• Tue, 22 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کیا یورپ بالآخراسرائیل کو سمجھ چکا ہے؟

Updated: September 22, 2026, 5:34 PM IST | Ramzi Barood | Mumbai

پورے یورپ میں فلسطین کے ساتھ عوامی یکجہتی میں بڑھتا ہوا رجحان کافی حوصلہ بخش ہے۔ مغربی حکومتوں کواحتجاج، بائیکاٹ کی مہمات، سول سوسائٹی کی تنظیموں اور ایسے ووٹرز کی جانب سے دباؤ کا سامنا تھا جنہوں نے فلسطین کو سیاسی منظرنامہ سے غائب ہونے دینے سے انکار کر دیا۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

اس بار، یورپ اسرائیل کے احتساب کے حوالے سے سنجیدہ نظر آ رہا ہے یا کم از کم کنیڈا سمیت ۱۱؍ یورپی ملکوں سے یہی تاثر ملتا ہے۔ کنیڈا، ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، آئس لینڈ، آئرلینڈ، ناروے، پولینڈ، پرتگال، اسپین، سویڈن اور برطانیہ نے حال ہی میں عزم کیا ہے کہ وہ مغربی کنارے میں قائم غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کے ساتھ تجارتی لین دین کے خلاف یا تو قومی سطح پر پابندیاں لگائیں گے یا یورپی پابندیوں کی حمایت کرینگے۔ اس اعلان کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ سرسری مطالعے کے بعد اس کو مسترد کر دینا جلد بازی ہوگی، خاص طور پرکنیڈا اَور برطانیہ جیسی حکومتوں کی شمولیت کو مدنظر رکھتے ہوئے، جنہوں نے تاریخی طور پر اسرائیل کو وسیع پیمانے پر سیاسی اور سفارتی حمایت فراہم کی ہے۔ تاہم، اس اعلان کے پس منظر، وقت اور ممکنہ افادیت کا جائزہ لئے بغیر اسے بہت بڑا یا انقلابی واقعہ مان لینابھی اتنی ہی جلد بازی ہوگی۔ اس طرزِ عمل سے عوامی دباؤ کمزور پڑ سکتا ہے؛ وہی دباؤ جس نے بالآخر مغربی حکومتوں کو ان محدود اقدامات کیلئے مجبور کیا۔ اس اقدام کے سیاسی مفہوم سے قطع نظر، کئی اہم پہلوؤں اور تحفظات پر غور ضروری ہے۔ سب سے پہلے ۱۲؍ میں سے زیادہ تر حکومتوں نے پابند اور فوری طور پر قابل نفاذ پابندیوں کے بجائے عزم اور ارادہ ہی کا اعلان کیا ہے۔ اس لئے یہ فیصلہ سیاسی مذاکرات، قانون سازی میں تاخیر، اسرائیل نواز گروپوں کے دباؤ اور بدلتے ہوئے انتخابی حساب کتاب کیلئے اب بھی خطرناک ہے۔ پختہ ڈیڈ لائنز اور قابل نفاذ میکانزم کے بغیر، اس ’’اظہارِ ارادہ‘‘ کو ارادہ ماننا ہی بہتر ہوگا جب تک اس پر عمل نہیں کیا جاتا۔

یہ بھی پڑھئے: ڈونالڈ ٹرمپ ہار مانتے ہیں نہ اُنہیں جیتنا آتا ہے!

دوسرا، فرانس اور کنیڈا نے ابھی تک نفاذ کا کوئی خاکہ شائع نہیں کیا ہے۔ برطانیہ نے ایک نسبتاً وسیع پیکیج کا اعلان کیا ہے، جس میں مالیات، تعمیرات، انفراسٹرکچر، رئیل اسٹیٹ اور اشتہارات سے متعلق بعض اعلانات کئے ہیں تاہم، اس کی پابندیوں کے نفاذ میں چھ سے نو ماہ لگ سکتے ہیں۔ اسرائیل کو اپنے الحاق کے منصوبوں کو آگے بڑھانے اور زمین پر مزید ناقابل واپسی حقائق پیدا کرنے کیلئے اضافی وقت دیا گیا ہے۔ تیسرا، مشترکہ وابستگی زیادہ تر اشیاء پر مرکوز ہے، جبکہ اسرائیل کا سیٹلمنٹ (باز آبادکاری) انٹرپرائز فنانسنگ، سرمایہ کاری، تعمیرات، ٹیکنالوجی اور خدمات کے بہت وسیع نیٹ ورک پر منحصر ہے۔ یہ رابطے اکثر پیچیدہ کارپوریٹ ڈھانچے کے ذریعے کام کرتے ہیں جو اس بات کو چھپاتے ہیں کہ آیا کمپنی یا لین دین براہ راست کسی تصفیہ سے منسلک ہے۔ چوتھا، پہل بنیادی طور پر بستیوں، خاص طور پر ’’ای وَن‘‘ پروجیکٹ سے متعلق ہے۔ ای وَن مشرقی یروشلم اور سیٹلمنٹ بلاک کے درمیان اسٹراٹیجک علاقہ ہے جہاں اسرائیلی تعمیرات مغربی کنارے کو مزید تقسیم کر دیں گی، فلسطینی علاقائی تسلسل کو منقطع کر دیگی اور مشرقی یروشلم کو ارد گرد کی فلسطینی برادریوں سے الگ تھلگ کر دیگی۔ یورپ کو خدشہ ہے کہ ای وَن کو مکمل کرنے سے مستقبل کی فلسطینی ریاست کی باقیماندہ جغرافیائی بنیادیں تباہ ہو جائینگی۔ یہ تشویش اب تک قابل دفاع ہے کیونکہ ’’دو ریاستی حل‘‘ یورپ کی اعلان کردہ خارجہ پالیسی کی حکمت عملی کے تحت ہے۔ اس کے باوجود مشترکہ اعلامیہ میں نہ تو غزہ میں نسل کشی کا حوالہ دیا گیا ہے نہ ہی یہ اسرائیلی فوجی قبضے کے وسیع نظام کا مقابلہ کرتا ہے جو بستیوں کی توسیع، جبری نقل مکانی اور زمین کی ضبطی کو قابل عمل بناتا ہے اور بڑے ڈھانچے سے صرف نظر کرتا ہے۔

