Max Planck کی زندگی علم، تحقیق، صبر، دیانت اور فکری عظمت کی ایک روشن مثال ہے، ان کی علمی خدمات نے پوری انسانی تہذیب پر گہرا اثر ڈالا۔
EPAPER
Updated: May 30, 2026, 4:31 PM IST | Mumbai
Max Planck کی زندگی علم، تحقیق، صبر، دیانت اور فکری عظمت کی ایک روشن مثال ہے، ان کی علمی خدمات نے پوری انسانی تہذیب پر گہرا اثر ڈالا۔
میکس پلانک بیسویں صدی کے مشہور جرمن ماہر طبیعیات تھے جنہیں کوانٹم فزکس کا بانی مانا جاتا ہے۔ ان کے پیش کردہ نظریات نے ماڈرن فزکس کی بنیاد رکھی اور انہیں ۱۹۱۸ء میں فزکس کے نوبیل انعام سے نوازا گیا۔ ان کا پورا نام میکس کارل ارنسٹ لُڈوِگ پلانک تھا۔
میکس پلانک ۲۳؍ اپریل۱۸۵۸ء کو جرمنی کے شہر کیل ( Kiel) میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد قانون کے پروفیسر تھے اور خاندان علمی و تعلیمی ماحول رکھتا تھا۔ بچپن ہی سے پلانک نہایت ذہین، سنجیدہ اور مطالعہ کے شوقین تھے۔ موسیقی سے بھی انہیں گہرا لگاؤ تھا اور وہ پیانو نہایت مہارت سے بجاتے تھے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد ان کا خاندان میونخ منتقل ہوگیا جہاں انہوں نے اپنی اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ نوجوانی ہی میں ان کی دلچسپی ریاضی اور طبیعیات کی طرف بڑھنے لگی، اگرچہ اس زمانے میں بعض اساتذہ نے انہیں مشورہ دیا کہ طبیعیات میں اب کوئی نئی دریافت باقی نہیں رہی لیکن پلانک نے اپنی محنت اور غیرمعمولی ذہانت سے اس خیال کو غلط ثابت کردیا۔
پلانک نے لڈوگ میکسیملین یونیورسٹی آف میونخ اور بعد ازاں برلن یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے حرارت اور توانائی کے اصولوں، خصوصاً ’’تھرموڈائنامکس ‘‘پر تحقیق شروع کی۔ ابتدا میں ان کی توجہ اس بات پر مرکوز تھی کہ حرارت کس طرح منتقل ہوتی ہے اور مادہ توانائی کے ساتھ کس طرح تعامل کرتا ہے۔ ان کی تحقیق نہایت دقیق اور فلسفیانہ انداز کی تھی۔ پلانک یہ یقین رکھتے تھے کہ کائنات کے تمام مظاہر کے پیچھے ریاضیاتی قوانین کارفرما ہیں۔
یہ بھی پڑھئے : عالمی کہانیوں کا ترجمہ: بلبل
انیسویں صدی کے آخری برسوں میں سائنسداں ’’بلیک باڈی ریڈی ایشن‘‘ کے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ یہ مسئلہ اس بات سے متعلق تھا کہ گرم اجسام کس طرح روشنی اور حرارت خارج کرتے ہیں۔ کلاسیکی طبیعیات اس مسئلے کی درست وضاحت کرنے میں ناکام رہی تھی، اور اس ناکامی کو ’’الٹراوائلٹ کیٹاسٹرافی‘‘ کہا جاتا تھا۔ ۱۹۰۰ء میں پلانک نے ایک ایسا نظریہ پیش کیا جس نے طبیعیات کی دنیا بدل دی۔ انہوں نے کہا کہ توانائی مسلسل مقدار میں خارج نہیں ہوتی بلکہ نہایت چھوٹے چھوٹے پیکٹس یا حصوں میں خارج ہوتی ہے۔ ان حصوں کو بعد میں ’’کوانٹا‘‘(quanta) کہا گیا۔ یہی نظریہ بعد میں ’’کوانٹم تھیوری‘‘ کہلایا۔ پلانک کی یہ دریافت اتنی انقلابی تھی کہ اس نے سائنس کی پوری بنیاد کو تبدیل کردیا۔ بعد میں البرٹ آئنسٹائن نے اسی نظریے کی بنیاد پر فوٹو الیکٹرک ایفیکٹ کی وضاحت کی اور پھر کوانٹم میکینکس کی عظیم عمارت قائم ہوئی۔
یہ بھی پڑھئے :وہ ۲۴؍ شخصیات جو اے آئی کی دنیا کو تشکیل دے رہی ہیں
پلانک کی خدمات صرف کوانٹم نظریے تک محدود نہیں تھیں بلکہ انہوں نے سائنسی دنیا میں تحقیق، تدریس اور ادارہ سازی میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ وہ سائنس کو انسانیت کی خدمت کا ذریعہ سمجھتے تھے اور نوجوان سائنسدانوں کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ میکس پلانک کا انتقال ۴؍ اکتوبر ۱۹۴۷ء کو جرمنی میں ہوا تھا۔
(وکی پیڈیا اور برٹانیکا ڈاٹ کام)