Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران، ٹرمپ کو ناکوں چنے چبوارہا ہے

Updated: April 29, 2026, 11:35 AM IST | Parvez Hafeez | Mumbai

تہران اور واشنگٹن حقیقی جنگ لڑنے کے بعد اب اعصابی جنگ لڑ رہے ہیں۔ٹرمپ نے سوچا تھا کہ صفحہ ہستی سے مٹا دینے کی ان کی دھمکیاں سنتے ہی ایرانی حکومت امریکی شرائط پر سمجھوتہ کرنے پر فوراً تیار ہوجائیگی۔ ایرانی سمجھوتہ کیلئے تو راضی ہیں لیکن سرینڈر کیلئے نہیں۔

Iranian Delegates.Photo:INN
ایرانی وفد۔ تصویر:آئی این این
اس وقت امریکہ اور ایران کے درمیان نیو یارک ٹائمز کے مطابق no war, no peace والی صورتحال ہے۔ جنگ سے دونوں فریق تھک چکے ہیں اور دونوں امن بھی چاہتے ہیں اور معاہدہ بھی۔ رکاوٹ اس لئے پیدا ہورہی ہے کیونکہ ڈونالڈ ٹرمپ کا منشا یہ ہے کہ معاہدہ کے نام پر ایران مذاکرات کی میز پر امریکہ کے سامنے ہتھیار ڈال دے۔تہران اور واشنگٹن حقیقی جنگ لڑنے کے بعد اب اعصابی جنگ لڑ رہے ہیں۔ٹرمپ نے سوچا تھا کہ صفحہ ہستی سے مٹا دینے کی ان کی دھمکیاں سنتے ہی ایرانی حکومت امریکی شرائط پر سمجھوتہ کرنے پر فوراً تیار ہوجائے گی۔ ایرانی سمجھوتہ کے لئے تو راضی ہیں لیکن سرینڈر کے لئے نہیں۔ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دینے کی ان کی تازہ پیشکش سے امن کے حصول کے لئے ان کی خلوص نیتی واضح ہوجاتی ہے۔ تہران نے نہ تو سیز فائر کے لئے فریاد کی تھی اور نہ ہی اس کی توسیع کی درخواست۔ ایرانی حکمراں امریکہ کے دباؤ میں نہ مذاکرات کریں گے اور نہ کوئی معاہدہ۔ تہران کا موقف یہ ہے کہ’’ ہارا ہوا فریق شرائط مسلط کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتا ہے۔‘‘  
پچھلے ہفتے پاکستان میں دوسرے مرحلے کے مذاکرات کی تیاریاں ہوچکی تھیں ا ور واشنگٹن میں جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکاف اپنے اپنے سوٹ کیس پیک کرکے اسلام آباد کے لئے روانہ ہونے کیلئے تیار بیٹھے تھے لیکن ایرانیوں نے امریکیوں سے اس وقت تک بات کرنے سے انکار کردیا جب تک کہ ٹرمپ ایران کی بحری ناکہ بندی نہیں ہٹاتے ہیں۔اپنی خجالت مٹانے کی ٹرمپ نے کشنر اور وٹکاف کا دورہ یہ کہ کر کینسل کردیا کہ وقت اور پیسے کی بربادی سے بچنے کی خاطر یہ قدم اٹھایا ہے۔ٹرمپ نے وضاحت کی کہ امریکی نمائندوں کا اسلام آباد کے دورے کی منسوخی کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ جنگ دوبارہ شروع ہوجائے گی۔ ایران جب چاہے فون اٹھاکر ٹرمپ سے بات کر سکتا ہے۔ ٹرمپ کی یہ خوش اخلاقی کافی حوصلہ افزا ہے۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی دو دنوں میں دو بار اسلام آبادپہنچے۔ انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے مذاکرات بھی کئے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان براہ راست مذاکرات رکے ہوئے ہیں لیکن دونوں کی بات چیت پاکستان کے وسیلے سے ابھی بھی جاری ہے۔ قارئین کو یقینی طو رپر یاد ہوگا کہ فروری میں عمان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان اسی طرح کے بالواسطہ مذاکرات مسقط اور جینوا میں ہوچکے ہیں۔ عراقچی کا اسلام آباد سے مسقط جانا اور مسقط سے اسلام آبادواپس آکر پاکستانی رہنماؤں سے مزید بات چیت کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کئی سطح پر اور کئی سہولت کاروں کے ذریعہ بات ہورہی ہے۔
امریکہ اور ایران کے تنازعات پچاس برس پرانے ہیں۔ ان کا ایسا حل ڈھونڈ نکالنے میں جو دونوں فریق کو قابل قبول ہو وقت تو لگے گا۔ بارک اوبامہ کی پیش رفت  پر ۲۰۱۵ء میں ایران کے ساتھ امریکہ نے جو جوہری معاہدہ کیا تھا اس کے قبل دو برس تک بالواسطہ اور براہ راست مذاکرات ہوئے تھے۔ ٹرمپ لاکھ دعوے کرتے رہیں کہ امریکہ نے ایران جنگ کے تمام مقاصد اور اہداف حاصل کرلئے، دنیا کہہ رہی ہے کہ تہران پر چڑھائی ٹرمپ کی بہت بھاری اسٹریٹیجک غلطی تھی۔ نہ تہران میں رجیم چینج ہوا اور نہ ہی ایران نے گھٹنے ٹیکے۔ اس کے برعکس ایران خطے میں پہلے سے زیادہ بااثر علاقائی طاقت بن گیا ہے۔ ایران نے اسرائیل اور خلیجی ممالک میں واقع امریکی فوجی اڈوں پر تباہ کن حملے کئے اور آبنائے ہرمز کے گرد اپنا شکنجہ کسا تو ٹرمپ کوسمجھ میں آیا کہ یہ جنگ ان کے گلے کا طوق بن گئی ہے۔ ان کی اس غیر قانونی جنگ کے ہولناک نتائج پوری دنیا میں نظر آرہے ہیں۔ امریکہ اور یورپ میں مہنگائی اور افراط زر میں اضافہ ہورہا ہے۔ ٹرمپ کو امریکہ میں عوام کی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑ رہاہے۔ انہیں احساس ہورہا ہے کہ ایک غیر مقبول جنگ میں وہ بری طرح پھنس گئے ہیں۔
 