پانچویں، یورپی یونین-اسرائیل اسوسی ایشن کے معاہدہ کو اب تک بے اثر نہیں کیا گیاہے اور اسرائیل کے خلاف یورپ کی کوئی اجتماعی اسلحہ جاتی پابندی نہیں ہے۔ یورپی کمیشن کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ۲۰۲۴ء اور ۲۰۲۵ء میں یورپی یونین اور اسرائیل کے درمیان تجارت میں اضافہ ہوا۔ یہ تب کا قصہ ہے جب غزہ میں نسل کشی جاری تھی لہٰذا، بستیوں سے ہونے والے کسی بھی نقصان کو، جو اسرائیل کی مجموعی تجارت کے مختصر حصے کی نمائندگی کرتا ہے، اس لئے یورپ کے ساتھ اسرائیل کے بہت بڑے اقتصادی تعلقات کے ذریعہ جذب کیا جا سکتا ہے۔ فوجی تضاد اور بھی واضح ہے۔ اِسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق، جرمنی نے ۲۰۲۱ء اور ۲۰۲۵ء کے درمیان اسرائیل کے بڑے ہتھیاروں کی درآمدات کا ۳۱؍ فیصد فراہم کیا، جس سے وہ امریکہ کے بعد اسرائیل کا دوسرا سب سے بڑا سپلائر بن گیا۔ غزہ میں نسل کشی اور مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف بڑھتے تشدد کے باوجود اسرائیل کو اس عرصے میں ہتھیار ملتے رہے۔ یورپی ریاستیں بھی اسرائیلی فوجی ٹیکنالوجی کی بڑی خریدار ہیں۔ اسی عرصے میں یورپ نے اسرائیلی اسلحہ کی ۴۱؍ فیصد برآمدات حاصل کیں جس سے اسرائیل کی فوجی اسٹیبلشمنٹ میں گہرائی سے مربوط صنعت برقرار رکھنے میں مدد ملی۔ یورپ اسلئے بستیوں کو محدود کرنے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ اس ریاست کے ساتھ اقتصادی و فوجی تعلقات کو برقرار رکھے ہوئے ہے جو ان کی مالی تعاون کرتی ہے، ان کی حفاظت کرتی ہے اور ان کی توسیع کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: مجوزہ یکساں سول کوڈ اور بہار کی سیاست

ایک قابلِ غور جوابی دلیل یہ ہے کہ اعلان کردہ اقدامات محض ایک ابتدائی قدم ہیں اور اس کے بعد مزید سخت احتساب کا عمل بھی سامنے آ سکتا ہے لیکن اس دلیل میں وزن تبھی ہے جب ہم یہ سمجھیں کہ ان حکومتوں نے آخر یہ اقدامات کیے ہی کیوں۔ اگر ان پابندیوں کا بنیادی مقصد اسرائیل میں اکتوبر میں ہونے والے انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی پوزیشن کو کمزور کرنا ہے، تو یہ عارضی سیاسی ہتھکنڈہ ثابت ہو سکتا ہے جس کا مستقبل انتخابی نتائج پر منحصر ہوگا۔ تاہم، پورے یورپ میں فلسطین کے ساتھ عوامی یکجہتی میں بڑھتا ہوا رجحان کافی حوصلہ بخش ہے۔ یورپی کونسل آن فارن ریلیشنزکے ایک رائے عامہ کے جائزہ سے پتا چلتا ہے کہ برطانیہ میں ۴۶؍ فیصد افراد نے اسرائیل کی غیر قانونی بستیوں کے ساتھ تجارت پر پابندی کی حمایت کی، جبکہ صرف ۱۸؍ فیصد نے اس کی مخالفت کی۔ یہ عوام کے مسلسل متحرک ہونے کی طاقت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ مغربی حکومتوں نے یہ اقدامات خود سے نہیں کئے۔ انہیں احتجاج، بائیکاٹ کی مہمات، ٹریڈ یونینز، سول سوسائٹی کی تنظیموں، قانونی چارہ جوئی اور ایسے ووٹرز کی جانب سے دباؤ کا سامنا تھا جنہوں نے فلسطین کو سیاسی منظرنامہ سے غائب ہونے دینے سے انکار کر دیا۔ بہت سی یورپی حکومتیں بدستور اسرائیل کو وہ ہتھیار، تجارتی تعلقات اور معاشی استحکام فراہم کر رہی ہیں جن کی اسے فلسطین اور دیگر عرب ممالک کے خلاف جنگیں جاری رکھنے کیلئے ضرورت ہے۔ 

مبارکباد کے حقدار یورپی اور شمالی امریکی معاشرے ہیں جو احتساب اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی چاہتے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK