Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’ڈی کے‘‘ کی تاجپوشی

Updated: May 30, 2026, 2:44 PM IST | Inquilab News Network | mumbai

کرناٹک میں اب تک کے وزیر اعلیٰ سدا رمیا کو سمجھا بجھا کر ’’ڈی کے‘‘ کے نام سے مشہور ڈی کے شیو کمار کو اُن کا جانشین مقرر کرنے کا کانگریس اعلیٰ کمان کا فیصلہ یہ سمجھانے کیلئے کافی ہے کہ پارٹی خود کو ریاستی لیڈروں کی آپسی چپقلش اور رسہ کشی کا مزید یرغمال بننے نہیں دینا چاہتی اور اس نے راجستھان میں گہلوت اور سچن پائلٹ کے تنازع اور چھتیس گڑھ میں بھوپیش بگھیل اور کماری شیلجا کے تصادم سے لازمی سبق سیکھا ہے۔

INN
آئی این این
کرناٹک میں  اب تک کے وزیر اعلیٰ سدا رمیا کو سمجھا بجھا کر ’’ڈی کے‘‘ کے نام سے مشہور ڈی کے شیو کمار کو اُن کا جانشین مقرر کرنے کا کانگریس اعلیٰ کمان کا فیصلہ یہ سمجھانے کیلئے کافی ہے کہ پارٹی خود کو ریاستی لیڈروں  کی آپسی چپقلش اور رسہ کشی کا مزید یرغمال بننے نہیں  دینا چاہتی اور اس نے راجستھان میں  گہلوت اور سچن پائلٹ کے تنازع اور چھتیس گڑھ میں  بھوپیش بگھیل اور کماری شیلجا کے تصادم سے لازمی سبق سیکھا ہے۔
بی جے پی کے برخلاف، جو کسی بھی لیڈر کو آنِ واحد میں  برطرف کردیتی ہے اورکوئی کچھ نہیں  کہتا، کانگریس اعلیٰ کمان کو ریاستی لیڈروں  کے اثرورسوخ نے کئی ریاستوں  میں  ٹھیس پہنچائی۔ اب سے پہلے پارٹی نے ریاستی لیڈروں  کی ضد کے آگے سر تسلیم خم کیا مگر لگتا ہے کہ اب ایسا نہیں  ہوگا۔ اس بار پارٹی نے سخت فیصلہ کیا اور اس پر قائم رہتے ہوئے سدا رمیا کو سبکدوش ہونے پر مجبور کرکے ’’ڈی کے‘‘ کی وزارت اعلیٰ پر مہر لگا ئی۔
طالب علمی کے دور سے پارٹی کے ساتھ رہنے والے ’’ڈی کے‘‘  نے پارٹی کی طلبہ تنظیم ’’این ایس یو آئی‘‘ سے اپنے سفر کا آغاز کیا تھا۔ وہ کرناٹک کی ووکالنگا برادری کے قد آور لیڈر ہونے کے علاوہ نہرو گاندھی خاندان کے تئیں  وفادار ہیں ۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ ۲۰۱۹ء میں  جب ای ڈی سے متعلق معاملات میں  وہ عدالتی تحویل میں  تھے تب سونیا گاندھی اُن سے ملاقات کیلئے تہاڑ جیل گئیں  اور اُنہیں  یقین دلایا تھا کہ پارٹی اُن کے ساتھ ہے۔ وہ کانگریس کیلئے حکمت عملی تیار کرنے والوں  میں  بھی شمار کئے جاتے ہیں  اور مالی انتظامات کیلئے بھی مؤثر مانے جاتے ہیں ۔ پارٹی کو مشکل حالات کے بھنور سے نکالنے میں  بھی ’’ڈی کے‘‘  کی صلاحیت کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ یہ بات بھی اُن کے حق میں  گئی کہ وہ عمر کی ۶۴؍ ویں  منزل میں  ہیں  جبکہ سدا رمیا ۷۸؍ ویں  بہار دیکھ رہے ہیں  اور یہ حقیقت ہے کہ اُنہیں  (سدا رمیا کو) کافی موقع مل چکا ہے۔ آخر الذکر اپنے سیاسی رہبر  دیو راج ارس کی طرح طویل عرصہ ( ۷؍ سال ۲۳۹؍ دن) وزیر اعلیٰ رہے جبکہ سدا رمیا نے اس ریکارڈ کو بھی توڑا اور ۸؍ سال ۱۱؍ دن وزیر اعلیٰ رہے۔ 
گزشتہ کئی برسوں  سے کانگریس اپنے مسائل و معاملات کو بہتر طریقے سے حل کرنےمیں  ناکام دکھائی دے رہی تھی۔ حکمراں  جماعت کے ہمنوا میڈیا نے اسے بڑھا چڑھا کر پیش کرنے میں  کوئی کسر نہیں  چھوڑی۔ اس کی وجہ سے پارٹی کی اعلیٰ قیادت پر شدید تنقیدہوئی مگر کرناٹک میں  دو بڑے لیڈروں  کی رسہ کشی کو جس طرح پارٹی نے بحسن و خوبی ختم کیا اور دونوں  لیڈروں  کو ایک دوسرے کے تئیں  اچھے جذبے کے ساتھ مل جل کر پارٹی کیلئے متحرک رہنے پر آمادہ کیا اس کی ستائش کی جانی چاہئے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ راہل گاندھی کی حکمت عملی اور معاملہ فہمی کا نتیجہ ہے جو نئی صلاحیتوں  کو موقع دینا چاہتے ہیں  اور اہم فیصلے کرنے میں  تاخیر نہیں  کرتے۔ غیر جانبدار حلقوں  نے اس سے قبل تمل ناڈو میں  ’’ٹی وی کے‘‘ سے بروقت مفاہمت اور پھر کیرالا میں  تین بڑے لیڈروں  کی رسہ کشی کو بڑی خوبی سے حل کرنے اور وی ڈی ستیشن کے نام پر سب کی رضامندی حاصل کرنے کیلئے بھی راہل گاندھی نیز پارٹی صدر ملکارجن کھرگے کی تعریف کی ہے۔
اس سے یہ پیغام عام ہوا کہ حکمراں  جماعت کے ہمنوا صحافتی حلقوں  کا ہاتھ دھو کر کانگریس کے پیچھے پڑنے کا رجحان ایک خاص مشن کے تحت تھا ورنہ کانگریس اپنے داخلی اُمور میں  بھی جمہوری طریقہ اپنانے کی فکر کرتی ہے۔ ’’ڈی کے‘‘  کی ترقی کو اسی زاویہ سے دیکھنا چاہئے جو افہام وتفہیم کی جمہوری روایت کا نتیجہ ہے نہ کہ کسی آمرانہ فیصلے کا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK