بائیں محاذ کی پارٹیوں کو اپنے حاشئے پر آنے اور پھر وہاں سے بھی لڑھکنے کا کتنا افسوس ہے ہم نہیں جانتے مگر اس ملک کے وہ عوام جو سیکولرازم، سماجی انصاف، کسانوں ، مزدوروں اور عام ملازمین کے حقوق کی جدوجہد کے معاملے میں ان پارٹیوں سے بڑی امیدیں وابستہ کرتے تھے، مایوس ہوتے جا رہے ہیں ۔
بائیں محاذ کی پارٹیوں کو اپنے حاشئے پر آنے اور پھر وہاں سے بھی لڑھکنے کا کتنا افسوس ہے ہم نہیں جانتے مگر اس ملک کے وہ عوام جو سیکولرازم، سماجی انصاف، کسانوں ، مزدوروں اور عام ملازمین کے حقوق کی جدوجہد کے معاملے میں ان پارٹیوں سے بڑی امیدیں وابستہ کرتے تھے، مایوس ہوتے جا رہے ہیں ۔ انہوں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ملک میں لیفٹ موومنٹ اتنی تیزی سے بے نام و نشاں ہونے کے قریب پہنچ جائیگی۔ مہاراشٹر، مغربی بنگال، بہار، آندھرا، کیرالا اور تری پورہ جیسی ریاستوں میں ان کا کافی اثرورسوخ ہوا کرتا تھا۔ ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا ہے جب پارلیمنٹ میں سی پی آئی، سی پی ایم اور دیگر کی کم از کم پانچ درجن سیٹیں ہوا کرتی تھیں ۔ نئی نسل کو بتایا جائے تو اس کیلئے یقین کرنا مشکل ہوگا کہ ڈیڑھ دہائی بھی پوری نہیں ہوئی ہے جب مغربی بنگال میں بائیں محاذ کا طوطی بولتا تھا۔ اس کا ۳۷؍ سالہ طلسم اقتدار ۲۰۱۱ء میں تب ٹوٹا جب تبدیلی کی آندھی نے ممتا بنرجی کا روپ دھارن کرکے ٹی ایم سی کی حکومت بنوائی اور بنگال کو ’’لیفٹ مکت‘‘ کر دیا۔ اگر کسی ایک ریاست میں اس کا سورج غروب ہوتا اور کسی دوسری ریاست یا ریاستوں میں پوری طاقت کے ساتھ چمک رہا ہوتا تو کوئی بات تھی مگر ایسا نہیں ہوا۔ اسی ماہ کے اوائل میں کیرالا بھی اس کے ہاتھ سے نکل گیا جس کے بعد ملک میں لیفٹ کے اقتدار کی کوئی ریاست نہیں بچی ہے۔ کیرالا اس کا آخری قلعہ تھا جہاں لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ کے قیام کے بعد چالیس سال میں ہوئے دس انتخابات میں ایل ڈی ایف نے چھ الیکشن جیتے تھے۔یہ اپنے آپ میں ایک ریکارڈ ہے مگر اب کیا؟
کیرالا کی ہار پورے ملک میں ایک عہد کا خاتمہ معلوم ہوتی ہے۔ وہ تمام لوگ جنہوں نے قومی سیاست میں کمیونسٹ پارٹیوں کی شمولیت اور کردار کو دیکھا ہے کیسے کیسے لیڈران کو جانتے رہے ہیں ۔ نمبودری پد، وی ایس اچوتانندن، ہرکشن سنگھ سرجیت، جیوتی بسو، سومناتھ چٹر جی، اے بی بردھن، سیتا رام یچوری، بدھا دیب بھٹاچاریہ اور دیگر، گویا ایک کہکشاں تھی جو ملک کے سیاسی افق پر اپنی آب و تاب سے پہچانی جاتی تھی مگر آج کی لوک سبھا میں سی پی ایم کے چار اور سی پی آئی نیز سی پی ایم (ایم ایل) کے دو دو اراکین ہیں جبکہ ریاستی قانون ساز اسمبلیوں میں بھی اس کی موجودگی کمترین سطح پر ہے۔یہ اچانک نہیں ہوا لیکن اس دور میں ہوا ہے جب لیفٹ پارٹیوں کیلئے عوامی موضوعات کم نہیں ہیں ۔ بے روزگاری ، مہنگائی ، فرقہ واریت ، برآمدات کے مقابلے میں درآمدات کا بڑھتا بل ، امریکہ کے آگے سر ِ تسلیم خم کرنے کی نئی روایت ، مزدوروں کی خستہ حالت وغیرہ یہ سارے موضوعات لیفٹ پارٹیوں کو عوام سے جڑنے کا بھرپور موقع فراہم کرتے تھے مگر اب ان سب کے ہوتے ہوئے آخر کیوں لیفٹ پارٹیاں خود کو الگ تھلگ رکھے ہوئے ہیں ؟موجودہ صورت حال تو گویا لیفٹ پارٹیوں کو پکار رہی ہے مگر جواب ندارد ہے۔
کیا کمیونسٹ پارٹیوں کے موجودہ کرتا دھرتا یہ سوچ رہے ہیں کہ جب تک کاروبار سیاست چلے گا چلائیں گے ورنہ دکان بڑھالیں گے؟ کیا اسی لئے نئی نسل کو جوڑنے کی کوشش نہیں کی جارہی ہے؟ کیا اسی لئے رکنیت سازی میں بھی کوئی خاص دلچسپی نہیں ہے؟ کیا وہ ہمت ہار چکے ہیں ؟ اگر ایسا ہے تو وہ اس وراثت کو ٹھکرا رہے ہیں جو ان تک پہنچی اور انہیں اب تک نوازتی رہی ہے۔