 
۶؍ مارچ کو ٹرمپ نے بڑی رعونت سے اعلان کیا تھا کہ ایران پہلے تو غیر مشروط طور پر سرینڈر کرے اور اپنی خود سپردگی کا مظاہرہ کرنے کے لئے ملک کے لئے ایک ایسا سربراہ مملکت منتخب کرے جو امریکہ کو قابل قبول ہو تبھی اس کی گلوخلاصی ہوسکتی ہے۔جواب میں ایران نے آبنائے ہرمز پر بندش لگاکر ساری دنیا میں ایندھن کا ایسا بحران پیدا کردیا جس سے چند ہفتوں میں پوری عالمی معیشت بری طرح متاثر ہوگئی۔ پہلے سیز فائر کے لئے خود پیش رفت اور پھر یکطرفہ طور پر اس کی توسیع کا اعلان کرکے ٹرمپ نے دنیا پر ظاہر کردیا ہے کہ وہ اپنی بنائی ہوئی اس دلدل سے باہر نکلنے کے لئے کتنے بے قرار ہیں۔ ٹرمپ کی متلون مزاجی کی وجہ سے ان پر اعتماد کرنا مشکل ہے۔ آج وہ ایران سے مذاکرات اور جوہری معاہدہ کے لئے اتنی بیقراری کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ جبکہ ایران ابھی دو ماہ قبل امریکہ سے نہ صرف مذاکرات کررہا تھا بلکہ ٹرمپ کی بیشتر شرائط بھی قبول کرنے کو تیار تھا لیکن ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کے بہکاوے میں آکر اس پر حملہ کردیا اور اور ایک تباہ کن جنگ شروع کردی۔
 
 
ایران جنگ کے مکمل خاتمے اور جوہری معاہدہ کے لئے ٹرمپ کی مجبوری کو بھانپ چکا ہے۔ ٹرمپ نے ایران میں اسی فاش غلطی کاارتکاب کیا ہے جو بش نے عراق  میں ۲۰۰۳ء میں کی تھی۔ ستم ظریفی دیکھئے کہ ٹرمپ نے بش کے عراق جنگ کے فیصلے کی سخت تنقید کی تھی۔ ٹرمپ توبہت بڑے بزنس مین ہیں۔ انہیں تو یہ بخوبی علم ہوگاکہ اگر اندازے کی غلطی کی وجہ سے کبھی کوئی ایسی بزنس ڈیل ہو جائے جس میں منافع کی بجائے بھاری خسارے کا خدشہ ہو تو مال کو فوراً تھوڑے کم دام میں بیچ کر پونجی واپس حاصل کرلینا ہی دانشمندی ہے۔ ایران جنگ ٹرمپ کے لئے  ایسا ہی ایک گھاٹے کا سودا بن گئی ہے۔ نیتن یاہو نے ٹرمپ کو ایران پر چڑھائی کرنے جتنے فائدے بتائے تھے وہ سب کے سب منہ کے بل گرچکے ہیں۔ ایران، امریکہ اور خلیجی ممالک سبھوں کے لئے یہ جنگ فقط تباہی لائی ہے۔فائدہ اسرائیل کا بھی نہیں ہوا ہے۔ سنسر شپ کی وجہ سے اس کی تباہی کی تفصیلات منظر عام پر نہیں آئی ہیں۔ فائدہ صرف ایک شخص کا ہوا ہے اور وہ ہے نیتن یاہو جس نے اپنی سیاسی بقا کیلئے ایران کے خلاف جنگ کروائی ہے۔ اسلئے ٹرمپ کو اپنی ضد چھوڑ کر اور اپنی انا سے منہ موڑ کر ایران کو معقول رعایتیں دے کر معاہدہ کر لینا چاہئے۔ نیو یارک ٹائمز کی معروف کالم نویس Maureen Dowd نے اپنے حالیہ مضمون میں دعویٰ کیا ہے کہ اپنی حماقتوں اور غیر ذمہ دارانہ فیصلوں کی وجہ سے ’’ٹرمپ اس وقت ایران کے ہاتھوں یرغمال‘‘ بن چکے ہیں۔ ان کی رہائی کے لئے امریکہ کو کچھ تاوان تو ادا کرنا پڑے گا۔ ٹرمپ جتنی جلدی یہ حقیقت سمجھ لیں  ان کیلئے بلکہ ساری دنیا کے لئے اتنا ہی بہتر ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK