا پر کامیابی کی چکاچوندھ بھری تصویر کے دباؤ کی وجہ سے بعض طلبہ کیلئے ناکامی ناقابلِ برداشت بن سکتی ہے۔ طلبہ کی خودکشی کے معاملات میں کئی مرتبہ خاندانی مسائل، محبت کے معاملات، بیماری اور امتحان میں ناکامی کے ساتھ ساتھ کریئر سے متعلق مسائل، تنہائی، ذہنی بیماری، نشے کی لت اور مالی نقصان جیسے عوامل بھی سامنے آئے ہیں۔
کسی امتحان میں ناکامی یا کم نمبر، مالی مشکلات، خاندان کی توقعات اور مستقبل کی غیر یقینی صورتِ حال کا مجموعی اثر نوجوانوں کی ذہنی صحت پر پڑ سکتا ہے۔ مایوسی، تنہائی، مسلسل بے چینی اور ’سب کچھ ختم کر دینے‘ جیسے خیالات کو سنجیدگی سے لینا ضروری ہے۔ طلبہ کو ناکامی کو آخری نتیجہ نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ اپنے اہل خانہ، دوستوں یا ماہرِ نفسیات سے کھل کر بات کرنی چاہیے۔ بروقت ذہنی صحت سے متعلق مدد بحران کی شدت کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔‘‘
-ڈاکٹر نشی کانتھ تھورات (ماہر نفسیات )