Updated: September 05, 2026, 2:04 PM IST
| New York
۱۹۳؍ رکنی عالمی ادارے کی جنرل اسمبلی نے ’’Correct the Map‘‘ قرارداد منظور کرلی؛ ۱۶۴؍ ممالک نے حمایت کی، امریکہ نے مخالفت جبکہ ۶؍ ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ نئی قرارداد تقریباً ۴۵۰؍ سال سے رائج Mercator نقشے کے بجائے زیادہ درست Equal Earth نقشے کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ ہندوستان نے بھی حمایت میں ووٹ دیا۔
اقوامِ متحدہ۔ تصویر: آئی این این
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے دنیا کے نقشے میں افریقہ اور دیگر خطوں کے حجم کو زیادہ درست انداز میں ظاہر کرنے کے لیے ایک اہم قرارداد منظور کرلی ہے۔ ’’Correct the Map‘‘ کے نام سے پیش کی گئی قرارداد کے حق میں ۱۶۴؍ ممالک نے ووٹ دیا، امریکہ واحد ملک تھا جس نے مخالفت کی جبکہ ۶؍ ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ تاہم یہ قرارداد قانونی طور پر پابند نہیں اور اس کے ذریعے موجودہ نقشے پر باضابطہ پابندی عائد نہیں کی گئی۔ قرارداد میں ۲۰۱۸ء میں تیار کیے گئے Equal Earth نقشے کو فروغ دینے کی سفارش کی گئی ہے، جس میں براعظموں اور ممالک کا باہمی رقبہ زیادہ درست انداز میں دکھایا جاتا ہے۔ حکومتوں، اقوام متحدہ کے اداروں، تعلیمی اداروں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ ایسے نقشوں کے استعمال کی حوصلہ افزائی کریں جو جغرافیائی رقبے کی حقیقت کے زیادہ قریب ہوں۔
یہ بھی پڑھئے: یومِ اساتذہ پر روشن مستقبل کے معماروں کو سلام

تنازع کا مرکز صدیوں سے استعمال ہونے والا Mercator projection ہے، جسے فلیمش نقشہ ساز Gerardus Mercator نے ۱۵۶۹ء میں سمندری سفر میں مدد کے لیے تیار کیا تھا۔ اس نقشے میں خط استوا سے دور واقع علاقے اپنے حقیقی حجم کے مقابلے میں بہت بڑے دکھائی دیتے ہیں، جبکہ خط استوا کے قریب واقع افریقہ، جنوبی امریکہ اور جنوب مشرقی ایشیا جیسے خطے نسبتاً چھوٹے نظر آتے ہیں۔ اس فرق کی نمایاں مثال گرین لینڈ اور افریقہ ہیں۔ Mercator نقشے پر دونوں تقریباً ایک جیسے حجم کے دکھائی دے سکتے ہیں، حالانکہ افریقہ کا رقبہ گرین لینڈ سے تقریباً ۱۴؍ گنا زیادہ ہے۔ اسی طرح شمالی نصف کرے کے کئی ممالک اور علاقے نقشے پر اپنے حقیقی رقبے سے کہیں زیادہ بڑے دکھائی دیتے ہیں۔
قرارداد کی قیادت افریقی ممالک نے کی اور ٹوگو نے اس مہم کو آگے بڑھانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ افریقی یونین نے اگست ۲۰۲۵ء میں ’’Correct the Map‘‘ مہم کی حمایت کی تھی۔ ٹوگو کے وزیر خارجہ رابرٹ ڈوسی نے اسے محض سیاسی مسئلہ قرار دینے کے بجائے سائنسی اور جغرافیائی درستگی کا معاملہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’منصفانہ دنیا کی ابتدا منصفانہ نقشے سے ہوتی ہے۔‘‘ افریقی مہم کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ نقشے میں براعظم کے حجم کی طویل عرصے سے جاری غلط نمائندگی صرف جغرافیہ کی غلطی نہیں بلکہ لوگوں کے ذہنوں میں افریقہ کے مقام اور اہمیت کے بارے میں تصور کو بھی متاثر کرسکتی ہے۔ بعض ماہرین اور کارکنوں نے Mercator نقشے کے اثر کو ’’نقشہ جاتی نوآبادیات‘‘ سے تعبیر کیا ہے، کیونکہ اس میں یورپ اور شمالی نصف کرے کے خطے بصری طور پر غیر معمولی بڑے دکھائی دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کی شادی کی تقریب پر حملے کو امریکی نائب صدر نے ’حادثہ‘ قرار دیا
Equal Earth projection اسی مسئلے کو کم کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ اس میں براعظموں کے رقبے کا باہمی تناسب زیادہ درست رہتا ہے، اگرچہ زمین کی گول سطح کو ایک ہموار نقشے پر دکھانے کی وجہ سے کسی بھی نقشے میں سمت، شکل، فاصلہ یا رقبے میں کچھ نہ کچھ سمجھوتا ناگزیر ہوتا ہے۔ Equal Earth بنیادی طور پر رقبے کی درست نمائندگی کو ترجیح دیتا ہے۔ اقوام متحدہ کی قرارداد Mercator نقشے کے تمام استعمال ختم کرنے کا حکم نہیں دیتی۔ ٹوگو کی وزارت خارجہ نے واضح کیا ہے کہ سمندری اور فضائی راستوں کی رہنمائی کے لیے Mercator projection اب بھی موزوں ہے، کیونکہ اس کی مخصوص خصوصیات بحری اور ہوابازی کی سمت بندی میں مفید ہیں۔ مقصد زیادہ تر تعلیمی، عوامی، ادارہ جاتی اور ڈیجیٹل نقشوں میں زمینی رقبوں کی زیادہ درست نمائندگی کو فروغ دینا ہے۔
ٹوگو نے کہا ہے کہ وہ سال کے اختتام تک اپنے اسکولوں کی جغرافیہ کی کتابوں میں نقشے تبدیل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ملک اگلے ۶؍ ماہ میں افریقی یونین کے ارکان، دیگر حامی ممالک اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر نئی نمائندگی کو وسیع پیمانے پر اپنانے کے طریقۂ کار پر بھی بات کرے گا۔ مہم میں تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ نقشہ سازی اور مقام کی خدمات فراہم کرنے والی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو بھی شامل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
امریکہ نے قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے اسے ’’نظریاتی ایجنڈا‘‘ قرار دیا اور کہا کہ یہ عالمی امن، خوشحالی اور بہتر بین الاقوامی تعلقات جیسے حقیقی مسائل سے توجہ ہٹانے والی کوشش ہے۔ اس کے برعکس فرانس سمیت کئی ممالک نے قرارداد کی حمایت کی۔ فرانسیسی وزیر خارجہ جین نوئیل بیروٹ نے بھی کہا ہے کہ ان کا ملک Mercator projection سے ہٹ کر ایسے نقشوں کو ترجیح دینے کا ارادہ رکھتا ہے جو زمینی رقبوں کی زیادہ درست عکاسی کرتے ہوں۔