Inquilab Logo Happiest Places to Work

بھائندر:۱۰؍ سال بعد بھی شہید بھگت سنگھ کے مجسمہ کا کچھ پتہ نہیں

Updated: May 18, 2026, 3:58 PM IST | Sajid Mahmood Shaikh | Mumbai

سکھ ویلفیئر ایسوسی ایشن نےکارپوریشن کمشنر کو مکتوب بھیجا، مجسمہ کی معلومات دینے ا وردوبارہ تنصیب کامطالبہ۔

A photo of the statue before it was moved. Photo: INN
مجسمہ کی منتقلی سے قبل کی تصویر۔ تصویر: آئی این این

بھائندر میں سب وے بریج کی تعمیر کے نام پر ۱۰؍ سال قبل ہٹائے گئےمجاہد ِ آزادی شہید سردار بھگت سنگھ کے مجسمے کو اب تک دوبارہ نصب نہ کیے جانے پر مقامی حلقوں میں شدید ناراضگی پائی جا رہی ہے۔ سکھ ویلفیئر ایسوسی ایشن  نے اس معاملے پر سخت رخ اختیار کرتے ہوئے میرا بھائندر میونسپل کارپوریشن کے کمشنر کو ایک باضابطہ مکتوب روانہ کیا ہے، جس میں انتظامیہ کی عدم توجہی پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ دوسری جانب، میونسپل کارپوریشن نے ایک پریس نوٹ جاری کر کے واضح کیا ہے کہ یہ مجسمہ ماضی میں بغیر کسی قانونی اجازت کے نصب کیا گیا تھا، اس لیے اب اس کی دوبارہ تنصیب کیلئے منظوری ملنا ممکن نہیں ہے۔ایسوسی  ایشن کے صدر سردار مندیپ سنگھ کلیر کی جانب سے کمشنر کو بھیجے گئے خط کے مطابق۲۰۱۶ء میں بھائندر ایسٹ اور ویسٹ کو جوڑنے والے سب وے بریج کی تعمیر کے وقت، سڑک کی چوڑائی اور تعمیراتی کام کو بلا تعطل پورا کرنے کیلئے بھگت سنگھ کے مجسمہ کو ان کی اصل جگہ سے عارضی طور پر ہٹایا گیا تھا۔ اب اس واقعے کو ایک دہائی (۱۰؍سال) کا طویل عرصہ بیت چکا ہے اور سب-وے کا کام مکمل ہو کر وہاں سے ٹریفک کی آمد و رفت بھی برسوں سے جاری ہے، لیکن انتظامیہ نے اس تاریخی مجسمے کو واپس اس کے مقام پر نصب کرنے کی زحمت نہیں کی۔سکھ ویلفیئر ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی اس طویل لاپروائی اور سرد مہری کی وجہ سے مقامی شہریوں اور محب ِ وطن حلقوں کے جذبات کو شدید ٹھیس پہنچ رہی ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ سب سے بڑی تشویش کی بات یہ ہے کہ کسی کو معلوم ہی نہیں کہ یہ مجسمہ اس وقت کہاں اور کس حالت میں ہے۔ایسوسی ایشن نے شہری انتظامیہ کے سامنے فوری طور پرتین اہم مطالبات رکھے ہیں۔ پہلا مطالبہ یہ کہ انتظامیہ فوری طور پر سرکاری معلومات فراہم کرے کہ مجسمہ اس وقت کس گودام یا جگہ پر رکھا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے : نیٹ پیپر لیک معاملہ میں راہل کا براہ راست مودی پر حملہ، خاموشی پر سوال اُٹھایا

دوسرا یہ کہ مجسمہ کی موجودہ حالت کا سرکاری طور پر معائنہ کیا جائے اور رپورٹ جاری کی جائے۔تیسرا  یہ کہ اس قومی ورثے کو مکمل احترام کے ساتھ بھائندر سب-وے بریج کے پاس یا کسی دوسرے باعزت مقام پر دوبارہ نصب کرنے  کے حتمی وقت کا اعلان کیا جائے۔  خط کی کاپیاں مقامی ممبر اسمبلی اور وزیر ٹرانسپورٹ پرتاپ سرنائیک، ممبر اسمبلی نریندر مہتا، میرا بھائندر کی میئر ڈمپل مہتا اور ایڈیشنل کمشنر سمبھا جی پانپٹے کو بھی ارسال کی گئی ہیں۔ اس دوران، بڑھتے ہوئے تنازع کو دیکھتے ہوئے میرا بھائندر میونسپل کارپوریشن کے سٹی انجینئر دیپک کھامبت نے ایک پریس نوٹ جاری کر کے کارپوریشن کا موقف واضح کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے : اقوام متحدہ کی نمائندہ کا اسرائیل پر فلسطینیوں کے خلاف منظم تشدد کا الزام

انہوں نے بتایا کہ بھائندر مشرق اور مغرب کو جوڑنے والا جیسل پارک ریلوے سب وے ٹریفک کیلئے کھول دیا گیا ہے، تاہم اس کی تعمیر کی راہ میں آنے والے مجسمہ کو قانونی ضابطوں کے تحت ہی ہٹایا گیا تھا ۔ پریس  نوٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ بھائندر (مغرب) کے ایک عوامی باغ میں شہید بھگت سنگھ کا یہ مجسمہ اس وقت نصب کیا گیا تھا جب یہاں میونسپل کونسل  قائم تھی۔ یہ مجسمہ مقامی لوگوں نے اپنی سطح پر نصب کیا تھا اور اس وقت کی بلدیاتی کونسل کا اس تنصیب سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ انہوں نے کہا شہید بھگت سنگھ کا یہ مجسمہ ماضی میں بغیر کسی سرکاری یا قانونی اجازت نامے کے نصب کیا گیا تھا۔ چونکہ یہ تنصیب غیر مجاز تھی، اس لئے اب اسے کسی دوسری جگہ پر دوبارہ نصب کرنے کیلئے قانونی منظوری حاصل کرنا ممکن نہیں ہے۔‘‘بہرحال انہو ںنے بتایاکہ کہ مجسمہ کو پورے احترام کے ساتھ میونسپل کارپوریشن کے مرکزی دفتر (ہیڈ کوارٹر) میں محفوظ رکھوا دیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK