• Sat, 05 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

یوم اساتذہ: یہی استدعا ہے !

Updated: September 05, 2026, 2:13 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

اگر محکمہ تعلیم سمجھتا ہے کہ ۵؍ ستمبر اہم ہے تو اسے اس دن کے احترام میں اساتذہ کی بہبود کے اپنے منصوبوں کا جائزہ لینا چاہئے کہ ان میں کہاں کتنی کمی ہے، کہاں کتنی کجی ہے اور کس طرح انہیں زیادہ کارآمد بنایا جاسکتا ہے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

اگر محکمہ تعلیم سمجھتا ہے کہ ۵؍ ستمبر اہم ہے تو اسے اس دن کے احترام میں اساتذہ کی بہبود کے اپنے منصوبوں کا جائزہ لینا چاہئے کہ ان میں کہاں کتنی کمی ہے، کہاں کتنی کجی ہے اور کس طرح انہیں زیادہ کارآمد بنایا جاسکتا ہے۔ یہ بات کسی سے چھپی ہوئی نہیں ہے کہ محکمۂ تعلیم اور وزارت ِ تعلیم کا طرز عمل اساتذہ کے تئیں مخلصانہ اور دوستانہ نہیں، معاندانہ ہے۔ حکومت سمجھتی ہے کہ اساتذہ اُس کے ملازم ہیں۔ تکنیکی اعتبار سے یہ درست ہوسکتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ اساتذہ حکومت کے ملازم نہیں، تعلیم کے خادم ہیں جو خدمت ِ تعلیم میں اپنا وقت اور توانائی صرف کرتے ہیں تاکہ قوم کی نئی نسل زیورِ تعلیم سے آراستہ ہو۔ وہ قوم پر احسان کرتے ہیں چنانچہ یہ سمجھنا کہ اُن پر احسان کیا جارہا ہے، غلط ہے۔ جب یہ خیال ذہن سے نکال دیا جائیگا کہ اُن پر احسان کیا جارہا ہے تب اُن کی حقیقی قدر کا احساس ہوگا۔ وہ افسران جو اپنی جنبش قلم سے اساتذہ کے نام فرمان جاری کرتے ہیں اُنہیں سوچنا چاہئے کہ جب وہ طالب علمی کے دور میں تھے اگر اُس وقت بھی اساتذہ پر غیر تدریسی ذمہ داریوں کا اسی طرح بوجھ ڈالا جاتا تو کیا اُن کی تعلیم ویسی ہوتی جیسی ہوئی؟ کیا وہ اعلیٰ سرکاری عہدوں تک پہنچتے؟ 

یہ بھی پڑھئے: دنیا کا ’’نقشہ‘‘ درست کرنے کا فیصلہ، افریقہ کو اصل حجم میں دکھانے کی مہم کامیاب

حکومت اساتذہ کو اُن کی بہترین خدمات کیلئے اعزاز و انعام دیتی ہے۔ یہ اچھی بات ہے۔ مگر کیا اُن تمام اساتذہ کو انعام ملتا ہے جو محنت کرتے ہیں اور طلبہ کو جی جان سے پڑھاتے ہیں؟ اگر تمام کو نہیں ملتا تو کیا جتنی چھان پھٹک کے ساتھ اساتذہ کا انتخاب کرنا چاہئے اُس کا کوئی نظم ہے؟ ہم اُن اساتذہ کے تئیں خوشی محسوس کرتے ہیں جنہیں انعام کیلئے منتخب کیا گیا مگر ہمیں اُن اساتذہ کا درد بھی ہے جنہیں ملنا چاہئے تھا اور نہیں ملا، اس لئے نہیں ملا کہ بحیثیت مدرس و معلم اُن کا کردار تو مستحکم ہے مگر ’پی آر‘ مضبوط نہیں ہے۔ کیا ہر ایوارڈ کو ’حق بحقدار رسید‘ کے معیار پر پرکھا جاسکتا ہے؟ اول تو انعامات بہت کم ہیں، دوئم یہ کہ جب اُس میں انصاف نہیں ہوتا تو افسوس ہوتا ہے۔ کسی مدرس یا معلم کا استحقاق اس بات سے طے نہیں ہونا چاہئے کہ وہ کتنا سوشل اور کتنا سرگرم ہے۔ اس کے تعین میں حق تدریس ادا کرنے پر زور دیا جانا چاہئے نیز طلبہ کی رائے کو اہمیت ملنی چاہئے کیونکہ طلبہ زیادہ جانتے ہیں کہ کون سا ٹیچر کتنا اچھا ہے اور اُس نے اُنہیں کس کس طرح سے متاثر کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’اک ہوک سی دل میں اُٹھتی ہے اک درد جگر میں ہوتا ہے‘

ہم یہ مانتے ہیں کہ مدرس یا معلم کو قابل ہونا چاہئے، مخلص ہونا چاہئے اور محنتی ہونا چاہئے مگر عموماً کہی جانے والی یہ بات ہماری سمجھ میں نہیں آتی کہ ’’اساتذہ پہلے جیسے نہیں رہ گئے ہیں۔‘‘ تو کیا امرود اور سیب پہلے جیسے رہ گئے ہیں؟ کیا والدین پہلے جیسے رہ گئے ہیں؟ معاشرہ پہلے جیسا رہ گیا ہے؟ کیا خود طلبہ پہلے جیسے رہ گئے ہیں؟ ’’پہلے جیسا‘‘ کا کیا معیار ہے جس پر ہم اساتذہ کو پرکھنا چاہتے ہیں؟ اگر معیار محنت ہے تو بہت سے اساتذہ محنت میں پیچھے نہیں ہیں۔ اگر طریقۂ تعلیم معیار ہے تو طریقۂ تعلیم بدلتا رہتا ہے۔ اگر اخلاص معیار ہے تو وہ کلاس روم ہی میں دیکھنے کو مل سکتا ہے اور کہنے والا کلاس روم کی کیفیت سے واقف ہو یہ ضروری نہیں۔ معاشرہ کو بے معنی جملوں سے گریز کرنا چاہئے اور اگر اساتذہ کا ا حتساب درکار ہے تو اُنہیں نئے دور کے پیمانوں پر جانچنا پرکھنا چاہئے۔ یہی استدعا ہے ہماری!

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK