Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسلحہ کی دوڑ ایسے بڑھتی ہے

Updated: March 09, 2026, 1:59 PM IST | Inquilab News Network | mumbai

عالمی دفاعی اخراجات کو سمجھنے کی طرح سمجھا جائے تو وحشت ہوتی ہے۔ اتنے پیسے گولہ بارود میں جھونکنے والی دنیا غربت کا علاج کبھی نہیں کرسکتی، اس کے ہاتھ ہمیشہ بندھے رہیں گے۔ ذرا سوچئے دفاع پر سب سے زیادہ وہ ملک (امریکہ) خرچ کرتا ہے جو شہریوں کو میڈیکل انشورنس دینے کے نام پر بجٹ کا رونا روتا ہے۔

INN
آئی این این
  عالمی دفاعی اخراجات کو سمجھنے کی طرح سمجھا جائے تو وحشت ہوتی ہے۔ اتنے پیسے گولہ بارود میں  جھونکنے والی دنیا غربت کا علاج کبھی نہیں  کرسکتی، اس کے ہاتھ ہمیشہ بندھے رہیں  گے۔ ذرا سوچئے دفاع پر سب سے زیادہ وہ ملک (امریکہ) خرچ کرتا ہے جو شہریوں  کو میڈیکل انشورنس دینے کے نام پر بجٹ کا رونا روتا ہے۔ اگر عالمی دفاعی خرچ پونے تین کھرب ڈالر ہے تو اس کا ایک تہائی صرف امریکہ کے نام کے آگے درج ہے۔ کیا امریکہ میں  کبھی وہ لوگ اقتدار میں  نہیں  آسکتے جو افہام و تفہیم کو موثر ترین دفاعی حکمت عملی قرار دیتے ہوئے گولہ بارود پر کم خرچ کریں  اور دوا دارو پر زیادہ؟ جو بھی صدر آتا ہے کسی کو دشمن بتا کر دفاعی خرچ ہی بڑھاتا ہے۔ وہ اسلحہ خود ہی استعمال نہیں  کرتا، مختلف ملکوں  کو نا دیدہ خطرات کے خلاف متنبہ کرکے انہیں  فروخت بھی کرتا ہے۔ بیچنے والا تو شاطر ہے ہی، خریدنے والے کیوں  عقل سے کام نہیں  لیتے؟ اسلحہ کا ذخیرہ بڑھ جائے اور اسے زنگ لگنے کا خطرہ ہو تو اس کے استعمال کیلئے بہانہ تلاش کیا جاتا ہے۔ ایک بار جنگ ہوگئی تو وہ اسلحہ کے استعمال اور ان کے موثر اور مہلک ہونے کے عملی مظاہرہ کا موقع بن جاتی ہے۔ الگ الگ ممالک جو اسلحہ کا ’’لائیو ڈیمو‘‘ دیکھ چکے ہوتے ہیں ، سودا کرنے پہنچ جاتے ہیں ۔ اس طرح ایک جنگ جو لڑی گئی وہ کسی دوسری جنگ کا بیج بوتی ہے۔ ٹرمپ نے حالیہ دنوں  میں  ’’ہمیشہ لڑی جانے والی جنگ‘‘ (فور ایور وار) کی بات اس لئے کی کہ وہ اور ان جیسے لیڈران کیلئے جنگ منافع بخش صنعت ہے۔ امریکہ کا اسلحہ کا سالانہ کاروبار (فارین ملٹری سیلس) ۱۱۸؍ بلین ڈالر ہے (۲۰۲۴ء )۔
جیسا کہ عرض کیا گیا جنگ کیلئے بہانے تلاش کرنا پرانا حربہ ہے۔ اس میں  نیا بہانہ شامل کرلیا گیا ہے جسے احتیاطی جنگ کہا جاسکتا ہے۔ اسے، اس طرح سمجھئے کہ دو لوگوں  میں  ہاتھا پائی کی نوبت آچکی ہے۔ تیسرا شخص اس اندیشے کے تحت کہ اگر یہ لڑنے لگے تو لڑتے لڑتے اس کی طرف بھی آسکتے ہیں ، اُن کی لڑائی سے پہلے ہی ہتھیار اٹھا لے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے گزشتہ دنوں  جنگ میں  کودنے کا کیا جواز پیش کیا؟ یہی نا کہ اسرائیل ایران پر حملے کی تیاری کر رہا تھا اور اس کے حملے کی صورت میں  ایران، امریکی املاک اور اثاثوں  کو نقصان پہنچا سکتا تھا اس لئے احتیاطی تدبیر کے طور پر امریکہ جنگ میں  اتر گیا۔ واہ کیا خوب، مارکو روبیو کو یا تو اگلا صدر بنانا چاہئے یا ٹرمپ سے پہلے نوبیل انعام دینا چاہئے۔ یہ حماقت ہے یا ذہانت اس کا فیصلہ ہوتا رہے گا، فی الوقت کہا جا سکتا ہے کہ ایسے ہی لوگوں  کی وجہ سے امریکہ نے اپنے بغل بچے اسرائیل کا ساتھ دیا اور ایران پر جنگ مسلط کی جس کے سبب امریکی ٹیکس دہندگان کا اب تک بڑا نقصان ہو چکا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ، ایران کے خلاف جنگ پر یومیہ ایک ارب ڈالر غارت کر ریا ہے۔ جتنے دن جنگ ہوگی اتنے ارب ڈالر برباد ہوں  گے۔
امریکہ کیلئے ایک دن جنگ کا خرچ ایک ارب ڈالر اتنی بڑی رقم ہے کہ اس سے ۲۳؍ تا ۶۶؍ لاکھ لوگوں  کو ایک سال تک غذا فراہم کی جا سکتی ہے (غذائی قیمت کے اعتبار سے)۔ شاید امریکی صدر کو اس بات کا علم نہیں  ہے کہ دنیا کے ۷۳؍ کروڑ سے زیادہ لوگ غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں ۔ افسوس کہ جو ملک شکم پروری پر ناز کر سکتا ہے وہ اسلحہ پروری پر ناز کرتا ہے اور ’’ہمیشہ جنگ‘‘ کا دعویدار ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK