اسلامی سال کی تمام ساعتوں میںشب ِ قدر وہ جلیل القدر رات ہے جسے قرآن مجید نے ہزار مہینوں سے بہتر قرار دے کر امتِ مسلمہ پر اللہ تعالیٰ کے خاص انعام و اکرام کا مظہر بنا دیا ہے۔
EPAPER
Updated: March 16, 2026, 3:19 PM IST | Dr. Mufti Nadeem Ahmed Ansari | Mumbai
اسلامی سال کی تمام ساعتوں میںشب ِ قدر وہ جلیل القدر رات ہے جسے قرآن مجید نے ہزار مہینوں سے بہتر قرار دے کر امتِ مسلمہ پر اللہ تعالیٰ کے خاص انعام و اکرام کا مظہر بنا دیا ہے۔
اسلامی سال کی تمام ساعتوں میںشب ِ قدر وہ جلیل القدر رات ہے جسے قرآن مجید نے ہزار مہینوں سے بہتر قرار دے کر امتِ مسلمہ پر اللہ تعالیٰ کے خاص انعام و اکرام کا مظہر بنا دیا ہے۔ یہ رات مغفرت کی طالب روحوں کے لئے سکون کا مژدہ اور عبادت گزاروں کے لئے قربِ الٰہی کی معراج ہے۔ اگرچہ حکمتِ خداوندی کے تحت اس عظیم رات کو رمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں پوشیدہ رکھا گیا ہے، تاکہ مومن کی تڑپ اور جستجو میں کمی نہ آئے، تاہم احادیثِ مبارکہ اور آثارِ صحابہؓکی روشنی میں ستائیسویں رمضان کو اس حوالے سے ایک منفرد اور نمایاں مقام حاصل ہے۔اس مضمون میں مستند روایات اور اکابرینِ امت کے ارشادات کی روشنی میں اسی پہلو پر علمی گفتگو کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: سورہ طور، سورہ النجم، سورہ القمر، سورہ رحمان، سورہ الواقعہ اور سورہ الحدید سنئے!
احادیث و آثار
* حضرت معاویہ بن ابی سفیانؓسے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : شب ِ قدر ستائیسویں رات ہے۔ (ابوداؤد)
* حضرت ابن ِ عباسؓسے روایت ہے، ایک آدمی نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: اے اللہ کےنبیؐ!میں بہت بوڑھا ہوگیا ہوں، بیمار بھی رہتا ہوں اور مجھ پر قیام میں بھی بڑی مشقت ہوتی ہے، آپؐ مجھے کوئی ایسی رات بتا دیجئے جس میں اللہ کی طرف سے شب ِ قدر ملنے کا امکان ہو۔ آپؐ نے فرمایا: آخری عشرے کی ستائیسویں رات کو لازم پکڑو۔
(مسند احمدابن حنبل)
* ’مسنداحمد‘ ہی میں روایت ہے:زِر بن حُبیش کہتے ہیں، حضرت اُبی بن کعبؓنے فرمایا: شبِ قدر ستائیسویں رات ہوتی ہے۔
* ’ترمذی‘ میں ہے:حضرت زِر نے حضرت اُبی بن کعبؓسے پوچھا: آپ نے ابومُنذِر کو کس طرح کہا کہ شب ِ قدر رمضان کی ستائیسویں رات ہے؟ انہوں نے فرمایا: بے شک ہمیں رسول اللہ ﷺ نے بتایا کہ وہ ایسی رات ہے کہ اس کے بعد جب صبح سورج نکلتا ہے تو اس میں شعاع نہیں ہو تی، ہم نے گنا اور محفوظ کرلیا۔ اللہ کی قسم! حضرت ابن ِ مسعودؓبھی جانتے تھے کہ شبِ قدر رمضان کی ستائیسویں رات ہے، لیکن تم لوگوں کو بتانا بہتر نہیں سمجھا، تاکہ تم صرف اسی رات پر بھروسا نہ کرنے لگو، اور دوسری راتوں میں عبادت کرنا کم کردو۔
یہ بھی پڑھئے: منافقین کی روش، نماز جمعہ اور رزق کی فکر ، احکام ِ طلاق اور۴؍خواتین کا تذکرہ
* ’بخاری‘ میں ہے: ابوالخیر کہتے ہیں کہ میں نے صنابحی سے پوچھا کہ آپ شبِ قدر کے متعلق کچھ جانتے ہیں؟ انھوں نے کہا: میں نے نبی کریم ﷺ کے مؤذن حضرت بلالؓکو کہتے ہوئے سنا ہے کہ شب ِ قدر رمضان کے اخیر عشرے کی ستائیسویں رات ہوتی ہے۔
* ’مسلم‘ میں ہے:حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں: جو سال بھر رات میں قیام کرے، اسے شب ِ قدر مل جائےگی۔
* حضرت اُبی بن کعبؓنے فرمایا: قسم ہے اس اللہ کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں! بےشک شب ِ قدر رمضان میں ہے۔ وہ قسم کھاتے تھے اور استثنا نہیں کرتے تھے (یعنی انھیں اپنی قسم پر یقین تھا)، وہ فرماتے تھے: اللہ کی قسم! میں خوب جانتا ہوں کہ وہ کون سی رات ہے ؟ وہ وہی رات ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے ہمیںقیام کا حکم دیا۔ وہ وہ رات ہے جس کی صبح کو ستائیس تاریخ ہوتی ہے، اور اس کی نشانی یہ ہے کہ اس کی صبح کو سورج نکلتا ہے تو اس میں شعاع نہیں ہوتی۔ (مسلم)
حکیمانہ ارشاد
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ فرماتے ہیں:سال بھر شب بیداری کریں لیکن رمضان کے عشرہ ٔاخیرہ میں تو ضرور ہی بیدار رہنا اور عبادت کرنا چاہئے، کیوںکہ ان راتوں میں شب ِ قدر کا ہونا اغلب ہے، اور اگر کوئی شخص نہایت ہی کمزور اور کم ہمت ہو تو خیر وہ ستائیسویں رات کو ضرور ہی بیدار رہے کہ وہ شب اکثر شب ِ قدر ہوتی ہے، اور میں کہتا ہوں کہ اگر اتفاق سے وہ رات شب ِ قدر نہ بھی ہوئی تو تم نے بہ گمانِ شب ِ قدر اس میں عبادت انجام دی تو ان شاءاللہ تعالیٰ تم کو شب ِ قدر ہی کا ثواب عطا ہوگا۔ اور یہ کوئی گھڑی ہوئی بات نہیں ہے، حدیث میںاس کی اصل ہے۔ (الرفیق فی سواء الطریق)
یہ بھی پڑھئے: ہزار مہینوں سے بہتر رات حاصل ہوجائے تو صاحبِ قدر بن جائیں
حضرت عمر بن خطابؓروایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا: اعمال کا مدار نیتوں پر ہے۔(بخاری) اور حضرت ابوہریرہؓسے روایت ہے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: روزہ اس دن ہے جب تم سب روزہ رکھو، اور عیدالفطر اس دن ہے جب تم سب افطار کرو، اور عیدالاضحی اس دن ہے جس دن تم سب قربانی کرو۔ (ترمذی)
مذکوہ بالا دونوں حدیثوں کا حوالہ دے کر حضرت تھانویؒفرماتے ہیں:اس کے معنی یہ ہیں کہ اگر ایک شخص نے نہایت کوشش سے رمضان کے چاند کی تحقیق کی اور اس تحقیق کی بنا پر روزے رکھنے شروع کر دیے، پھر ختم ِ رمضان پر عید کے چاند کی اسی طرح چھان بین کی اور اس کی بنا پر عید کر لی، اسی طرح عیدالاضحی میں بھی کیا اور چند دنوں کے بعد معلوم ہوا کہ تینوں خلافِ واقع تھیں تواس صورت میں دل شکستہ نہ ہونا چاہئے بلکہ جس دن روزہ رکھا وہی دن عنداللہ بہ اعتبارِ قبول روزے کا تھا، اور جس دن عید کی وہی دن عید کا تھا، یعنی روزہ اور عید دونوں مقبول ہیں، پس اسی طرح میں کہتا ہوں کہ اگر شب ِ قدر کی نیت سے عبادت ہوئی ہے اور اتفاق سے وہ شبِ قدر نہ ہوئی تھی تو ثواب شبِ قدر کا مل جائےگا۔