Inquilab Logo Happiest Places to Work

دوسری ممتا!

Updated: April 29, 2026, 11:30 AM IST | Inquilab News Network | Mumbai

جادَو پور (مغربی بنگال) سے ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمان سایونی گھوش کے بارے میں کچھ تو ہمارا خیال تھا اور جب معلومات کی تو پتہ چلا کہ ہم سے پہلے اور بھی کئی لوگ کہہ چکے ہیں کہ وہ دوسری ممتا بننے کی راہ پر ہیں۔

Mamata Banerjee.Photo:INN
ممتا بنرجی ۔ تصویر:آئی این این
جادَو پور (مغربی بنگال) سے ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمان سایونی گھوش کے بارے میں کچھ تو ہمارا خیال تھا اور جب معلومات کی تو پتہ چلا کہ ہم سے پہلے اور بھی کئی لوگ کہہ چکے ہیں کہ وہ دوسری ممتا بننے کی راہ پر ہیں۔ سایونی اُن خواتین میں سے ہیں جن کی صلاحیتوں کو ممتا بنرجی نے پرکھا اور اُنہیں پارٹی میں جگہ دی۔ سایونی اداکار ہیں اور ۲۰۱۰ء سے ۲۰۲۳ء تک ۴۸؍ فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھا چکی ہیں جن میں کنامچی، انترال، ایکلا چلو، امر سہور، راج کہِنی اور شوترو شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے ویب سیریز اور ویب فلمیں بھی کی ہیں اور ٹی وی سیریل بھی۔ 
فروری ۲۱ء میں ٹی ایم سی میں شمولیت کے بعد ہی سایونی گھوش کو ممتا بنرجی نے اسمبلی الیکشن کیلئے آسنسول (جنوبی) سے ٹکٹ دیا مگر وہ کامیاب نہیں ہوسکیں۔ اس کے باوجود نہ تو اُنہو ںنے نہ ہی ممتا بنرجی نے ہمت ہاری۔ ممتا نے ۲۱ء ہی میں انہیں پارٹی کی یوتھ ونگ کا صدر بنایا اور پھر ۲۰۲۴ء کے لوک سبھا الیکشن کیلئے جادَو پور سے اُمیدوار بنایا۔ اس پُرجوش نوجوان کی قسمت میں سرخروئی لکھی تھی چنانچہ اسمبلی الیکشن ہارنے والی سایونی لوک سبھا جیت گئیں۔ قارئین نے لوک سبھا میں اُن کی دھواں دھار اور بے باک تقریروں کے ویڈیو دیکھے ہوں گے۔
مگر سایونی کو دوسری ممتا کیوں کہا جارہا ہے؟ اس لئے کہ سادگی اُن میں بھی ہے۔ ہمت، حوصلہ اور بے باکی اُن میں بھی ہے۔ وہ بھی سب کو ساتھ لے کر چلنے کا جذبہ رکھتی ہیں۔ اسمبلی الیکشن کیلئے ٹی ایم سی کے دیگر لیڈروں کی طرح اُنہوں نے بھی جنگی پیمانے پر ریلیاں کیں اور ان ریلیوں میں دھواں دھار تقریریں کیں۔ سایونی کی تقریروں کی کئی خصوصیات ہیں مگر ایک خصوصیت کے سبب اُنہیں امتیاز حاصل ہے۔ وہ اسٹیج پر کلمہ ٔ طیبہ، تسمیہ (بسم اللہ.....الخ) کے علاوہ ہنومان چالیسہ اور گربانی کے مندرجات اتنی روانی سے پڑھتی ہیں کہ سننے والے دنگ رہ جاتے ہیں۔ بعض اوقات وہ بنگلہ زبان میں نعت بھی سناتی ہیں جس کا مفہوم کچھ اس طرح ہے: ’’پال اُٹھا دے پال اے ملاح سستی نہ کر، کشتی کھول دے اے ملاح، مجھے مدینہ جانا ہے‘‘۔ اپنی تقریر کے ذریعہ وہ عوام کو جوڑتی بھی ہیں، ہم آہنگی و یگانگت کا پیغام بھی دیتی ہیں اور ایک پرانے نعرے میں ہلکی سی تحریف کے ذریعہ فرقہ وارانہ اتحاد کو برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار بھی کرتی ہیں۔ وہ ’’ہندو مسلم سکھ عیسائی‘‘ کے بعد ’’آپس میں ہیں بھائی بھائی‘‘ نہیں کہتیں، ’’آپس میں رہیں گے بھائی بھائی‘‘ کہہ کر مجمع کو سمجھاتی ہیں کہ آپ کو حال ہی میں نہیں مستقبل میں بھی متحد رہنے کا عزم کرنا ہوگا۔
 
 
تعلیمی قابلیت کے نام پر سایونی کے پاس بھاری بھرکم ڈگریاں نہیں ہیں مگر بنگلہ، انگریزی اور ہندوستانی پر اُنہیں اچھی قدرت حاصل ہے۔ وہ دیگر اداکاروں اور سیاستدانوں کی طرح دولتمند نہیں ہیں۔ ۲۴ء میں انتخابی کمیشن کو پیش کئے گئے اپنے افیڈوٹ میں اُنہوں نے ۹۱ء۹؍ لاکھ روپے کی ملکیت اور ۵۹ء۹؍ لاکھ کا قرض ظاہر کیا تھا۔ اس سے بھی اُن کی سادگی اور بے نیازی کا اندازہ ہوتا ہے جو ممتا کی شخصیت کا خاصہ ہے۔ سایونی کی پارلیمانی تقریریں بھی سننے سے تعلق رکھتی ہیں۔ 
 
یہ بات مخالفین بھی مانتے ہیں کہ ممتا نے خواتین کیلئے فلاحی اسکیمیں بنانے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انہیں ذمہ داریاں دے کر اُن کی صلاحیتوں کو سمجھا اور پھر اُنہیں مواقع دیئے۔ جن کو یہ موقع ملا اُن میں سے ایک ہیں سایانی گھوش۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK