Inquilab Logo Happiest Places to Work

جنگ گھرو ں تک پہنچ رہی ہے!

Updated: March 16, 2026, 2:00 PM IST | Inquilab News Network | mumbai

رسوئی گیس کی قلت کیا رخ اختیار کریگی یہ کہنا مشکل ہے۔ ایندھن کی قلت سے پیدا ہونے والے ممکنہ حالات کا تصور ہی دہلا دیتا ہے۔ مہنگائی کیا گل کھلائیگی اس کا اندازہ کسی کو نہیں ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ اگر عالمی مارکیٹ میں خام تیل فی بیرل ۱۵۰؍ ڈالر ہوا تو عالمی معیشت لرز جائیگی۔

INN
آئی این این

  رسوئی گیس کی قلت کیا رخ اختیار کریگی یہ کہنا مشکل ہے۔ ایندھن کی قلت سے پیدا ہونے والے ممکنہ حالات کا تصور ہی دہلا دیتا ہے۔ مہنگائی کیا گل کھلائیگی اس کا اندازہ کسی کو نہیں   ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ اگر عالمی مارکیٹ میں   خام تیل فی بیرل ۱۵۰؍ ڈالر ہوا تو عالمی معیشت لرز جائیگی۔ بے شک لرز جائیگی۔ سچ یہ ہے کہ اس کا لرزنا شروع ہوچکا ہے۔ کمپنیوں   میں   ملازمین کی چھٹنی بھی یقینی سمجھئے۔ کئی عالمی شہرت یافتہ کمپنیوں   نے تو اعلان بھی کردیا۔ جو وجہ ظاہر کی جارہی ہے وہ چاہے جو ہو، اصل وجہ سمجھنا مشکل نہیں  ۔ معاشی ماہرین جنگ کے اثرات میں   بہت کچھ دیکھ رہے ہیں  ۔ امریکہ جنگ کے پہلے بارہ روز میں   ساڑھے سولہ ارب ڈالر کا نقصان اٹھا چکا ہے۔ خلیجی ملکوں   میں   تیل کی پیداوار کا متاثر ہونا پوری دنیا کیلئے مسئلہ ہے۔ امریکہ نے جمعہ کو جزیرہ خرج پر حملہ کرکے ایران کی معاشی شہ رگ کاٹنے کی کوشش کی۔ اس کے جواب میں   ایران خاموش نہیں   رہے گا۔ وہ اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہا ہے اور اس کے پاس کھونے کیلئے کچھ نہیں   ہے۔ جو کچھ ہے پانے کیلئے ہے۔ اب تک کی سولہ سترہ روزہ جنگ میں   اس نے اگر نقصان سہا توفائدہ بھی اُٹھایا۔ اس نے امریکہ کی بند مٹھی کھول دی اور دنیا نے دیکھ لیا کہ واشنگٹن کی سپرپاوری ڈھکوسلہ ہے۔ ٹرمپ کی خستہ حالی کا یہی ثبوت کیا کم ہے کہ پوری دنیا کو ٹیرف سے دھمکانے والا آج اندر ہی اندر رو رہا ہے۔ اب ٹرمپ ’’گریس فل ایگزٹ‘‘ کے فراق میں   ہیں   یعنی جنگ روکنے کا کوئی بہانہ مگر ایران نے ایگزٹ روٹس بند کر رکھے ہیں  ۔ ٹرمپ روزانہ نیا اور الگ بیان دیتے ہیں  اور ہر بیان سابقہ بیان کی نفی کرتا ہے یا اپنی بے معنویت کا ماتم کرتا ہے یا لوگوں   کو ہنسنے کا موقع دیتا ہے یا جھوٹ پر مبنی ثابت ہو جاتا ہے۔ اسرائیل بھی بہت کچھ گنوا چکا ہے۔ رائٹرس کی خبر کے مطابق اسے ہر ہفتے ۹؍ ارب شیکل کا نقصان ہو رہا ہے۔ یہ رقم کم و بیش تین ارب ڈالر کے برابر ہے۔ نیتن یاہو حکومت نے اسکولیں   بند کروا دیں   اور عوامی اجتماعات پر پابندی لگادی۔ عوام کا دفتر جانا ممنوع ہے سوائے لازمی خدمات سے وابستہ کارکنان کے۔ ہر جگہ ورک فرام ہوم چل رہا ہے۔ تل ابیب میں   سائرن بجتا ہے اور لوگ بنکروں   کی طرف بھاگتے ہیں  ۔ وہاں   بنکروں   کے علاووہ گھروں   میں   ’’بامب شیلٹر‘‘ بھی ہوتے ہیں   پھر بھی عوام ایرانی حملوں   سے خوفزدہ ہیں   اور جس طرح امریکی عوام ٹرمپ سے پوچھنا چاہتے ہیں   کہ یہ جنگ کیوں   شروع کی ویسے ہی اسرائیلی عوام کے دلوں   میں   بھی نیتن یاہو کے خلاف بہت کچھ ہے۔ خود نیتن یاہو سولہ سترہ دنوں   میں   صرف ایک بار وہ بھی پریس کانفرنس کیلئے سامنے آئے۔ ویسے پریس کانفرنس کے ویڈیو پر شک کیا جا رہا ہے کہ اے آئی کی مدد سے بنایا گیا ویڈیو ہو سکتا ہے۔ اسی لئے افواہ پھیلی تھی کہ ویڈیو میں   ان کے دائیں   ہاتھ میں   چھ انگلیاں   نظر آ رہی ہیں  ۔ اس افواہ کو اس لئے تقویت ملی کہ وہ حکومتی کام کاج کرتے ہوئے دیکھے نہیں   گئے۔ ایک اور افواہ ان کی اور ان کے بھائی عیدو یاہو کی ہلاکت سے متعلق تھی مگر رپورٹس سے ظاہر ہے کہ یہ افواہ ہی تھی۔بات جنگ کے معاشی نقصان کی ہو رہی تھی جس کا درست اندازہ لگانا اس وقت مشکل ہے مگر عوامی زندگی پر اس کے اثرات ظاہر ہونے لگے ہیں   کیونکہ جنگ گھروں   تک پہنچ رہی ہے۔ جیسے جیسے معمولات زندگی متاثر ہونگے، ویسے ویسے عوام اپنی حکومت سے سوال کرینگے کہ جنگ کیوں   نہیں   روکی؟ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK