پانچ ستمبر یوم اساتذہ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس معاملے میں ہم دیگر ملکوں سے چار سال سینئر ہیں۔ مگر کیا اساتذہ کے احترام میں بھی آگے ہیں؟ اس نکتے پر غور ہونا چاہئے۔
EPAPER
Updated: September 05, 2026, 2:04 PM IST | Shahid Latif | Mumbai
پانچ ستمبر یوم اساتذہ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس معاملے میں ہم دیگر ملکوں سے چار سال سینئر ہیں۔ مگر کیا اساتذہ کے احترام میں بھی آگے ہیں؟ اس نکتے پر غور ہونا چاہئے۔
اگر پانچ ستمبر سرو پلی ڈاکٹر رادھا کرشنن کا یوم پیدائش نہ ہوتا، ایک دن اُن کے شاگرد اس درخواست کے ساتھ اُن کی خدمت میںحاضر نہ ہوتے کہ ہم آپ کی سالگرہ منانا چاہتے ہیں اور وہ سالگرہ کے دن کو یوم اساتذہ کے طور پر منانے کی نصیحت نہ کرتے تو کیا ہوتا؟ کیا تب سے لے کر اب تک ہر سال پانچ ستمبر کو یوم اساتذہ منایا جاتا؟
یہ بھی پڑھئے: اپنے خیالات کو Reels کی طرح آگے بڑھانے والے نہ بنیں
آپ کی رائے جو بھی ہو، مجھے ایسا لگتا ہے کہ اُس صورت میں ہمیں عالمی سطح پر چار سال کی برتری حاصل نہ ہوتی۔ انٹرنیشنل ٹیچرس ڈے منانے کا سلسلہ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن اور یونیسکو کی سفارش پر ۱۹۶۶ء میں شروع ہوااور ہر سال ۵؍ اکتوبر کو منایا جاتا ہے۔ اس تناظر میں ۵؍ ستمبر دیسی ہے اور ۵؍ اکتوبر بدیسی۔ دیسی دن منانے کا لطف کچھ اور ہے۔ اس سے مٹی کی مہک آتی ہے اور ذہن میں ایک ایسے معلم کا تصور اُبھرتا ہے جو سر تا پا دیسی ہے اور اپنے شاگردوں پر دیسی انداز میں محنت کرتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ میرے سامنے جو نوعمر بیٹھے ہیں وہ کچھ نہیں جانتے۔ وہ مغربی ملکوں کے نوعمروں جیسے نہیں ہیں جن کے والدین اور جن کا ماحول اُنہیں بہت کچھ سکھا چکا ہوتا ہے تب کہیں جاکر وہ اسکول پہنچتے ہیں۔ تب اُن پر بہت زیادہ محنت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ دیسی طالب علموں کو پڑھا کر دیسی معلموں کو جس طرح کی خوشی ملتی رہی ہوگی اس کا اندازہ بھی نہیں کیا جاسکتا۔ ۱۹۶۰ء کی دہائی کے ہندوستان اور ۲۰۲۰ء کی دہائی کے ہندوستان میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اس کے باوجود، جہاں تک میرے علم میں ہے، اساتذہ کو طالب علموں پر اُتنی ہی محنت کرنی ہوتی ہے یا اُتنی ہی محنت کی گجائش رہتی ہے جتنی ماضی کے معلم کرتے تھے۔
بہت کچھ بدلا مگر بہت کچھ نہیں بدلا ہے۔ اسکول پہنچنے والے طالب علم پر والدین کی محنت نہیں ہوئی تو طالب علم محنت کا بقایہ لے اسکول پہنچتا ہے اور اگر اساتذہ نے اُس پر دوگنا (والدین کی اور خود کی) محنت نہیں کی تو اگلی جماعتوں سے اُس کے غائب (ڈراپ آؤٹ) ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔ وہ خطرہ کتنا بڑا ہے اس کا اندازہ سب کو ہے مگر کتنا سنگین ہے اس کا اندازہ سب کو نہیں ہے۔ گزشتہ ماہ (اگست ۲۰۲۶ء) میں لوک سبھا میں پیش کی گئی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کی ایک رپورٹ سے منکشف ہوا کہ ملک کے ۷۳؍ فیصد طلبہ ہائر سیکنڈری اسکول کی تعلیم مکمل کرنے سے پہلے نو دو گیارہ ہوجاتے ہیںیعنی سلسلۂ تعلیم منقطع کردیتے ہیں۔ یہ ایسا آئینہ ہے جس میں اپنا چہرا دیکھنے کی تاب شاید ہم میں سے کسی کی نہ ہو۔ اِن ۷۳؍ فیصد میں بڑی تعداد ایسے طلبہ کی ہوسکتی ہے جن پر اسکول سے پہلے کے دور میں والدین نے محنت نہیں کی اور اسکولی دور میں اساتذہ نے دوگنا محنت (والدین کی اور خود کی) کا فرض ادا نہیں کیا۔
یوم اساتذہ منانے کے معاملے میں پوری دُنیا میں ہمارا چار سال سینئر ہونا اچھی بات ہے۔اور بھی اچھی بات ہوتی اگر ہمارے یہاں اساتذہ کے احترام کا پوری دُنیا سے چار گنا زیادہ جذبہ ہوتا۔ چار گنا نہ سہی جتنا ہونا چاہئے کم از کم اُتنا ہوتا۔ وہ نہیں ہے۔ اساتذہ کا احترام یعنی کیا؟ اُنہیں آتے جاتے سلام کرنا؟ دعوت میں مل جائیں تو پہلے اُنہیں کھاناپیش کرنا؟ جب وہ بیٹھ جائیں تب بیٹھنا؟اُن کے سامنے خاموش رہنا اور اُن کی باتیں توجہ سے سننا؟ احترام کا کچھ تو معنی ہوتا ہوگا۔ کیا وہی معنی ہے جو یہاں بتایا گیا؟ اگر کوئی کہے کہ گھروں میں اور اسکولوں میں احترام، احترام کہا تو جاتا ہے مگر اس کا مفہوم سمجھایا نہیں جاتا تو مجھے حیرت نہیں ہوگی، افسوس ہوگا اور بے پناہ ہوگا۔ ابتدائی جماعتوں کے طلبہ استاد کا ادب یا استاد کا احترام کے موضوع پر مضمون نویسی کی مشق کرتے ہیں۔ اس طرح ابتداء ہی سے یہ بات اُن کے ذہن نشین کرائی جاتی ہے مگر احترام یعنی کیا، یا، احترام کا حقیقی معنی کیا ہے یا کیا ہونا چاہئے یہ کوئی نہیں بتاتا۔
میرے خیال میں احترام ِاساتذہ کا معنی اُنہیں سلام کرنے سے زیادہ اُن کی قدر و منزلت ہے۔ اُن کی بات خاموشی سے سننے سے زیادہ اُس بات کو سمجھنا اور کچھ سمجھ میں نہ آئے تو پوچھنا ہے۔ وہ جو کچھ بھی سمجھائیں اُسے سمجھنے کے ساتھ ساتھ اُن کے لب و لہجہ سے، اُن کی لفظیات سے، اُن کی حرکات و سکنات سے اور موضوع پر اُن کی دسترس سے سیکھنا بھی احترام ہے۔ احترام میں اُن کے علم و فضل سے استفادہ ہی نہیں، اپنے سوالات کے ذریعہ مزید استفادہ کی راہ ہموار کرنا بھی شامل ہے۔ صحیح معنوں میں احترام کرنے والے شاگرد کو اچھا شاگرد کہنا غلط نہیں، اور استاد کا استاد کہنا بھی غلط نہیں۔ وہ اس طرح کہ بعض اوقات اُس کے سوالات اُستاد کو بھی غورو خوض اور تحقیق پر آمادہ کرتے ہیں۔ اُستاد کا کردار شاگرد کے رشتے کے بغیر ادھورا ہے بالکل اُسی طرح جیسے اُستاد کا احترام شاگرد کے احترام کے بغیر ادھورا ہے۔مجھے کبھی تدریس جیسی تدریس کا موقع نہیں ملا مگر جہاں تک مَیں نے اس منصب کو سمجھنے کی کوشش کی ہے، یہی سمجھ پایا ہوں کہ شاگرد اُسی استاد کا احترام کرتے ہیں جو اُن کا احترام کرتا ہے۔ لیجئے بات گھوم گئی۔ استاد کے احترام میں شاگرد کا احترام آگیا۔ یہ اس لئے ہوا کہ حقیقت یہی ہے۔مگر، شاگرد کے ذریعہ اُستاد کے احترام میں اور استاد کے ذریعہ شاگرد کے احترام میں فرق ہے۔ شاگرد کے ذریعہ اُستاد کے احترام کا حقیقی معنی بیان کیا جاچکا ہے۔ رہا اُستاد کے ذریعہ شاگرد کا احترام ، تو اس میں بھی کئی اہم باتیں شامل ہیں مثلاً شاگرد کو پورے خلوص کے ساتھ تحصیل علم کا موقع دینا، اُس کی ذہنی سطح پر اُتر کر سمجھانا، اُس کی مشکلات کو سمجھنا اور حل کرنا، اُس کی ذہنی و دلی کیفیات کو سمجھنا، اُس میں علم کا جذبہ پیدا کرنا، اُس کو یہ احساس دلانا کہ اس کے حق میں کوئی اتنا مخلص نہیں ہے جتنا کہ وہ (استاد) ہے۔ یہ ہے اُستاد کے ذریعہ شاگرد کا احترام۔ اُستاد ، شاگرد کا احترام نہ کرے اور اُس سے اپنے احترام کی توقع رکھے یہ انصاف نہیں ہے۔
یوم اساتذہ پر یہ بھی سوچئے کہ اس دن کو جیسا ہونا چاہئے یہ ویسا کیوں نہیں ہوتا؟ کیوں اتنا رسمی ہوجاتا ہے اور تقاریر اور تحفوں میں سمٹ جاتا ہے؟ ا س کی متعدد وجوہات میں سے ایک یہ ہے کہ اس کو معاشرہ کی حمایت حاصل نہیں۔ معاشرہ کے خیال میں یہ دن شاگرد کے ذریعہ استاد کے اکرام کا دن ہے اور جو شاگرد ہے نہ اُستاد، اُس کا اس دن سے کچھ لینا دینا نہیں۔ معاشرہ نہیں جانتا کہ جب تک وہ اساتذہ کا احترام نہیں کریگا، کوئی طالب علم اس کا روادار نہیں ہوگا۔