Inquilab Logo Happiest Places to Work

میرا روڈ سوسائٹی تنازع: میڈیا اور بی جے پی کا ’بکرا جہاد‘ کا پروپیگنڈہ بے نقاب

Updated: May 30, 2026, 3:35 PM IST | Sajid Mahmood Shaikh | Mumbai

میرا روڈ کے ’پونم کلسٹر ون‘ سوسائٹی میں عید الاضحیٰ کے موقع پر بکرے لانے پر ہونے والے حالیہ تنازع کی اصل سچائی دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ سامنے آ گئی ہے جس نے گودی میڈیا اور ہندوتوا تنظیموں کے یکطرفہ ایجنڈے اور ’بکرا جہاد‘ جیسے فرضی دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے۔

A scene from "Poonam Klystron: (PTI)
’پونم کلسٹر ون‘ کا ایک منظر: ( پی ٹی آئی)

 میرا روڈ کے ’پونم کلسٹر ون‘ سوسائٹی میں عید الاضحیٰ کے موقع پر بکرے لانے پر ہونے والے حالیہ تنازع کی اصل سچائی دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ سامنے آ گئی ہے جس نے گودی میڈیا اور ہندوتوا تنظیموں کے یکطرفہ ایجنڈے اور ’بکرا جہاد‘ جیسے فرضی دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے۔ معروف صحافی سوہت مشرا کی ایک خصوصی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق سوسائٹی کے مٹھی بھر افراد کے اعتراض کو بنیاد بنا کر بیرونی شرپسند عناصر، بجرنگ دل اور بی جے پی لیڈروں نے جان بوجھ کر اس معاملے کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کی ۔

یہ بھی پڑھئے : میرا روڈ تنازع:شرپسندوں کیخلاف سخت کارروائی کی مانگ

 ۱۰؍ سال پرانی روایت اور اے جی ایم کی منظوری 

دستاویزات کے مطابق، پونم کلسٹر ون سوسائٹی (جس میں تقریباً ۵۵۰ ؍خاندان مقیم ہیں اور ۲۰۰ ؍ سے زائد غیر مسلم خاندان بھی شامل ہیں) میں پچھلے ۱۰ ؍ برس سے عید کے موقع پر بکرے لائے جا رہے تھے۔ ۲۰۱۶ ءکی سوسائٹی کی سالانہ جنرل میٹنگ کی منظور شدہ دستاویزات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سوسائٹی نے متفقہ طور پر ایک مخصوص ڈھکے ہوئے حصے میں بکرے رکھنے کی اجازت دی تھی تاکہ سوسائٹی کے اندر صفائی کا مسئلہ پیدا نہ ہو۔

انتظامیہ کو پہلے ہی تحریری اطلاع دی گئی تھی

سوسائٹی انتظامیہ کی جانب سے ۱۳ ؍مئی کو ہی کاشی میرا پولیس اسٹیشن کو عارضی شیڈ بنانے اور بکرے لانے کے سلسلے میں تحریری طور پر مطلع کر دیا گیا تھا۔ اس کے بعد ۲۲ ؍مئی کو فائر بریگیڈ اور میرا بھائندر میونسپل کارپوریشن کو بھی باقاعدہ خطوط بھیجے گئے تھے۔ ان تمام خطوط کے باوجود پیر کی رات اچانک سوسائٹی کے ۳-۴ ؍افراد نے انتظامیہ سے بات چیت کرنے کے بجائے وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل کو بلا لیا جس کے بعد منگل کو سوسائٹی کے باہر ہنگامہ آرائی کی گئی اور ہنومان چالیسا کا پاٹھ کر کے ماحول کو زہر آلود کرنے کی کوشش کی گئی۔

یہ بھی پڑھئے : ممبرا میں قربانی کا گوشت تقسیم کروانا ہے توفوراً فون کیجئے

کریٹ سومیا کا جھوٹا دعویٰ

بی جے پی لیڈر کریٹ سومیا نے موقع پر پہنچ کر میڈیا کے سامنے الزام لگایا کہ سوسائٹی کے اندر کھلے عام بکرے ذبح کئے جا رہے ہیں اور یہ ہندؤوں کو ڈرانے کا ایک نیا جہاد ہے۔ مقامی رہائشیوں اور سوسائٹی کے ریکارڈ کے مطابق، پچھلے ۱۰ ؍سال میں سوسائٹی کے اندر کبھی ایک بھی بکرا ذبح نہیں کیا گیا۔ اسلام میں عید سے قبل بکرے کی دیکھ بھال کی روایت کے تحت انہیں صرف وہاں لا کر رکھا گیا تھا جبکہ قربانی کے لئے تمام مسلم رہائشی ہمیشہ باہر حکومت کی مقرر کردہ جگہوں اور مٹن شاپس کا استعمال کرتے ہیں۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK