’’بے شک ہم نے اُسے شب ِ قدر میں نازل کیا ہے! اور تم کیا جانو! شب ِقدر کیا ہے! شب ِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔‘‘
EPAPER
Updated: March 09, 2026, 3:13 PM IST | Syed Qutb | Mumbai
’’بے شک ہم نے اُسے شب ِ قدر میں نازل کیا ہے! اور تم کیا جانو! شب ِقدر کیا ہے! شب ِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔‘‘
’’سورۃ القدر‘‘ میں اُس موعودات کا تذکرہ ہے جن کا پوری کائنات نے فرحت و انبساط اور دعا و ابتہال کے ساتھ استقبال اور ریکارڈ کیا۔ یہ ملائِ اعلیٰ اور زمین کے مابین ربط و اتصال کی رات تھی۔ یہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب پر نزولِ قرآن کے آغاز کی رات تھی۔ یہ اُس عظیم واقعے کی رات تھی، جس کی طرح کا کوئی واقعہ عظمت و اہمیت، حقائق کی طرف رہنمائی اور حیاتِ انسانی پر اپنے اثرات کے لحاظ سے زمین نے مشاہدہ نہ کیا تھا۔ ایسا واقعہ جس کی عظمت کو انسانی ادراک پوری طرح پا نہیں سکتا!
’’بے شک ہم نے اُسے شب ِ قدر میں نازل کیا ہے! اور تم کیا جانو! شب ِقدر کیا ہے! شب ِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔‘‘(القدر :۱-۳)
یہ بھی پڑھئے: رمضان ڈائری (۱۸): ’’ممبرا گداگروں کی آماجگاہ بن گیا، آپ بات تک نہیں کر سکتے‘‘
قرآنی آیات، جو اس واقعے کو بیان کرتی ہیں، گویا نور سے جگمگ جگمگ کر رہی ہیں! وہ اللہ کے نور کو جو پُرسکون، خوش منظر، محبت سے بھرپور اور کائنات میں جاری و ساری ہے اور جو قرآن میں پھیلا ہوا ہے، ہر سُو بکھیر رہی ہیں!
اللہ کے نور کے ساتھ فرشتوں اور روح الامین کے نور اور پوری رات زمین اور ملائِ اعلیٰ کے مابین اُن کی آمدورفت سے بھی یہ آیات معمور ہیں: ’’فرشتے اور روح الامین اس میں اپنے رب کے اذن سے ہر حکم کو لے کر اُترتے ہیں۔‘‘ (سورہ القدر: ۴) اسی کے ساتھ یہ آیات صبح کے نور کو، جو نورِ وحی اور نورِ ملائکہ سے ہم آہنگ ہے اور سلامتی کی روح کو جو پوری کائنات کی ارواح میں جاری و ساری ہے، پیش کرتی ہیں۔ ایک اور جگہ ارشاد ہے: ’’سرتا سر امن وسلامتی (کی رات!) یہ صبح کے طلوع ہونے تک۔‘‘ (القدر:۵)
جس رات کا اِس سورہ میں ذکر ہے، یہ وہی رات ہے جس کا ذکر سورئہ دخان میں اِس طرح ہے: ’’بے شک ہم نے اِس (قرآن) کو ایک بابرکت رات میں اُتارا ہے۔ یقیناً ہم (قرآن کے ذریعے) لوگوں کو خبردار کرنے والے ہیں۔ اس رات میں تمام حکیمانہ امور ہمارے حکم سے طے ہوتے ہیں۔ بے شک ہم ہی رسول بھیجنے والے ہیں۔ یہ تمہارے رب کی رحمت کے باعث ہے۔ یقینا وہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔‘‘ (الدخان :۳-۶)
یہ معروف ہے کہ شب ِ قدر رمضان ہی کی ایک رات ہے، جیساکہ سورئہ بقرہ میں ہے:
’’رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل ہوا جو انسانوں کیلئے ہدایت ہے اور جس میں ہدایت کے واضح دلائل اور حق و باطل میں فرق کرنے والی واضح تعلیمات ہیں۔‘‘ (البقرہ :۱۸۵)
یہ بھی پڑھئے: دُنیا کی بے ثباتی،فتح ِ روم کی خوشخبری اور حضرت لقمان کی نصیحتیں سماعت کیجئے
یعنی رمضان المبارک کی اِس رات میں قرآن مجید کے نزول کی ابتدا ہوئی تاکہ آپ اُس کی تعلیمات لوگوں تک پہنچائیں۔ ابنِ اسحاق کی روایت ہے کہ سب سے پہلے سورئہ علق کی ابتدائی آیات کی وحی رمضان المبارک کے مہینے میں ہوئی، جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی عبادت کے لئے غارِ حرا میں خلوت گزیں تھے۔
یہ رات کون سی ہے! اس سلسلے میں بہت سی روایات ہیں۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ رمضان کی ۲۷؍ ویں شب ہے۔ کچھ اور روایات سے ۲۱؍ ویں شب ہے۔ بعض دوسری روایات سے واضح ہوتا ہے کہ رمضان کی آخری دس راتوں میں سے ایک رات ہے اور کچھ دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ رمضان کی کوئی ایک رات ہے… بہرحال زیادہ راجح بات یہ ہے کہ شب ِ قدر رمضان ہی کی ایک رات ہے۔
اس رات کا نام لَیْلَۃُ الْقَدْرِ کیوں ہے؟ ’قدر‘ کا ایک مفہوم ہے: ’منصوبہ بندی اور تدبیر ِ امر‘۔ دوسرا مفہوم ہے ’قدروقیمت اور مقام‘ اور دونوں ہی مفہوم اس عظیم واقعے ’’ قرآن، وحی اور رسالت ‘‘ کے سلسلے میں صحیح ہیں۔ کائنات میں اس سے زیادہ عظیم کوئی واقعہ نہیں، نہ اس سے زیادہ کوئی واقعہ بندوں کی تقدیر اور تدبیرِ امر سے متعلق ہے۔
’شب ِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے‘ قرآن مجید میںاس طرح کے مواقع پر عدد سے کوئی مخصوص تعداد مراد نہیں ہوتی! اس سے صرف کثرت کا اظہار مقصود ہوتا ہے، یعنی یہ رات نوعِ انسانی کی زندگی کی ہزارہا راتوں سے بہتر ہے! ہزاروں مہینے اور ہزارہا سال گزر جاتے ہیں اور حیاتِ انسانی پر اُن کے اثرات اس کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں پڑتے جتنے اِس مبارک اور سعید رات نے انسانی زندگی پر ڈالے۔
اِس رات کی عظمت کی حقیقت انسانی فہم و ادراک سے ماورا ہے۔ ’’اور تم کیا جانو! شب ِ قد ر کیا ہے۔‘‘بلاشبہ یہ رات عظیم ہے اور اس لئے عظیم ہے کہ اسے قرآن کے، جس میں عقیدہ، فکر، قانون اور زندگی کے وہ تمام اصول و آداب ہیں جن سے زمین اور انسانی ضمیر کی سلامتی وابستہ ہے، نزول کے آغاز کے لئے منتخب کیا گیا۔ یہ اس لئے بھی عظیم ہے کہ اس میں ملائکہ بالخصوص جبرئیل علیہ السلام اپنے رب کے اِذن کے ساتھ قرآن لے کر زمین پر نازل ہوئے۔ اور پھر یہ فرشتے کائنات کے اس جشن نوروز کے موقع پر زمین و آسمان کے مابین پھیل گئے۔ [یہ] سورہ اِن امور کی عجیب و غریب انداز میں تصویر کشی کرتی ہے۔
آج جب ہم ان طویل صدیوں کے پیچھے سے اِس بزرگ اور سعید رات کی طرف دیکھتے ہیں اور اس عجیب جشن نوروز کا تصور کرتے ہیں جس کا مشاہدہ اُس رات زمین نے کیا اور اُس رات میں جس امر کی تکمیل ہوئی، اس کی حقیقت پر غور کرتے ہیں اور زمانے کے مختلف مراحل، زمین کے واقعات اور قلوب و اذہان کے تصورات و افکار پر اس کے دور رس اثرات کو دیکھتے ہیں تو ہم واقعتا ایک عظیم امر کا مشاہدہ کرتے ہیں اور قرآن مجید نے ’’اور تم کیا جانو! شب ِ قدر کیا ہے!‘‘ کہہ کر اُس رات کی عظمت کی طرف جو اشارہ کیا ہے، اُسے ہم تھوڑا سا سمجھ پاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: رمضان ڈائری (۱۷): سوچ بدلو، حالت خود بخود بدل جائے گی
اِس رات میں تمام حکیمانہ امور کا فیصلہ ہوا۔ اس رات میں قدریں، بنیادیں اور پیمانے وضع ہوئے۔ اس میں افراد کی قسمتوں سے بڑھ کر قوموں، نسلوں اور حکومتوں کی قسمتوں کا فیصلہ ہوا بلکہ اس سے بھی زیادہ عظیم امر، حقائق، طور طریق اور قلوب کی قدریں طے ہوئیں۔نوعِ انسانی اپنی جہالت و بدبختی سے اِس شب کی قدروقیمت، اس واقعہ ’وحی‘ کی حقیقت اور اس معاملے کی عظمت سے غافل ہے، اور اس جہالت و غفلت کے نتیجے میں وہ اللہ کی بہترین نعمتوں سے محروم ہے۔ شب ِ قدر کی یاد اور اس میںایمان و احتساب کے ساتھ اللہ کی عبادت، اِس کامیاب اور بہترین اسلامی نظامِ تربیت کا ایک جزو ہے۔ ہمیں چاہئے کہ اس رات کی ویسی قدر کریں جیسا اس کا حق ہے۔ بندگان خدا کیلئے یہ بڑی سعادت ہوگی۔