وہ کہتی ہیں ’’مہینے میں ایک ہفتہ ٹریننگ یا نگرانی کیلئے الگ الگ علاقوں (طے شدہ پلاننگ کے مطابق) میں جاتی ہوں۔ رمضان میں معمولات یکسر بدل جاتے ہیں۔
EPAPER
Updated: March 09, 2026, 3:27 PM IST | Saaima Shaikh | Mumbai
وہ کہتی ہیں ’’مہینے میں ایک ہفتہ ٹریننگ یا نگرانی کیلئے الگ الگ علاقوں (طے شدہ پلاننگ کے مطابق) میں جاتی ہوں۔ رمضان میں معمولات یکسر بدل جاتے ہیں۔
یاسمین اویس کا تعلق بنگلور سے ہے جبکہ شادی کے بعد گزشتہ ۲۵؍ سال سے نوی ممبئی میں مقیم ہیں۔ وہ پچھلے ۱۶؍ سال سے تعلیمی شعبے سے وابستہ ہیں اوربحیثیت ای سی سی سبجیکٹ میٹر ایکسپرٹ خدمات انجام دے رہیں۔ ان کے ذمہ ہندوستان کی تمام آنگن واڑی ٹیچروں کی ٹریننگ اور نگرانی کرنا ہے۔ وہ خاص طور پر ملک کے دیہی علاقوں میں ٹریننگ دینے جاتی ہیں۔ انہوں نے ماسٹرز اِن ایجوکیشن جبکہ پوسٹ ڈپلوما اِن اَرلی چائلڈ ہوڈ ایجوکیشن کیا ہے۔ کیمبرج یونیورسٹی سے ڈپلوما ٹیچر ٹریننگ کی ہے۔ فی الحال پی ایچ ڈی اَرلی چائلڈ ہوڈ ایجوکیشن کر رہی ہیں جس کا وائیوا مکمل ہونا باقی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: رمضان کا آخری عشرہ خواتین کیلئے بھی بے حد اہم
وہ کہتی ہیں ’’مہینے میں ایک ہفتہ ٹریننگ یا نگرانی کیلئے الگ الگ علاقوں (طے شدہ پلاننگ کے مطابق) میں جاتی ہوں۔ رمضان میں معمولات یکسر بدل جاتے ہیں۔ ٹریننگ یا نگرانی کے لئے جاتی ہوں تو گھر میں سب کچھ تیاری کرکے جاتی ہوں کیونکہ میری فیملی ہے۔ انہیں بھی دیکھنا ہوتا ہے۔ ٹریننگ کے دوران افطار کی اشیاء مل جاتی ہیں جبکہ سحری کے لئے دشواری ہوتی ہے۔ مَیں اس دوران بریڈ بٹر جیم کھا لیتی ہوں۔ پیکڈ فوڈ کو ترجیح دیتی ہوں۔ کیونکہ ہوٹل میں کھانا رکھنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ ابھی حال ہی میں ٹریننگ کے سلسلے میں علی باغ گئی تھی۔ تین چار دن وہیں تھی۔ اس دوران لیکچر دینا اور مسلسل بولنا پڑتا ہے۔ ایکٹیویٹیز بھی کروانی ہوتی ہیں۔ جسمانی طور پر فعال رہنا پڑتا ہے۔ روزہ کی حالت میں پیاس محسوس ہوتی ہے مگر روزہ، روزہ ہے، یہ احساس بیدار رکھتی ہوں۔ چونکہ ہم جن دیہی علاقوں میں جاتے ہیں وہاں کئی جگہوں پر لائٹ بھی نہیں ہوتی اسلئے گرمی کا بھی سامنا ہوتا ہے۔ اس صورت میں دشواری ہوتی ہے لیکن اللہ آسانی پیدا کردیتا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: صنف نازک زمانے سے قدم سے قدم ملا کر چل رہی ہے جس کی مثال یہ خواتین ہیں
اپنے روزمرہ کے معمولات کے متعلق یاسمین کہتی ہیں، ’’عام طور پر مَیں ورک فرام ہوم کرتی ہوں کیونکہ میری کمپنی دہلی میں ہے۔ صبح ساڑھے ۱۰؍ سے شام کے ۶؍ بجے تک کام جاری رہتا ہے۔ اس لئے مَیں صبح گھر کے کام کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔ افطاری کی کچھ تیاری بھی پہلے کرلیتی ہوں کیونکہ ۶؍ بجے دفتر سے فارغ ہونے کے بعد افطاری کی تیاری کے لئے بہت کم وقت رہ جاتا ہے۔ دفتری کام کاج کے دوران ہی عبادت کے لئے وقت نکال لیتی ہوں۔ دفتر اور امور خانہ داری کے علاوہ عبادت اور تلاوتِ قرآن سے فارغ ہوکر رات میں پڑھائی (پی ایچ ڈی کے لئے) کرتی ہوں۔‘‘
روزہ کے ساتھ ساتھ دیگر معمولات کو سنبھالنے کی ہمت کیسے ملتی ہے؟ اس سوال کے جواب میں کہتی ہیں: ’’میرے والدین نے میری تربیت اس طرح کی ہے کہ مَیں ہر کام کو بڑے جذبے کے ساتھ کرتی ہوں۔ یہی تربیت مجھے روزمرہ زندگی میں کام آرہی ہے۔ مَیں جس کام کو انجام دینے کا عزم کرتی ہوں اسے مکمل کئے بغیر دم نہیں لیتی۔ رہی بات روزہ کی تو رمضان صبر کا مہینہ ہے جو مجھے صبر کرنا سکھاتا ہے۔ اس کے علاوہ میری اکلوتی نو عمر بیٹی ہے جو میری مدد کرتی ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: روزہ میں ہائیڈریٹ رہنے کے تین آسان طریقے
یاسمین اویس نے دورانِ گفتگو بتایا کہ اُن کی زندگی کا مقصد ٹیچروں کو اعلیٰ اور عمدہ ٹریننگ دے کرملک کی نئی نسل تک بہتر تعلیم پہنچانا ہے۔ چونکہ ۳؍ سے ۶؍ سال کی عمر میں تعلیم کی مضبوط بنیاد رکھی جاسکتی ہے، اس لئے یاسمین نے ارلی چائلڈ ایجوکیشن پر توجہ مرکوز کی ہے۔ وہ وطن عزیز کے کونے کونے تک تعلیم کی روشنی پھیلانا چاہتی ہیں۔ یہی جذبہ انہیں آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتا ہے اور روزہ کی حالت میں بھی اپنے کام میں مستعد رکھتا ہے۔‘‘