خام تیل پر انحصار کم کرنے کیلئے حکومت جلد نوٹیفکیشن جاری کرسکتی ہے، اِسے ’’ای -۸۵؍ فلیکسی فیول‘‘ نام دیاگیا، گاڑیوں کا مائیلیج ۳۰؍ فیصد تک کم ہوسکتاہے۔
پیٹرول پمپ۔ تصویر:آئی این این
پیٹرول میں ۲۰؍ فیصد ایتھنال کی آمیزش کو نافذ کرنے کے بعد اب مودی حکومت ’’ای -۸۵؍ فلیکسی فیول‘‘ کی طرف بڑھ رہی ہے تاکہ خام تیل کی درآمد پر انحصار کو کم کیا جاسکے۔ اس میں پیٹرول پمپ پر فروخت ہونےوالے ایندھن میں ۸۵؍ فیصد ایتھنال ہوگا۔حکومت جلد ہی ’ای-۸۵؍فیول کی منظوری کیلئے ڈرافٹ نوٹیفکیشن جاری کر سکتی ہے، جس کیلئے مارکیٹ میں عمومی اتفاق رائے بن چکا ہے۔
خلیجی ممالک پر انحصار کم کرنا ہدف
ہندوستان اپنی ضرورت کا۹۰؍ فیصد خام تیل درآمد کرتا ہے، جس میں سے۵۰؍فیصد سے زیادہ حصہ مغربی ایشیائی ممالک سے آتا ہے اور آبنائے ہرمز کے راستے پہنچتا ہے۔ ایران-امریکہ کشیدگی کی وجہ سے یہ راستہ متاثر ہوا ہے، جس سے خام تیل کی قیمتیں۱۰۰؍ ڈالر سے اوپر پہنچ گئی ہیں۔خام تیل کا مہنگا ہونا نہ صرف ملک کی معیشت پر بوجھ ہے بلکہ خود انحصاری کیلئے بھی ایک چیلنج ہے۔ اسی وجہ سے حکومت اب ایتھنال والے ایندھن پر توجہ دے رہی ہے۔
ایتھنال کی اہمیت
ای -۸۵؍فیول میں۸۵؍ فیصد ایتھنال اور۱۵؍ فیصد پیٹرول ہوتا ہے۔ ایتھنال گنے کے رس، مکئی اور خراب اناج جیسی زرعی مصنوعات سے تیار کیا جاتا ہے۔ یہ ایندھن ماحول میں کاربن اخراج کو کم کرنے میں بھی مدد دیتا ہے۔ اس وقت ملک بھر میں ای -۲۰؍ فیول کی فروخت لازمی ہے۔
آٹو انڈسٹری تیار، نوٹیفکیشن کا انتظار
آٹوموبائل انڈسٹری پہلے ہی فلیکسی فیول تکنالوجی کیلئے اپنی آمادگی کااظہار کرچکی ہے۔ وہ ایسی گاڑیاں تیار کرنےکی جانب بڑھ رہی ہے جو ۸۵؍ فیصد ایتھنال والے ایندھن سے چلنے کے لائق ہوں۔ ٹویوٹا کرلوسکر موٹر کے سربراہ وکرم گلاٹی کے مطابق فلیکسی فیول کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس سے ہم ایندھن کے معاملے میں درآمدات پر کم انحصار کر سکیں گے۔
ای -۸۵؍ ابھی لازمی نہیں ہوگا
حکومت پہلے مرحلے میں ای-۸۵؍ فلیکسی فیول کو لازمی کرنے سے گریز کریگی ۔ اس کے بجائے ایسی گاڑیوں کے فروغ پر توجہ دی جائے گی جو ۸۵؍ فیصد ایتھنال والے ایندھن کیلئے مناسب ہوں۔ حکومت اس سلسلے میں پالیسی پر کام کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں ممکنہ دشواریوں کے حوالے سے ’ایس اینڈ پی گلوبل‘ کے ڈائریکٹر پونیت گپتا کا کہنا ہےکہ ای -۸۵؍ کو اپنانے کیلئے ایک بڑے ایکو سسٹم کی ضرورت ہوگی، جس میں چار اہم چیلنجز ہیں۔ اول تو تمام پیٹرول پمپ پر فلیکسی فیول کی فروخت کی الگ اکائی لگانی ہوگی۔اس کیلئے انفرااسٹرکچر کی جانچ اور تصدیق ضروری ہوگی ۔ ایتھنال کی پیداوار کی صلاحیت میں بڑے پیمانے پر اضافہ کرنا ہوگا ۔ اس کیلئے حکومت کو آئندہ ۵؍ سے ۱۵؍ سال کا واضح روڈ میپ تیار کرنا ہوگا۔
ای -۸۵؍ کا گاڑیوں اوران کے مائیلیج پر اثر
ماہرین کے مطابق ایتھنال کی آمیزش والے ایندھن کی کثافت کم ہوتی ہے اس لئے گاڑیوں کے مائیلیج پر ۲۰؍ تا ۳۰؍ فیصد تک اثر پڑ سکتا ہے۔ مائیلیج میں اس کمی کے ازالہ کیلئے حکومت پر ایندھن کی قیمت کم رکھنےکا دباؤ ہوگا۔ اس بیچ تکنالوجی کےمحاذ پر کام کرتےہوئے ایسی گاڑیاں متعارف کرانی ہوں گی جو ’فلیکسی فیول‘ کیلئے مناسب ہوں۔ ٹویوٹا اور ماروتی سوزوکی جیسی کمپنیاں پہلے ہی زیادہ ایتھنال مکسچر سے چلنے والی گاڑیاں پیش کر چکی ہیں۔ ٹی وی ایس موٹر کے چیئرمین سدرشن وینو نے بھی اشارہ دیا ہے کہ کمپنی اپاچی سمیت کئی سیگمنٹس میں ایتھنال سے چلنے والی گاڑیاں متعارف کرانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔
گاڑیوں پر ٹیکس میں مراعات پر زور
ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو سبسیڈی دینے کے بجائے پالیسی سہولت کار کے طور پر کام کرنا چاہیے۔ اس میں فلیکسی فیول گاڑیوں پر کم ٹیکس، پیٹرول کے مقابلے میں ایتھنال کی قیمت میں واضح فرق، اور ایتھنال کو کاربن نیوٹرل مان کر کریڈٹ دینا شامل ہے۔