• Tue, 22 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

جیت کا شہرہ، ہار پر چپی

Updated: September 22, 2026, 5:40 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

بی جے پی کے لوگ بار بار دہلی یونیورسٹی کی طلبہ یونین کے انتخابی نتیجہ کا حوالہ کیوں دے رہے ہیں جس میں کانگریس اور کمیونسٹ پارٹیوں کی طلبہ یونینوں کو کامیابی نہیں ملی بلکہ بی جے پی کی تنظیم (اے بی وی پی) نے بازی مارلی؟

Picture: INN
تصویر: آئی این این

بی جے پی کے لوگ بار بار دہلی یونیورسٹی کی طلبہ یونین کے انتخابی نتیجہ کا حوالہ کیوں دے رہے ہیں جس میں کانگریس اور کمیونسٹ پارٹیوں کی طلبہ یونینوں کو کامیابی نہیں ملی بلکہ بی جے پی کی تنظیم (اے بی وی پی) نے بازی مارلی؟ اِس سوال کا جواب اُس خبر میں ہے جس کا تعلق راجستھان کے بلدیاتی انتخابات میں کانگریس کی شاندار کارکردگی کے باوجود محض اعشاریہ چورانوے (۹۴ء۰) فیصد ووٹ زیادہ لینے پر بی جے پی نے اس قدر ’’اظہار مسرت‘‘ کیا اور اس حد تک فخر کا اظہار کیا کہ دیگر لیڈروں کے علاوہ خود وزیر اعظم نریندر مودی نے اسے ’’پرچنڈ جیت‘‘ بتاتے ہوئے ’’جنتا جناردھن کا ہردے سے آبھار ویکت‘‘ کیا اور اسے ’’جھوٹ کی گونج کے سامنے ستیہ کی وجے کا پرمان‘‘ بتایا۔ اگر یہ واقعی پرچنڈ جیت تھی تو بی جے پی کو اپنا میئر بنانے میں اتنی دشواریاں کیوں ہوئیں اور اپوزیشن لیڈر ٹکا رام جولی کو یہ الزام کیوں عائد کرنا پڑا کہ بی جے پی حکومت کانگریس کے کونسلروں کو حراست میں لے رہی ہے اور اُنہیں ووٹنگ میں حصہ لینے سے کیوں روک رہی ہے اور پولیس نیز انتظامیہ کو کیوں استعمال کررہی ہے؟ 

یہ بھی پڑھئے: کیا یورپ بالآخراسرائیل کو سمجھ چکا ہے؟

مطلب صاف ہے کہ بی جے پی کے نزدیک فتح وہ تو ہے ہی جس میں اس کا ڈنکا بج جائے مگر فتح وہ بھی ہے جس میں اپوزیشن دو چار قدم سے پیچھے رہ جائے۔ اگر یہ نہ ہو تو چاروں طرف سناٹے کا راج ہوتا ہے اور بی جے پی کو جیسے سانپ سونگھ جاتا ہے۔ اس کی مثالیں تو کئی ہیں مگر ایک تازہ مثال بطور ثبوت پیش کی جاتی ہے۔ گجرات کی دو کوآپریٹیوز کے الیکشن میں بی جے پی کا حمایت یافتہ پینل ہار گیا۔ ایک تھا بارڈولی شوگر کو آپریٹیو سیکٹر کی شری کھیڑوت سہکاری کھانڈ اُدیوگ منڈلی کا چناؤ اور دوسرا تھا احمد آباد ضلع کے کسانوں کی تنظیم ’’دھولکا‘‘ اے پی ایم سی کا چناؤ۔ بارڈولی کی شوگر کو آپریٹیو کا نتیجہ سو فیصد یکطرفہ رہا۔ یہاں کانگریس نے تمام سیٹیں جیتیں۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ گجرات کی پہلی شوگر فیکٹری ہے جو ۱۹۵۵ء میں قائم ہوئی تھی۔ اسے ایشیاء کا سب سے بڑا شکر کارخانہ بھی کہا جاتا ہے۔طویل عرصہ سے اِس پر بی جے پی کا قبضہ تھا۔ دھولکا اے پی ایم سی کے انتخابات میں بھی کانگریس کے قریبی مانے جانے والے ’کسان وِکاس پینل‘‘ نے تمام ۱۰؍ سیٹیں جیت کر بی جے پی کے حمایت یافتہ ایسے پینل کو شکست فاش دی جس کا تین دہائیوں سے اس اے پی ایم سی پر قبضہ تھا۔ مفتوحین میں بی جے پی کے سکریٹری دیویش پٹیل بھی شامل ہیں۔ کیا اتنی بڑی ہار پر بی جے پی کے کسی لیڈر نے کچھ کہا؟ کم از کم ہم نے تو کچھ نہیں سنا۔ کانگریس کے ترجمان منیش دوشی نے البتہ کئی انکشافات کئے بالخصوص یہ کہ بی جے پی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے والے اُمیدواروں نے پارٹی کے خلاف بغاوت کردی، ٹکٹ لوَٹا دیا اور کسان وکاس (کانگریس کے حمایت یافتہ) پینل کا بھرپور ساتھ دیا۔‘‘ منیش دوشی کا یہ بھی کہنا تھا کہ بی جے پی کے خلاف گجرات کے کسانوں میں شدید ناراضگی ہے۔

بی جے پی کا کھیل واضح ہے کہ ہر قیمت پر الیکشن جیتو اور نہ جیت پاؤ تو اقتدار پر قبضے کے حربے آزماؤ تاکہ عوام کو پیغام ملے کہ ’’جیتے گی تو بی جے پی ہی !‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK