اس کیلئے ہم کتنا تیار ہیں یہ اہم سوال ہے۔ رمضان کے پہلے دو عشر وں میں بھی اگر وقت نکالنا مشکل تھا تو آخری عشرہ میں یہ کیسے آسان ہوجائیگا؟اسلئے وقت بچانے کی تدابیر پر عمل ازحد ضروری ہے۔ رمضان المبارک کے آخری عشرہ کا ہر لمحہ قیمتی ہے بالخصوص وہ طاق راتیں جن میں شب قدر کو تلاش کرنے کی تاکید کی گئی ہے
سحری کے لئے کچھ تیاری رات ہی سے کر لینا بہت مفید ثابت ہوتا ہے۔ تصویر: آئی این این
بیشک اللہ رب العزت کی خواتین پر یہ خصوصی عنایت ہے کہ وہ بیک وقت کئی امور انجام دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ایک ہی وقت میں وہ گھر کی دیکھ بھال، بچوں کی تربیت، کھانا پکانا اور دیگر گھریلو ذمہ داریاں بڑی مہارت سے نبھاتی ہیں۔ لیکن بعض اوقات یہی صلاحیت ان کے لئے ایک آزمائش بھی بن جاتی ہے۔ خاص طور پر ماہِ رمضان میں بہت سی خواتین افطار کیلئے مختلف پکوان بنانے میں اس قدر مصروف ہو جاتی ہیں کہ عبادت کیلئے وقت نکالنا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ گھریلو کام بھی اگر خلوص نیت کے ساتھ کئے جائیں تو وہ بھی عبادت کا درجہ رکھتے ہیں۔ اسلام میں نیت کو بڑی اہمیت حاصل ہے اور اگر کوئی خاتون اپنے اہل خانہ کی خدمت کو اللہ کی رضا کے لئے انجام دے تو یقیناً اسے بھی اجر ملتا ہے۔ اس کے باوجود عبادت کا ایک خاص مقام اور اہمیت ہے جس کیلئے وقت نکالنا ضروری ہے۔ رمضان کا اصل مقصد ہی یہ ہے کہ انسان اللہ کے قریب ہو، اپنے نفس کی تربیت کرے اور روحانی طور پر خود کو بہتر بنائے۔
یہ بھی پڑھئے: صنف نازک زمانے سے قدم سے قدم ملا کر چل رہی ہے جس کی مثال یہ خواتین ہیں
اسی لئے رمضان میں خصوصی لائحہ عمل ترتیب دینا اہم ہے۔ جن خواتین نے اس لائحہ عمل کو پیش نگاہ رکھا اُنہوں نے رمضان میں عبادت کیلئے بھی وقت نکالا اور اب بھی نکال رہی ہیں۔ اس عملی مشق سے ثابت ہوا کہ تھوڑی سی منصوبہ بندی کر لی جائے تو نہ صرف گھریلو کام آسان ہوسکتے ہیں بلکہ عبادت کیلئے بھی مناسب وقت نکالا جا سکتا ہے۔ میرا مخلصانہ مشورہ اب بھی یہی ہے کہ افطار کے وقت بیک وقت بہت سے پکوان بنانے سے گریز کریں۔ اکثر گھروں میں افطار کی میز پر سموسے، پکوڑے، چاٹ، فروٹ چاٹ، مختلف مشروبات اور کئی اقسام کے کھانے رکھے جاتے ہیں۔ یہ سب تیار کرنے میں خواتین کا بہت سا وقت اور توانائی صرف ہو جاتی ہے۔
اس کے برعکس اگر افطار میں صرف ایک یا دو سادہ آئٹم تیار کئے جائیں اور اس کے ساتھ تازہ پھلوں کا اہتمام کر لیا جائے تو نہ صرف وقت کی بچت ہوگی بلکہ صحت کے لئے بھی بہتر ہوگا۔ اسی طرح کھانے میں بھی سادگی کو ترجیح دینا زیادہ مناسب ہے۔ سادہ اور متوازن غذا نہ صرف ہاضمہ کے مسائل سے محفوظ رکھتی ہے بلکہ روزے کے اصل مقصد یعنی ضبطِ نفس اور سادگی کی روح کو بھی برقرار رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: جی ایم مومن ویمنس کالج: ’آئی ایس او‘ سے سرٹیفکیٹ حاصل کرنے والا پہلا ادارہ
آج ۱۹؍ واں روزہ ہے۔ کل کا دن گزر جانے کے بعد جانے کے بعد آخری عشرہ شروع ہوگا جس میں طاق راتیں بھی ہوں گی جو عبادت کے اعتبار سے رمضان کا مغز ہیں۔ اس لئے وقت بچانے کا لائحہ عمل اب بھی بہت ضروری ہے۔ اس کا سب سے پہلا فائدہ یہ کہ آپ کے وقت کی بچت ہوگی اور آپ اس قیمتی وقت کو عبادت، قرآن کی تلاوت یا ذکر و اذکار میں صرف کر سکیں گی۔ دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ گھر کا بجٹ بھی قابو میں رہے گا کیونکہ رمضان میں غیر ضروری اخراجات اکثر بڑھ جاتے ہیں۔ تیسرا فائدہ یہ ہوگا کہ زیادہ تلی ہوئی اور بھاری غذا سے بچنے کی وجہ سے ہاضمہ کے مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑیگا۔ اس کے علاوہ بچوں میں صبر و برداشت کی عادت پڑے گی اور وہ روزہ کے حقیقی مفہوم سے آشنا ہونگے کہ روزہ، افطار تا سحری بے تحاشا کھانے پینے کا نام نہیں بلکہ یہ ضبط نفس کی تربیت کا نام ہے۔
سحری کے لئے بھی کچھ تیاری رات ہی سے کر لینا بہت مفید ثابت ہوتا ہے۔ اگر کچھ چیزیں پہلے سے تیار کر کے رکھ لی جائیں تو سحری کے وقت دشواری نہیں ہوتی۔ اسی طرح بچوں کو رات میں جلد سونے کی تاکید کریں تاکہ ان کی نیند پوری ہو سکے اور وہ سحری کے وقت زیادہ تنگ نہ کریں۔
یہ بھی پڑھئے: رمضان میں بچوں کو یہ کام سکھائے جاسکتے ہیں
رمضان تربیت کا مہینہ بھی ہے، اس لئے بچوں کو چھوٹے موٹے گھریلو کاموں میں شامل کرنا فال نیک ہے۔ دسترخوان بچھانا، برتن رکھنا یا کھانے کی میز ترتیب دینا بچوں کو سکھایا جا سکتا ہے۔ اگر بچے کچھ بڑے اور سمجھدار ہوں تو انہیں پھل کاٹنا بھی سکھایا جا سکتا ہے۔ شربت بنانا اکثر بچوں کو بہت پسند ہوتا ہے، اس لئے انہیں ایسے کام دیئے جائیں جن میں انہیں بھی خوشی ہو اور آپ کی بھی مدد ہو ۔ اس سے بچوں میں ذمہ داری کا احساس پیدا ہوگا اور وہ رمضان کی روح کو بہتر طور پر سمجھ سکیں گے۔
رمضان میں روزمرہ کے استعمال کی اشیاء کا ذخیرہ کرلینا دانشمندی ہے جیسے گوشت، مرغی، مسالہ جات، سموسے کی پٹی، میدہ وغیرہ۔ اگر ممکن ہو تو الگ الگ قسم کی چٹنیاں بھی پہلے سے تیار کر کے محفوظ کر لی جائیں تاکہ بہ آسانی استعمال کی جا سکیں۔
یہ بھی پڑھئے: گاجر بینائی تیز کرنے کیساتھ ساتھ حسن بھی نکھارے
بہرکیف، کل مغرب بعد سے شروع ہونے والا رمضان المبارک کا آخری عشرہ بہت اہم ہے۔ خواتین کو گھر بھی دیکھنا ہے اور عبادت کیلئے نسبتاً زیادہ وقت نکالنا ہے۔ اس لئے جتنی زیادہ قبل از وقت تیاری رہے گی اور کاموں کی تکمیل کیلئے جتنی زیادہ حکمت بروئے کار لائی جائیگی اُتنا زیاہ وقت عبادت کیلئے نکالا جاسکتا ہے۔ مکمل ذہنی یکسوئی کے ساتھ ہو تو یہ عبادت توشۂ آخرت ہے۔